BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 June, 2007, 20:57 GMT 01:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دل میں ایک امید تو رہتی ہی ہے‘

دمتی تانبے
شوہر کے بغیر زندگی گزارنا ظاہر ہے آسان نہیں تھا: دمتی تانبے
انیس سو اکہتر کی جنگ میں لاپتہ ہونے والے 54 ہندوستانی فوجیوں کے اہلِ خانہ نے منگل کو کراچی کے دورے کے موقع پر سینٹرل جیل کا ریکارڈ چیک کیا اور قیدیوں سے ملاقات کی ہے۔

ان بھارتی فوجیوں کی اکثریت پاکستان کی مغربی سرحد پر جنگ کے دوران لاپتہ ہوگئی تھی۔

سنہ اکہتر کی پاک بھارت جنگ کے خاتمے کے سات سال بعد تک ان لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ کتنے بھارتی فوجی پاکستان میں قید یا لاپتہ ہیں اور یہ بات انیس سو اٹھہتر میں بھارتی پارلیمینٹ میں چالیس افراد کی تفصیلات بتانے کے بعد عام ہوئی۔

اس وفد میں شامل مس تانبے اور جی ایس گل سمیت چھ افراد انیس سو تراسی میں بھی پاکستان آئے تھے مگر انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی اور اس مرتبہ وہ کوئی خوش خبری ساتھ لیکر جانے کے خواہش مند ہیں۔

لاپتہ افراد کے خاندانوں کی مشترکہ جدوجہد کی ابتداء ڈاکٹر آر ایس سوری نے کی جن کے بیٹے اشوک کمار لاپتہ تھے اور ان کے پاس اشوک کی ایک چٹھی پہنچی تھی جس میں تحریر تھا کہ وہ بیس بھارتی فوجی افسران کے ساتھ کراچی میں قید ہیں۔

اشوک کمار کے خط کا عکس

لاپتہ کیپٹن ایچ ایس گل کے بھائی جی ایس گل کے مطابق کئی لوگوں کے گھر والے تو یہ سوچ کر خاموش ہوگئے تھے کہ شاید وہ نہیں رہے مگر پارلیمنٹ میں یہ لسٹ پیش ہونے کے بعد ایک امید بندھی۔ انہوں نے بتایا کہ اشوک کے والد ڈاکٹر آر ایس سوری نے محکمۂ دفاع جا کر تمام لاپتہ لوگوں کے نام اور پتے جمع کیے اور خطوط لکھ کر سب کو اکٹھا کیا۔

ڈاکٹر آر ایس سوری تو اب اس دنیا میں نہیں رہے مگر ان کے خواب کی تعبیر کے لیے ان کے چھوٹے بیٹے ڈاکٹر بھارت سوری سرگرم عمل ہیں۔ کوٹ لکھپت اور کراچی سنٹرل جیل کے دورے کے بارے میں بھارت سوری کا کہنا ہے کہ جیل کے ریکارڈ میں ایسا کوئی نام نہیں جو ہندوستانی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ان چار پانچ سالوں میں کوئی تو ہندوستانی گرفتار ہوا ہوگا، کوئی تو قیدی بنا ہو مگر کسی بھی ریکارڈ میں ایسا کوئی نام نہیں آیا ہے۔انہوں نے شک ظاہر کیا کہ ان کے رشتہ دار فوجی تھے اور اس لیے ممکن ہے کہ انہیں کسی مخصوص جگہ پر رکھا گیا ہوگا۔

ہر کوئی اس معاملے کی تہہ میں پہنچنا چاہتا ہے:سمی وڑائچ

ڈاکٹر بھارت سوری کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اور کوئی راستہ بھی نہیں بچا ہے وہ اندر سے ٹوٹ چکے ہیں اور اب ایک ہی راستہ ہے کہ کوئی رحمدلی دکھا دے۔

دمتی تانبے کی شادی کو ایک سال ہوا تھا جب ان کے شوہر جنگ میں شریک ہونے چلے گئے۔ دمتی کی کوئی اولاد بھی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’شوہر کے بغیر زندگی گزارنا ظاہر ہے آسان نہیں ہے، کبھی نوکری کرنے کا نہیں سوچا تھا مگر کرنی پڑی‘۔ ان کا کہنا تھا اس دنیا میں کچھ نہیں رکتا ہے مگر دل میں ایک پریشانی ، ایک امید اور گھبراہٹ تو رہتی ہے۔

لاپتہ کیپٹن ایچ ایس گل کے بھائی جی ایس گل کا کہنا ہے کہ یہ انسانی مسئلہ ہے اس میں کوئی سیاست نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہو سکتا ہے جو لوگ پکڑے گئے ہوں انہوں نے نام ہی غلط بتا دیا ہو یا اپنی شناخت چھپا لی ہو، ہو سکتا ہے سختیوں کی وجہ سے ذہنی توازن بگڑ چکا ہو‘۔

سمی وڑائچ ابھی ڈھائی سال کی تھیں جو ان کے والد میجر ایس پی وڑائچ گرفتار ہوئے۔ ان کی زندگی انتظار میں گزری ہے اور ان کا کہنا ہے انہیں خوشی کے موقع پر بھی دکھ ستاتا رہا ہے۔ سمی کا کہنا ہے کہ’ہمیشہ یہ امید رہی کہ کبھی نہ کبھی تو پتہ لگےگا کہ وہ کہاں ہیں، پینتیس سال بیت گئے ہیں مگر کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو یہ تلاش چھوڑنے کو تیار ہو۔ ہر کوئی اس معاملے کی تہہ میں پہنچنا چاہتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد