گمشدگیاں جاری ہیں: ایچ آر سی پی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں انسانی حقوق کمشن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے باوجود ملک بھر میں لوگوں کی پراسرار گمشدگی کا سلسلہ جاری ہے۔ لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کمشن کی چیئر پرسن عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ انہوں نےتین ماہ قبل ایک سو اڑتالیس گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی تھی لیکن اس بعد سے اب تک مزید بیس افراد لاپتہ ہوگئے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کی چیئر پرسن نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ اگر لاپتہ افراد کے نام اور ایڈریس بھی نہیں جانتے تو انہیں مستعفی ہوجانا چاہیے۔
عاصمہ جہانگیر نے پریس کانفرنس میں جواباً لاپتہ ہونے والے ایک سو اڑتالیس افراد کے نام پتے کی ایک فہرست بھی اخبارنویسوں کو فراہم کی۔انہوں نے کہا کہ یہی فہرست حکومت کو دی گئی ہے جس میں صاف درج ہے کہ کون شخص کس مقام سے لاپتہ ہوا ہے۔انسانی حقوق کمشن کی سرابراہ نے لاپتہ افراد کے بارے میں وزیر داخلہ کی لاعلمی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو کسی بات کا علم نہیں ہوپاتا اور وہ یہ بھی معلوم نہیں کر سکتی کہ لاپتہ افراد کو کون اٹھا کر لے جارہا ہے تو پھر کم ازکم ان افراد کے بیانات پر تو کارروائی ہوسکتی ہے جنہیں رہا کر دیاگیا اور وہ خود بتاتے ہیں کہ انہیں کن کن خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے کہاں کہاں بند رکھا تھا۔ عاصمہ جہانگیر نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کے لیے ایک قومی کمشن تشکیل دیا جائے اور یہ کمشن ان تمام افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کرے جو خفیہ ایجنیسوں کی حراست سے رہائی پاتے ہیں۔ پریس کانفرنس میں انسانی حقوق کمشن کے دیگر عہدیدار یعنی اقبال حیدر،آئی اے رحمان،ڈاکٹر مبشر حسن بھی موجود تھے جبکہ سندھ بلوچستان اور سرحد سے آئے عہدیداروں نے اپنے اپنے صوبوں میں لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔
انسانی حقوق کمشن بلوچستان کے وائس چیئرپرسن ظہور احمد شاہوانی نے کہا کہ بلوچستان سے ایک سو دو افراد کو خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اٹھایا ہے اور ان میں سے ایک بھی ’مذہبی یا جہادی‘ نہیں ہے بلکہ تمام قوم پرست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر کوغلط قرار دیا کہ پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے افراد مذہبی ہیں اور وہ اپنی مرضی سے جہاد کرنے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان دس اپریل کو انسانی حقوق کمشن کی اس آئینی درخواست کی سماعت کرنے والی ہے جس میں انہوں نے ایک سو اڑتالیس لاپتہ افراد کی بازیابی کی اپیل کی ہے۔ انسانی حقوق کمشن کی سربراہ نے کہا کہ جن افراد کی بازیابی کے لیےانہوں نے درخواست دائر کر رکھی ہے ان میں سے ایک سو چار بلوچستان، بائیس صوبہ سندھ اور دس دس پنجاب اور سرحد سے تعلق رکھتے ہیں۔ انسانی حقوق کمشن کے سیکرٹری جنرل اقبال حیدر نے کہا کہ حکومتی | اسی بارے میں لاپتہ افراد کو تلاش کر رہے ہیں: شیرپاؤ06 April, 2007 | پاکستان لاپتہ، اغواء اور پُراسرار گمشدگی؟05 April, 2007 | پاکستان لاپتہ رہنما کے لیے علامتی بھوک ہڑتال27 March, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد، ورثاء کو معاوضہ دیا جائے08 March, 2007 | پاکستان پچاس روز سے لاپتہ صحافی کے لیےمظاہرہ19 February, 2007 | پاکستان ’لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ‘06 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||