BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 June, 2007, 15:48 GMT 20:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ افراد: سماعت جاری رہے گی

مبینہ طور پر لاپتہ ایک شخص
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے واحد کمبر کے گھروالوں کا کہنا ہے کہ وہ ڈھائی ماہ سے لاپتہ ہیں
لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ عدالت اس وقت تک لاپتہ افراد کا مقدمہ ختم نہیں کرے گی جب تک تمام لاپتہ افراد کا پتہ نہیں چلا لیا جاتا۔

جسٹس جاوید اقبال نے دو سال سے لاپتہ نوجوان فیصل فراز کی ماں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ان کا بیٹا ہر صورت بازیاب کرائے گی۔

سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ تین سال سے لاپتہ حافظ عبد الباسط کو اگلی پیشی پر عدالت میں پیش کیا جائے۔

فیصل آباد کے پولیس اہلکاروں نےعدالت کو بتایا کہ انہوں نےحافظ عبد الباسط کو جنوری دو ہزار چار میں اپنے اعلی افسران کے کہنے پر پنڈی بھٹیاں کے مقام پر ملٹری اٹیلینجس کے ایک کپتان عامر کے حوالے کیا تھا اور اس سے حوالگی کی باقاعدہ رسید بھی حاصل کی تھی۔ پولیس نے مذکورہ رسید عدالت میں پیش بھی کی۔

حافظ عبد الباسط کے ماموں نےعدالت کو بتایا کہ وہ پچھلے تین سالوں میں ایک دفعہ اپنے بھانجے سے مل چکے ہیں جبکہ ایک دفعہ ان کی ٹیلی فون پر بات کرائی گئی۔

عدالت میں موجود فوج کے نمائندے کرنل جاوید اقبال لودھی نے عبد الباسط کے بارے میں لاعملی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوج میں عامر نامی کئی کیپٹن ہوں گے لہذا وہ اس طرح پتہ نہیں لگا سکتے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو ہرصورت بتانا ہوگا کہ حافظ عبدالباسط کہاں ہیں۔

حکومتی وکیل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ مزید چار لاپتہ افراد کا پتہ چلا لیا گیا ہے اور اس طرح سپریم کورٹ نے جب سے لاپتہ افراد سے متعلق مقدمہ شروع کیا ہے اس وقت سے اب تک 102 لاپتہ افراد کو ڈھونڈا جا چکا ہے۔

طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ جن لاپتہ افراد کو بازیاب کر لیا گیا ہے ان میں شبیر احمد، محمد جان مسعود، افضل دلبر، اور شبیر ترارو شامل ہیں۔

ایک اور لاپتہ فرد مسعود جنجوعہ کی بیوی آمنہ مسعود نے عدالت میں ایک بیان حلفی جمع کرایا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کو خفیہ اداروں کی تحویل سے رہا ہونے والے لوگوں نے بتایا ہے کہ ان کے شوہر آئی ایس آئی کے قبضے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خفیہ ادارے راولپنڈی میں واقع 501 ورکشاپ میں بھی لوگوں کو غیر قانونی حراست میں رکھتے ہیں۔

لاپتہ افرادگمشدہ افراد واپس
سرحد میں آٹھ افراد رہا ہوئے: انسانی کمیشن
’آزاد‘ کشمیر میں لاپتہ۔۔۔لاپتہ ’آزاد‘ کشمیری
’چار ماہ سے ابو کی شکل نہیں دیکھی‘
لاپتہ افراد کے لواحقین
لواحقین کی جدوجہد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد