قیدیوں کا تبادلہ شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت کے درمیان واہگہ باڈر پر پانچ سو ستاسی قیدیوں کے تبادلے کی کارروائی شروع ہوگئی ہے۔ پاکستان، چارسو پنتیس بھارتی قیدیوں کو اور ہندوستان ایک سو باون پاکستانی قیدیوں کو رہا کرےگا۔ کراچی کی لانڈھی جیل سے تین سو اکہتر بھارتی مچھیروں کو ٹرین کے ذریعے لاہور منتقل کیا گیا تھا جبکہ چونسٹھ دوسرے قیدی بھی مختلف جیلوں سے لاہور پہنچا دئیے گئے ہیں۔ اسی طرح اطلاعات کے مطابق بھارت نے بھی اکاون پاکستانی ماہی گیروں سیت ڈیڑھ سو کے قریب پاکستانی قیدیوں کو امرتسر پہنچایا جو واہگہ میں اپنی رہائی کے عمل سے گذر رہے ہیں۔ پاکستان نے کوئی پانچ مہینے پہلے بھی ساڑھے پانچ سو بھارتی مچھیروں کو واپس ان کے وطن بھجوایا تھا۔ اب یہ دوسری بڑی کھیپ بھارت کے حوالے کی جائے گی تاہم ان کی کشتیاں ان کے حوالے نہیں کی گئیں جس کا شکوہ بھارتی ماہی گیر بار بار کرتے دکھائی دئیے۔ چند ہفتے پہلے پاکستان اور بھارت کے سیکرٹری داخلہ کے مابین ہونے والے مذاکرات میں دنوں ملکوں میں قید شہریوں کی رہائی کا معاملہ اٹھایاگیا تھا اور فریقین میں اتفاق کے بعد رہائی کا یہ عمل تیز ہواہے۔ فی الحال پاکستان اور بھارت نے ان قیدیوں کو رہا کرایا ہے جن کی سزائیں مکمل ہوچکی تھیں اور ان کی شہریت کے بارے میں تصدیق ہوگئی تھی۔ تاہم پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ چند ایسے جسمانی و ذہنی طور پر معذور قیدیوں کو بھی لینے پر آمادہ ہیں جن کی معذوری کے باعث ان کی شناخت ممکن نہیں رہی تھی۔ بھارت جن قیدیوں کو رہا کر رہا ہے ان میں سے تیس بھارتی پنجاب اور اکتیس جموں وکشمیر کی مختلف جیلوں میں قید تھے۔ سفارتی عملے کی ان قیدیوں تک رسائی کا فیصلہ چند ہفتے پہلے دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان مذاکرات میں طے پایا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||