BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 March, 2007, 17:23 GMT 22:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت تعاون نہیں کر رہا: دفترِ خارجہ

قیدی
پاکستانی قیدی انڈیا میں رہائی کے بعد اپنے ملک واپس ہورہے ہیں
پاکستان میں دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ پانچ سو تیرہ پاکستانی ہندوستان کی مختلف جیلوں میں قید ہیں اور بھارت ان کی فوری رہائی میں پاکستان کی توقعات کے مطابق تعاون نہیں کر رہا ہے۔

پیر کو ہفتے وار بریفنگ میں انہوں بھارتی پارلیمان میں گزشتہ دنوں پاکستان سے رہائی پاکر ہندوستان پہنچنے والے قیدیوں کی حالت زار کے تذکرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ان کے مطابق جو پاکستانی بھارت کی جیلوں سے رہا ہوئے ہیں ان میں سےکئی افراد کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے۔

ترجمان نے ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان نے قیدیوں کی رہائی کو ایک انسانی مسئلہ سمجھا ہے لیکن بدقسمتی سے بھارت اس طرح تعاون نہیں کر رہا جس کی پاکستان کو توقع ہے۔

تسنیم اسلم کا کہنا تھا کہ جنوری میں وزارء خارجہ کی ملاقات میں پاکستان کی تجویز پر دونوں ممالک نے اتفاق کیا تھا کہ ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جائےگی جو قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کو روکنے اور سزائیں پوری کرنے والوں کی فوری رہائی کے لیے سفارشات پیش کرےگی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے چار نام دے دیے ہیں لیکن بھارت کی جانب سے اب تک نامزدگی موصول نہیں ہوئی ہے۔ تسنیم اسلم نے امید ظاہر کی کہ اب اس میں مزید تاخیر نہیں ہوگی اور یہ کمیٹی جلد اپنا کام شروع کرے گی۔

بھارتی قیدی رہائی کے بعد واگہ بارڈر پار کرتے ہوئے

دفتر خارجہ کے مطابق فی الوقت پانچ سو تیرہ پاکستانی قیدی بھارت کی جیلوں میں ہیں جن میں پچاس ماہی گیر ہیں۔ گزشتہ چار برسوں میں پاکستان نے دو ہزار چھ سو سینتیس بھارتی قیدی رہا کیے جب کہ اس عرصہ میں انڈیا نے سات سو تیرہ پاکستانی قیدی رہا کیے ہیں۔

پاکستان کے مطابق بھارت سے بارہ ستمبر سن دو ہزار پانچ اور گزشتہ دسمبر میں رہائی پانے والے ایک سو چھہتر پاکستانی قیدیوں میں سے اڑتالیس افراد اپنا دماغی توازن کھوچکے تھے جبکہ پاکستان سے رہائی پانے والے بھارتی قیدیوں میں سے صرف ایک ایسا تھا جس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پندرہ فروری کو پاکستان نے کوٹ لکھپت جیل میں چوالیس بھارتی قیدیوں سے ملاقات کے لیے ان کے سفارتی عملے کو اجازت دی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ایک سو ساسٹھ قیدیوں سے ملنے کی اجازت مانگی تھی لیکن بھارت نے صرف چھ سے ملنے کی اجازت دی ۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بھارت میں قید دو سو اڑتیس پاکستانی قیدیوں کی وطن واپسی کے لیے انتظام کر رکھا ہے لیکن تاحال ان کی رہائی عمل میں نہیں آئی ہے۔

اسی بارے میں
قیدیوں کا تبادلہ شروع
12 September, 2005 | پاکستان
سربجیت کی درخواست واپس
29 September, 2005 | پاکستان
مزید قیدیوں کا تبادلہ
23 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد