’بھارتی خاندانوں کی بے مثال مدد کی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے لاپتہ بھارتی فوجیوں کے خاندانوں کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جتنی مدد کرنی تھی کر دی اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بات وزارتِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے پیر کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ ایک سوال کے جواب میں کہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے بھارتی فوجیوں کے رشتہ دار فوجی قید خانوں تک رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ان افراد کو جو سہولت دی ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے شکایت کی کہ پاکستان نے اسی قسم کا ردعمل بھارتی حکومت کی جانب سے نہیں دیکھا۔ ان کا موقف تھا کہ ان کے پانچ سو قیدی بھارتی جیلوں میں ہیں جن میں سے کئی نے چھوٹے موٹے جرائم میں اپنی سزائیں بھی پوری کر لی ہیں لیکن ان سے ملاقات کے لیے سفارتی عملے کو بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا:’جیسا کہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں یہ غیرمعمولی رعایت تھی۔ میں نہیں سمجھتی کہ ہم نے اسی قسم کا ردعمل دوسری جانب سے دیکھا ہو۔ ہم نے معمول سے ہٹ کر ان خاندانوں کی مدد کی ہے‘۔ بھارتی متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ چون بھارتی فوجی پاکستان میں لاپتہ ہیں جبکہ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں کوئی بھی بھارتی جنگی قیدی نہیں ہے۔ لاپتہ بھارتی فوجیوں کے رشتہ داروں پر مشتمل ایک درجن افراد کا ایک وفد پاکستان میں چھ جیلوں کا دورہ کرچکا ہے جبکہ مزید چار جیلیں ابھی باقی ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد اپنے بچھڑوں کو تلاش کرنا ہے۔ یہ لوگ اسلام آباد میں منگل کے روز ایک اخباری کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔ انہیں اس دورے کی اجازت جنرل پرویز مشرف نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی تھی۔
وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی وزارت خارجہ کے انڈر سیکٹری رچررڈ باؤچر منگل سے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جوکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے جاری عمل کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے اس خبر کی تردید کی کہ امریکی اہلکار صدر جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان مصالحت کے لیے خصوصی طور پر آ رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی اہلکار کے دورے کے دوران سیاستدانوں سے ملاقاتوں کے بارے میں بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عموماً ایسی ملاقاتوں کا اہتمام اس ملک کا سفارت خانہ کرتا ہے۔ ترجمان نے چین کی جانب سے قبائلی علاقے وزیرستان میں بیس چینی شدت پسندوں کی فہرست پاکستان کے حوالے کرنے کی خبر کی بھی تردید کی۔ |
اسی بارے میں لاپتہ بھارتی جنگی قیدیوں کی تلاش02 June, 2007 | پاکستان ’فوج لاپتہ فوجیوں کو تلاش کرے‘13 March, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||