لاپتہ رہنما کے لیے علامتی بھوک ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ضلع تربت میں خواتین اور بچوں نے بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ غلام محمد بلوچ کی رہائی کے لیے علامتی بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔ تربت کے مرکزی چوک پر پانچ خواتین اور بچوں نے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا ہے۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ بلوچستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ چار ماہ سے لاپتہ ہیں اور اب تک ان کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجود خاتون فاطمہ نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غلام محمد بلوچ نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ پاکستانی حکمرانوں پر تمام لاپتہ افراد کو منظر عام پر لانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ دریں اثناء بلوچ مری قبیلے کے لوگوں نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ ستائیس مارچ انیس سو سینتالیس کو بلوچستان کا پاکستان سے الحاق کیا گیا تھا لیکن اس وقت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور بلوچوں کو پنجابی حکمرانوں کا غلام بنا دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ’خفیہ اداروں کو جواب دینا ہوگا‘26 March, 2007 | پاکستان سندھی رہنما پولیس تحویل میں17 March, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد، ورثاء کو معاوضہ دیا جائے08 March, 2007 | پاکستان ’اقوامِ متحدہ بازیابی میں مدد دے‘23 February, 2007 | پاکستان دو لاپتہ افراد کی حراست کا اعتراف13 February, 2007 | پاکستان ’چھ مزید لاپتہ افراد کی نشاندہی‘14 February, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد میں سے ایک اور ’رہا‘ 16 January, 2007 | پاکستان ’باقیوں کو بھی جلد ڈھونڈیں‘08 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||