بھارت تعاون نہیں کر رہا: دفترِ خارجہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ پانچ سو تیرہ پاکستانی ہندوستان کی مختلف جیلوں میں قید ہیں اور بھارت ان کی فوری رہائی میں پاکستان کی توقعات کے مطابق تعاون نہیں کر رہا ہے۔ پیر کو ہفتے وار بریفنگ میں انہوں بھارتی پارلیمان میں گزشتہ دنوں پاکستان سے رہائی پاکر ہندوستان پہنچنے والے قیدیوں کی حالت زار کے تذکرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ان کے مطابق جو پاکستانی بھارت کی جیلوں سے رہا ہوئے ہیں ان میں سےکئی افراد کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے۔ ترجمان نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان نے قیدیوں کی رہائی کو ایک انسانی مسئلہ سمجھا ہے لیکن بدقسمتی سے بھارت اس طرح تعاون نہیں کر رہا جس کی پاکستان کو توقع ہے۔ تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ جنوری میں وزارء خارجہ کی ملاقات میں پاکستان کی تجویز پر دونوں ممالک نے اتفاق کیا تھا کہ ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائےگی جو قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کو روکنے اور سزائیں پوری کرنے والوں کی فوری رہائی کے لیے سفارشات پیش کرےگی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے چار نام دے دیے ہیں لیکن بھارت کی جانب سے اب تک نامزدگی موصول نہیں ہوئی ہے۔ تسنیم اسلم نے امید ظاہر کی کہ اب اس میں مزید تاخیر نہیں ہوگی اور یہ کمیٹی جلد اپنا کام شروع کرے گی۔
دفتر خارجہ کے مطابق فی الوقت پانچ سو تیرہ پاکستانی قیدی بھارت کی جیلوں میں ہیں جن میں پچاس ماہی گیر ہیں۔ گزشتہ چار برسوں میں پاکستان نے دو ہزار چھ سو سینتیس بھارتی قیدی رہا کیے جب کہ اس عرصہ میں انڈیا نے سات سو تیرہ پاکستانی قیدی رہا کیے ہیں۔ پاکستان کے مطابق بھارت سے بارہ ستمبر سن دو ہزار پانچ اور گزشتہ دسمبر میں رہائی پانے والے ایک سو چھہتر پاکستانی قیدیوں میں سے اڑتالیس افراد اپنا دماغی توازن کھوچکے تھے جبکہ پاکستان سے رہائی پانے والے بھارتی قیدیوں میں سے صرف ایک ایسا تھا جس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پندرہ فروری کو پاکستان نے کوٹ لکھپت جیل میں چوالیس بھارتی قیدیوں سے ملاقات کے لیے ان کے سفارتی عملے کو اجازت دی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ایک سو ساسٹھ قیدیوں سے ملنے کی اجازت مانگی تھی لیکن بھارت نے صرف چھ سے ملنے کی اجازت دی ۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بھارت میں قید دو سو اڑتیس پاکستانی قیدیوں کی وطن واپسی کے لیے انتظام کر رکھا ہے لیکن تاحال ان کی رہائی عمل میں نہیں آئی ہے۔ | اسی بارے میں قیدیوں کا تبادلہ شروع12 September, 2005 | پاکستان بھارت لوٹنے کے لیے 46 قیدی تیار 12 July, 2005 | پاکستان سربجیت کی درخواست واپس29 September, 2005 | پاکستان رؤف کشمیری: دو ملکوں کا قیدی26 June, 2006 | پاکستان پاک بھارت قیدیوں کا تبادلہ30 June, 2006 | پاکستان مزید قیدیوں کا تبادلہ23 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||