BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 March, 2007, 14:04 GMT 19:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ رہنما کے لیے علامتی بھوک ہڑتال

 لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مظاہرے
پاکستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے مظاہرے ہوتے رہے ہیں(فائل فوٹو)
بلوچستان کے ضلع تربت میں خواتین اور بچوں نے بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ غلام محمد بلوچ کی رہائی کے لیے علامتی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔

تربت کے مرکزی چوک پر پانچ خواتین اور بچوں نے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا ہے۔

ان خواتین کا کہنا ہے کہ بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ چار ماہ سے لاپتہ ہیں اور اب تک ان کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجود خاتون فاطمہ نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غلام محمد بلوچ نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔

انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ پاکستانی حکمرانوں پر تمام لاپتہ افراد کو منظر عام پر لانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

دریں اثناء بلوچ مری قبیلے کے لوگوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ ستائیس مارچ انیس سو سینتالیس کو بلوچستان کا پاکستان سے الحاق کیا گیا تھا لیکن اس وقت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور بلوچوں کو پنجابی حکمرانوں کا غلام بنا دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد