بھارت لوٹنے کے لیے 46 قیدی تیار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی جیلوں میں قید چھیالیس بھارتیوں کو وطن بھجوانے کے لیے سفری دستاویزات جاری کر دی گئی ہیں اور انہیں لاہور کی سنٹرل جیل منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ ضروری رسمی کارروائی کے بعد انہیں واہگہ کے راستے بھارت بھجوا دیا جائے۔ ان قیدیوں میں زیادہ تر سکھ ہیں جن کاتعلق بھارتی پنجاب سے ہے۔ اس بات کا اعلان پاکستانی پنجاب کے مشیر برائے قانون و انسانی حقوق رانا اعجاز احمد خان نے لاہور کی سینٹرل جیل ( کوٹ لکھپت) میں اپنے دورے کے دوران کیا انہوں نے بھارتی قیدیوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر جیل حکام کے علاوہ پاکستان سکھ پربندھک گوردوارہ کمیٹی کے نائب صدر سردار بشن سنگھ بھی موجود تھے۔ صوبائی مشیرنے کہا کہ ’حکومت پاکستان تمام بھارتی قیدیوں کو رہا کرنا چاہتی ہےاور ان کی خواہش ہے کہ پاکستانی جیلوں میں کوئی بھارتی قیدی نہ رہے۔‘ انہوں نے کہا کہ حکومت ’ان قیدیوں کی جلد از جلد رہائی چاہتی ہے۔اس حوالے سے چھیالیس قیدیوں کی رہائی کا کیس مکمل ہے اور وفاقی حکومت سے کلیئرنس ملنے بعد انہیں بھارتی حکام کے حوالے کر دیاجاۓ گا۔‘ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان چھیالیس قیدیوں کو بھارت نے اپنا شہری تسلیم کرلیا ہے جس کے بعد ہی اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشن نے انہیں پاسپورٹ جاری کیے ہیں۔ چھیالیس قیدی جن کے پاسپورٹ تیار ہوئے ہیں ان میں سے متعدد کو مچھ اور کوئٹہ کی جیلوں سے سینٹرل جیل لاہور منتقل کیا گیا ہے۔ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں اس وقت مجموعی طور پر دس خواتین سمیت ایک سو اکیس بھارتی قیدی موجود ہیں۔ ان بھارتی قیدیوں میں سے دس سزایافتہ ہیں، دو سزائے موت کے قیدی ہیں اور تین حولاتی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا سلسلہ بھی شروع ہوا ہے اس سال جنوری اور مارچ کے مہینوں میں پاکستان نے سات سو سے زائد بھارتی قیدیوں کو واپس سرحد پار بھیجا تھاان میں سے بیشتر ماہی گیر تھے۔ بھارت نے بھی پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا تھالیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کی جیلوں میں اب بھی ایک دوسرے کے ان گنت قیدی موجود ہیں جنہیں رہا کیا جانا ضروری ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||