BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 June, 2007, 02:43 GMT 07:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ بھارتی جنگی قیدیوں کی تلاش

آسا
آسا کو بھی اکہتر کی جنگ کے دوران لاپتہ ہوجانے والے فوجی رشتہ دار کی تلاش ہے
سن اکہتر کی پاک بھارت جنگ میں لاپتہ ہونے والی بھارتی فوجیوں کی تلاش میں ان کے خاندانوں کے چودہ افراد پاکستان کے دورے پر لاہور پہنچ گئے ہیں۔ وفد میں سات خواتین بھی شامل ہیں۔

گربیر سنگھ گِل کی سربراہی میں جمعہ کے روز پاکستان آئے ہوئے وفد میں جوان بوڑھے، مرد اور عورتیں شامل ہیں۔ یہ لوگ پندرہ روز تک پاکستان کی مختلف جیلوں کا دورہ کریں گے۔

سنگھ گِل نے بتایا ایسے جنگی قیدیوں کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے جن کو ان کے خاندان والے چھتیس برسوں سے تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن ویزہ صرف چودہ لاپتہ افراد کے ورثاء کو ملا ہے اس لیے دوسرے لواحقین نہیں آ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی قیدی مختلف اوقات پر اپنے گھر والوں کو پیغامات بھی بھیجتے رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کے ورثاء کو یہ یقین ہے کہ ان کے پیارے پاکستانی جیلوں میں ہیں۔

ریشماں
ریشماں: میں یہ امید لے کر پاکستان آئی ہوں کی یہاں سے اپنے بچھڑے ہوئے رام کو لے لر جاؤں گی۔
پونا سے اپنے شوہر فلائٹ لیفٹیننٹ رام اڈوانی کی تلاش میں آئی ہوئی ریشماں اڈوانی نے بتایا کہ ان کی شادی کو ابھی چھ ماہ ہی ہوئے تھے کہ پاکستان اور بھارت میں جنگ چھڑ گئی اور وہ پکڑے گئے۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنے شوہر کے پکڑے جانے کی خبر اس وقت ریڈیو پاکستان پر سنی تھی اور بعد میں بھارتی اخبارات اور ٹی وی چینلز پر بھی ان کے متعلق خبریں آتی رہتی تھیں۔

حیدرآباد سندھ میں پیدا ہو کر تقسیم کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ بھارت ہجرت کر جانے والی ریشماں کا کہنا تھا کہ رام اکثر کہا کرتے تھے کہ جب بھی جنگ کے دوران پکڑا گیا تو اپنا نام شانتی لعل بتاؤں گا اور میں نے ریڈیو پر بھی یہ ہی سنا تھا کہ فلائٹ لیفٹیننٹ شانتی لعل کو پاکستانی فوج نے پکڑ لیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رام کے پکڑے جانے کے کوئی پانچ ماہ بعد ان کو ایک بیٹی ہوئی جس نے ابھی تک اپنے باپ کی شکل تک نہیں دیکھی۔ ’میں یہ امید لے کر پاکستان آئی ہوں کی یہاں سے اپنے بچھڑے ہوئے رام کو لے لر جاؤں گی۔‘

بھرت کمار سوری اپنے بھائی اے کے سوری کی تلاش میں آئے ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ ان کے والد سن تراسی میں بھائی کی تلاش میں پاکستان آئے تھے لیکن یہاں سے مایوس ہو کر گئے۔

کمار سوری نے بتایا کہ سن دوہزار میں انہیں پتہ چلا کہ ان کا بھائی پاکستان کی ایک جیل میں ہے مگر مشکل یہ ہے جب ان سے رابطے کی کوشش کی گئی تو پتہ چلا کہ ان کی جیل تبدیل ہوگئی ہے۔

بھارت سے آئے ہوئے وفد کے ارکان سنیچر کے روز کوٹ لکھپت جیل لاہور میں اپنے پیاروں کو تلاش کرنے کے بعد تین جون کو کراچی، سکھر، ملتان، ساہیوال، فیصل آباد، راولپنڈی، صوابی اور درگئی کے جیلوں میں جا کر اپنوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے۔

بھارت سن اکہتر کی جنگ میں اپنے فوجیوں کے لاپتہ ہونے کے بعد مسلسل پاکستان پر یہ الزامات عائد کرتا رہا ہے کہ پاکستان نے ان کو جنگی قیدی بنا کر اپنے ملک کے جیلوں میں بند کر رکھا ہے۔ جبکہ پاکستان ہمیشہ ایسے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف کے بھارتی دوروں کے دوران بھی لاپتہ افراد کے خاندانوں کے افراد نے شدید احتجاج کیا تھا جس کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے قیدیوں کی پاکستانی جیلوں میں تلاش کروائی تھی اور بھارت کو بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں کوئی بھی بھارتی جنگی قیدی نہیں ہے۔

تاہم ایسے مبینہ جنگی قیدیوں کے خاندانوں نے پاکستانی حکومت کی اس وضاحت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد جنرل مشرف نے ان کو یہ پیشکش کی تھی کہ خاندان کے افراد خود پاکستان آکر اپنے پیاروں کو تلاش کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
قیدیوں کا تبادلہ شروع
12 September, 2005 | پاکستان
سربجیت : سزائے موت کا حکم
27 September, 2005 | پاکستان
نہ رہی جیل، نہ رہے قیدی
18 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد