BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 April, 2007, 17:42 GMT 22:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گمشدگیاں جاری ہیں: ایچ آر سی پی

گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے مہم(فائل فوٹو)
جن افراد کی بازیابی کے لیےانہوں نے درخواست دائر کر رکھی ہے ان میں سے ایک سو چار بلوچستان، بائیس صوبہ سندھ اور دس دس پنجاب اور سرحد سے تعلق رکھتے ہیں۔ انسانی حقوق کمشن
پاکستان میں انسانی حقوق کمشن نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے باوجود ملک بھر میں لوگوں کی پراسرار گمشدگی کا سلسلہ جاری ہے۔

لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کمشن کی چیئر پرسن عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ انہوں نےتین ماہ قبل ایک سو اڑتالیس گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے درخواست دائر کی تھی لیکن اس بعد سے اب تک مزید بیس افراد لاپتہ ہوگئے ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن کی چیئر پرسن نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ اگر لاپتہ افراد کے نام اور ایڈریس بھی نہیں جانتے تو انہیں مستعفی ہوجانا چاہیے۔

حکومت سے سوال
 حکومت اگر مخلص ہے تو پھر اقوام متحدہ کے اس کنونشن پر دستخط کیوں نہیں کرتی جو پراسرار طور پر لاپتہ ہوجانے والے افراد کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
آئی اے رحمٰان
وزیر داخلہ نے چند روز قبل یہ بیان دیا تھا کہ انسانی حقوق کمیشن کی فہرست میں صرف چھ فیصد افراد کے نام اور پتے مکمل ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے کمیشن سے رابطہ کیا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے مکمل کوائف فراہم کرے۔

عاصمہ جہانگیر نے پریس کانفرنس میں جواباً لاپتہ ہونے والے ایک سو اڑتالیس افراد کے نام پتے کی ایک فہرست بھی اخبارنویسوں کو فراہم کی۔انہوں نے کہا کہ یہی فہرست حکومت کو دی گئی ہے جس میں صاف درج ہے کہ کون شخص کس مقام سے لاپتہ ہوا ہے۔انسانی حقوق کمشن کی سرابراہ نے لاپتہ افراد کے بارے میں وزیر داخلہ کی لاعلمی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو کسی بات کا علم نہیں ہوپاتا اور وہ یہ بھی معلوم نہیں کر سکتی کہ لاپتہ افراد کو کون اٹھا کر لے جارہا ہے تو پھر کم ازکم ان افراد کے بیانات پر تو کارروائی ہوسکتی ہے جنہیں رہا کر دیاگیا اور وہ خود بتاتے ہیں کہ انہیں کن کن خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے کہاں کہاں بند رکھا تھا۔

عاصمہ جہانگیر نے مطالبہ کیا کہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کے لیے ایک قومی کمشن تشکیل دیا جائے اور یہ کمشن ان تمام افراد کے بیانات بھی ریکارڈ کرے جو خفیہ ایجنیسوں کی حراست سے رہائی پاتے ہیں۔

پریس کانفرنس میں انسانی حقوق کمشن کے دیگر عہدیدار یعنی اقبال حیدر،آئی اے رحمان،ڈاکٹر مبشر حسن بھی موجود تھے جبکہ سندھ بلوچستان اور سرحد سے آئے عہدیداروں نے اپنے اپنے صوبوں میں لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔

بلوچستان سے لاپتہ
 بلوچستان سے ایک سو دو افراد کو خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اٹھایا ہے اور ان میں سے ایک بھی ’مذہبی یا جہادی‘ نہیں ہے بلکہ تمام قوم پرست ہیں۔ یہ تاثر غلط ہے کہ پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے افراد مذہبی ہیں اور وہ اپنی مرضی سے جہاد کرنے گئے ہیں۔
ظہور احمد شاہوانی
انسانی حقوق کمشن کے عہدیدار آئی اے رحمان نے کہا کہ حکومت اگر مخلص ہے تو پھر اقوام متحدہ کے اس کنونشن پر دستخط کیوں نہیں کرتی جو پراسرار طور پر لاپتہ ہوجانے والے افراد کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کمشن بلوچستان کے وائس چیئرپرسن ظہور احمد شاہوانی نے کہا کہ بلوچستان سے ایک سو دو افراد کو خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اٹھایا ہے اور ان میں سے ایک بھی ’مذہبی یا جہادی‘ نہیں ہے بلکہ تمام قوم پرست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر کوغلط قرار دیا کہ پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے افراد مذہبی ہیں اور وہ اپنی مرضی سے جہاد کرنے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان دس اپریل کو انسانی حقوق کمشن کی اس آئینی درخواست کی سماعت کرنے والی ہے جس میں انہوں نے ایک سو اڑتالیس لاپتہ افراد کی بازیابی کی اپیل کی ہے۔

انسانی حقوق کمشن کی سربراہ نے کہا کہ جن افراد کی بازیابی کے لیےانہوں نے درخواست دائر کر رکھی ہے ان میں سے ایک سو چار بلوچستان، بائیس صوبہ سندھ اور دس دس پنجاب اور سرحد سے تعلق رکھتے ہیں۔

انسانی حقوق کمشن کے سیکرٹری جنرل اقبال حیدر نے کہا کہ حکومتی
عہدیدار لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی بجائے ایسے بیانات جاری کر رہے ہیں جوغمزدہ خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد