پاک بھارت قیدیوں کا تبادلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور بھارت نے جمعہ کی سہ پہر لاہور میں واہگہ چیک پوسٹ پر ستاون قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان اور بھارت کے سیکرٹری داخلہ کے درمیان بات چیت میں یہ فیصلہ ہواتھا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ان شہریوں کو اپنی جیلوں سے رہا کر کے واپس بھیج دیں گے جو اپنی سزا مکمل کر چکے ہیں۔ جمعہ کی سہ پہر پاکستان نے انیس بھارتی قیدیوں کو بھارتی حکام کے حوالے کیا اور بھارت نے پاکستان کے اڑتیس قیدیوں کو پاکستانی افسران کے سپرد کیا۔ پاکستانی وزارت داخلہ کے ایک افسر غلام محمد نے اس موقع پر بتایا کہ پاکستان ایک بھارتی قیدی کو پہلے ہی بھارت کے حوالے کر چکا ہے جبکہ بیس قیدی کراچی سے لاہور پہنچ گئے ہیں جنہیں کل صبح بھارت کے حوالے کر دیا جائےگا۔ پاکستان نے بھارت کے جن انیس قیدیوں کو آج بھارت کے حوالہ کیا وہ لاہور، کوئٹہ اور کراچی کی جیلوں سے لائے گئے تھے۔ بھارت کے دس قیدی جاسوسی کے الزام میں، سات غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے اور دو افراد منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں پکڑے گئے تھے اور عدالتوں سے ملنے والی سزائیں مکمل کر چکے تھے۔ بھارت جانے والوں میں ایک وجے نامی شخص نے بتایا کہ اسے جاسوسی کرنے کے الزام میں چودہ سال قید کی سزا ہوئی تھی تاہم اسے انیس سال بعد رہائی ملی۔ پریتم نامی ایک پینتالیس سالہ بھارتی قیدی کو منشیات سمگل کرنے کے الزام میں سات سال قید کی سزا ہوئی تھی لیکن اسے نو سال بعد رہائی ملی۔ پریتم کا کہنا تھا کہ جو بھارتی قیدی اپنی سزا مکمل کرچکے ہیں انہیں پاکستان کے قانون کےمطابق مدت مکمل ہونے پر رہا کر دیا جانا چاہیے۔ بھارت واپس جانےوالوں میں جموں کے رہائشی پانچ افراد بھی شامل تھے۔ ان میں سے ایک پچاس سالہ سورن لال تھے جن کی والدہ شمع دیوی نے ان کی رہائی کے لیے ایک سال پہلے پاکستان انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر کو خطوط لکھے تھے اور کمیشن نےان کی رہائی کے لیئے دونوں حکومتوں سے رابطہ کیا تھا۔
سورن لال کے مطابق وہ پندرہ سال سے پاکستان کی قید میں تھے جبکہ کوٹ لکھپت جیل لاہور کے ریکارڈ کےمطابق وہ تیرہ سال پاکستان کی قید میں رہے۔سورن لال کو بھارت کےلیے جاسوسی کرنے اور غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کے الزام میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سورن لال نے انسانی حقوق کمیشن کے وفد کو بتایا تھا کہ وہ بے روزگاری کے باعث بھارت کی ایک انٹیلیجنس ایجنسی کے لیے کام کرنے لگے تھے اور دو بار پاکستان میں سیالکوٹ کی سرحد سے داخل ہوکر مختلف جگہوں کی تصاویر وغیرہ اتار کر لے گئے لیکن تیسری بار پکڑے گئے۔ بھارت سے رہا ہوکر آنےوالے پاکستانی قیدی زیادہ تر امرتسر سینٹرل جیل، جے پور جیل اور تہاڑ جیل دلی سے آئے ہیں۔ بھارت سے آنے والے ایک قیدی فیاض احمد نے کہا کہ وہ جیل میں بی بی سی اور وائس آف جرمنی سنتے تھے۔ ایک اور قیدی نے کہا کہ ان کا اصل نام وہ نہیں ہے جو پاسپورٹ میں درج ہے۔ وطن لوٹنےوالے محمد یونس کوئٹہ کے رہائشی تھے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئٹہ سے لاہور اخروٹ بیچنے آئے تھے اور بھارت کے ساتھ سرحد دیکھنے کے شوق میں بارڈر پر چلےگئے تو بی ایس ایف کے ایک اہلکار نے انہیں گرفتار کرلیا۔ بھارت سے رہا ہوکر آنےوالے کئی پاکستانی قیدیوں کا ذہنی توازن بظاہر متاثر نظر آتا تھا۔ رہائی پاکر وطن آنے والے کچھ قیدیوں نے یہ بھی بتایا کہ بھارت کی جیلوں میں ایسے پاکستانی موجود ہیں جن کا پاسپورٹ گم ہو چکا ہے اور اب پاکستان بھی ان کی شناخت نہیں کرتا اس لیئے انہیں یہ امید نہیں کہ وہ زندگی بھر اپنے گھر واپس جاسکیں گے۔
پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے سیکنڈ سیکرٹری بلوندر ہم پال اس موقع پر موجود تھے۔انہوں نے بھارتی جیلوں میں پاکستانی قیدیوں پر مبینہ تشدد ہونے کے سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے کبھی بھارت کی جیلوں کا دورہ نہیں کیا البتہ پاکستان کی جیلوں میں بھارتی قیدیوں سے ملنے جاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں آزاد عدلیہ موجود ہے اور انسانی حقوق کمیشن کا ادارہ کام کرتا ہے اور اگر کوئی شکایت ہو تو ان سے رجوع کیا جاسکتاہے۔بلوندر پال نے کہا کہ پانچ سو سینتالیس بھارتی پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید ہیں جن میں سے چار سو بارہ مچھیرے اور ایک سو تینتیس سویلین ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ پاکستانی جیلوں میں ایک سو بانوے بھارتی مچھیروں تک قونصلر کی رسائی ہوگئی ہے اور اب کی رہائی اور بھارت روانگی کا عمل شروع ہوجائےگا۔ اس موقع پر پاکستانی بارڈر حکام نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں پاکستان بھارت کے دو ہزار ترپن قیدیوں کو رہا کر چکا ہے جبکہ بھارت نے اس عرصہ میں پاکستان کے سات سو انسٹھ قیدی رہا کیے ہیں۔ | اسی بارے میں پاک بھارت مشترکہ اعلامیہ کا اعلان31 May, 2006 | پاکستان مچھیروں کی رہائی کا اعلان27 May, 2006 | پاکستان رہا کیے گئے ماہی گیر بھارت واپس30 May, 2006 | پاکستان پاک بھارت مشترکہ گشت14 April, 2006 | پاکستان بھارتی جیلوں سے آٹھ پاکستانی رہا26 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||