بھارت سے چوبیس پاکستانی قیدی رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں قید چوبیس پاکستانی باشندے جمعرات کو رہائی پاکر واہگہ کے راستے لاہور پہنچے۔ یہ لوگ بھارت کے مختلف علاقوں کی جیلوں میں گزشتہ دو سال سے پندرہ سال تک قید رہے۔ ان پر الزام تھا کہ یہ بغیر ویزے کے سرحد پار کرکے بھارت میں داخل ہوئے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ وہ غلطی سے سرحد پار کرگئے تھے۔ کچھ دوسرے قیدیوں پر یہ الزام تھا کہ وہ ویزے کی مدت سے زیادہ عرصہ بھارت میں مقیم رہے۔ رہا ہونے والے زیادہ تر لوگوں کا تعلق پنجاب کے سرحدی علاقوں سیالکوٹ، شکرگڑھ، نارووال، قصور اور بہاولنگر سے تھا۔ پنجاب کے وزیر جیل سعید اکبر نوانی ان قیدیوں کو لینے کے لیے واہگہ پر موجود تھے جبکہ دوسری طرف سے بھارتی پنجاب کے وزیر جیل انہیں چھوڑنے کے لیے آئے تھے۔ جن قیدیوں کو رہا کیا گیا انہیں سخت سکیورٹی میں انٹیلی جنس حکام اپنے ساتھ لے گئے۔ رہا ہونے والوں کے نام یہ ہیں۔ عامر علی، اسلم، عارف، غلام رسول، ودود گل، نعمان علی، محمد شفیق، صالح محمد، حاجی شریف، محمد علی، محمد شبیر، ساجد، محمد سردار، وسیم، محمد یونس، زاہد اقبال، ظفر حسین، فضل دین، محمداحمد، غلام نبی، شبیر احمد، محمد یامین اور خالد سلیم۔ اس سے پہلے اس سال میں پاکستان بھی دو مرتبہ سینکڑوں کی تعداد میں پاکستان میں قید بھارتی ماہی گیروں کو رہا کرچکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||