BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 July, 2005, 07:44 GMT 12:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارت لوٹنے کے لیے 46 قیدی تیار

واہگہ
پاکستان میں قید یہ بھارتی واہگہ کے راستے بھارت جائیں گے
پاکستان کی جیلوں میں قید چھیالیس بھارتیوں کو وطن بھجوانے کے لیے سفری دستاویزات جاری کر دی گئی ہیں اور انہیں لاہور کی سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ ضروری رسمی کارروائی کے بعد انہیں واہگہ کے راستے بھارت بھجوا دیا جائے۔

ان قیدیوں میں زیادہ تر سکھ ہیں جن کاتعلق بھارتی پنجاب سے ہے۔

اس بات کا اعلان پاکستانی پنجاب کے مشیر برائے قانون و انسانی حقوق رانا اعجاز احمد خان نے لاہور کی سینٹرل جیل ( کوٹ لکھپت) میں اپنے دورے کے دوران کیا انہوں نے بھارتی قیدیوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر جیل حکام کے علاوہ پاکستان سکھ پربندھک گوردوارہ کمیٹی کے نائب صدر سردار بشن سنگھ بھی موجود تھے۔

صوبائی مشیرنے کہا کہ ’حکومت پاکستان تمام بھارتی قیدیوں کو رہا کرنا چاہتی ہےاور ان کی خواہش ہے کہ پاکستانی جیلوں میں کوئی بھارتی قیدی نہ رہے۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت ’ان قیدیوں کی جلد از جلد رہائی چاہتی ہے۔اس حوالے سے چھیالیس قیدیوں کی رہائی کا کیس مکمل ہے اور وفاقی حکومت سے کلیئرنس ملنے بعد انہیں بھارتی حکام کے حوالے کر دیاجاۓ گا۔‘

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان چھیالیس قیدیوں کو بھارت نے اپنا شہری تسلیم کرلیا ہے جس کے بعد ہی اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشن نے انہیں پاسپورٹ جاری کیے ہیں۔

چھیالیس قیدی جن کے پاسپورٹ تیار ہوئے ہیں ان میں سے متعدد کو مچھ اور کوئٹہ کی جیلوں سے سینٹرل جیل لاہور منتقل کیا گیا ہے۔

لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں اس وقت مجموعی طور پر دس خواتین سمیت ایک سو اکیس بھارتی قیدی موجود ہیں۔

ان بھارتی قیدیوں میں سے دس سزایافتہ ہیں، دو سزائے موت کے قیدی ہیں اور تین حولاتی ہیں۔

گزشتہ چند سالوں سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا سلسلہ بھی شروع ہوا ہے اس سال جنوری اور مارچ کے مہینوں میں پاکستان نے سات سو سے زائد بھارتی قیدیوں کو واپس سرحد پار بھیجا تھاان میں سے بیشتر ماہی گیر تھے۔

بھارت نے بھی پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا تھالیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی جیلوں میں اب بھی ایک دوسرے کے ان گنت قیدی موجود ہیں جنہیں رہا کیا جانا ضروری ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد