BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 June, 2007, 13:29 GMT 18:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بھارتی خاندانوں کی بے مثال مدد کی‘

بھارت میں پاکستانی قیدیوں سے ملاقات کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے: ترجمان
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے لاپتہ بھارتی فوجیوں کے خاندانوں کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جتنی مدد کرنی تھی کر دی اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بات وزارتِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے پیر کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہی۔

ایک سوال کے جواب میں کہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے بھارتی فوجیوں کے رشتہ دار فوجی قید خانوں تک رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ان افراد کو جو سہولت دی ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

انہوں نے شکایت کی کہ پاکستان نے اسی قسم کا ردعمل بھارتی حکومت کی جانب سے نہیں دیکھا۔ ان کا موقف تھا کہ ان کے پانچ سو قیدی بھارتی جیلوں میں ہیں جن میں سے کئی نے چھوٹے موٹے جرائم میں اپنی سزائیں بھی پوری کر لی ہیں لیکن ان سے ملاقات کے لیے سفارتی عملے کو بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

بھارتی خاندانوں کا کہنا ہے کہ چون بھارتی فوجی پاکستان میں لاپتہ ہیں

ان کا کہنا تھا:’جیسا کہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں یہ غیرمعمولی رعایت تھی۔ میں نہیں سمجھتی کہ ہم نے اسی قسم کا ردعمل دوسری جانب سے دیکھا ہو۔ ہم نے معمول سے ہٹ کر ان خاندانوں کی مدد کی ہے‘۔

بھارتی متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ چون بھارتی فوجی پاکستان میں لاپتہ ہیں جبکہ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ ملک میں کوئی بھی بھارتی جنگی قیدی نہیں ہے۔

لاپتہ بھارتی فوجیوں کے رشتہ داروں پر مشتمل ایک درجن افراد کا ایک وفد پاکستان میں چھ جیلوں کا دورہ کرچکا ہے جبکہ مزید چار جیلیں ابھی باقی ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد اپنے بچھڑوں کو تلاش کرنا ہے۔ یہ لوگ اسلام آباد میں منگل کے روز ایک اخباری کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے۔

انہیں اس دورے کی اجازت جنرل پرویز مشرف نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی تھی۔

News image
 لاپتہ بھارتی فوجیوں کے رشتہ داروں پر مشتمل وفد پاکستان میں چھ جیلوں کا دورہ کر چکا ہے

وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی وزارت خارجہ کے انڈر سیکٹری رچررڈ باؤچر منگل سے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جوکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے جاری عمل کا ایک حصہ ہے۔

انہوں نے اس خبر کی تردید کی کہ امریکی اہلکار صدر جنرل پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان مصالحت کے لیے خصوصی طور پر آ رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی اہلکار کے دورے کے دوران سیاستدانوں سے ملاقاتوں کے بارے میں بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عموماً ایسی ملاقاتوں کا اہتمام اس ملک کا سفارت خانہ کرتا ہے۔

ترجمان نے چین کی جانب سے قبائلی علاقے وزیرستان میں بیس چینی شدت پسندوں کی فہرست پاکستان کے حوالے کرنے کی خبر کی بھی تردید کی۔

بھارتی فوجیلاپتہ بھارتی فوجی
جنگ اکہتر کے لاپتہ فوجی یا جنگی قیدی
دمتی تانبےایک آس باقی ہے
لاپتہ بھارتی جنگی قیدی، اہلِ خانہ کی تلاش جاری
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد