لاپتہ افراد: سماعت جاری رہے گی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ عدالت اس وقت تک لاپتہ افراد کا مقدمہ ختم نہیں کرے گی جب تک تمام لاپتہ افراد کا پتہ نہیں چلا لیا جاتا۔ جسٹس جاوید اقبال نے دو سال سے لاپتہ نوجوان فیصل فراز کی ماں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ان کا بیٹا ہر صورت بازیاب کرائے گی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ تین سال سے لاپتہ حافظ عبد الباسط کو اگلی پیشی پر عدالت میں پیش کیا جائے۔ فیصل آباد کے پولیس اہلکاروں نےعدالت کو بتایا کہ انہوں نےحافظ عبد الباسط کو جنوری دو ہزار چار میں اپنے اعلی افسران کے کہنے پر پنڈی بھٹیاں کے مقام پر ملٹری اٹیلینجس کے ایک کپتان عامر کے حوالے کیا تھا اور اس سے حوالگی کی باقاعدہ رسید بھی حاصل کی تھی۔ پولیس نے مذکورہ رسید عدالت میں پیش بھی کی۔ حافظ عبد الباسط کے ماموں نےعدالت کو بتایا کہ وہ پچھلے تین سالوں میں ایک دفعہ اپنے بھانجے سے مل چکے ہیں جبکہ ایک دفعہ ان کی ٹیلی فون پر بات کرائی گئی۔ عدالت میں موجود فوج کے نمائندے کرنل جاوید اقبال لودھی نے عبد الباسط کے بارے میں لاعملی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فوج میں عامر نامی کئی کیپٹن ہوں گے لہذا وہ اس طرح پتہ نہیں لگا سکتے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ متعلقہ اداروں کو ہرصورت بتانا ہوگا کہ حافظ عبدالباسط کہاں ہیں۔ حکومتی وکیل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ مزید چار لاپتہ افراد کا پتہ چلا لیا گیا ہے اور اس طرح سپریم کورٹ نے جب سے لاپتہ افراد سے متعلق مقدمہ شروع کیا ہے اس وقت سے اب تک 102 لاپتہ افراد کو ڈھونڈا جا چکا ہے۔ طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ جن لاپتہ افراد کو بازیاب کر لیا گیا ہے ان میں شبیر احمد، محمد جان مسعود، افضل دلبر، اور شبیر ترارو شامل ہیں۔ ایک اور لاپتہ فرد مسعود جنجوعہ کی بیوی آمنہ مسعود نے عدالت میں ایک بیان حلفی جمع کرایا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کو خفیہ اداروں کی تحویل سے رہا ہونے والے لوگوں نے بتایا ہے کہ ان کے شوہر آئی ایس آئی کے قبضے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ ادارے راولپنڈی میں واقع 501 ورکشاپ میں بھی لوگوں کو غیر قانونی حراست میں رکھتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’حکمرانوں کی بوٹیاں نوچ لوں گی‘21 May, 2007 | پاکستان گمشدگیاں جاری ہیں: ایچ آر سی پی07 April, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کو تلاش کر رہے ہیں: شیرپاؤ06 April, 2007 | پاکستان ’لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ‘06 February, 2007 | پاکستان پشاور: گمشدگیوں پرعدالتی نوٹس 13 December, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||