بھارتی جیلوں سے آٹھ پاکستانی رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت نےایک نوعمر لڑکی سمیت ان آٹھ پاکستانی شہریوں کو رہا کر دیا ہے جو کئی سال سے بھارت کی مختلف جیلوں میں قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ یہ تمام افراد پیر کو واہگہ کے راستے پیدل سرحد عبور کرکے پاکستان داخل ہوگئے۔ ان کی رہائی دونوں ملکوں کے درمیان جاری اعتماد سازی کے ان کااقدامات کا حصہ ہیں جو گزشتہ ایک ڈیڑھ سال سے جاری ہیں۔ رینجرز کے حکام کے مطابق رہا ہونے والوں میں ایک نوعمر لڑکی اور ایک لڑکا بھی شامل ہیں جو ان کے بقول بظاہر غلطی سے سرحد پار کر گئے تھے۔ حکام کے مطابق فرح پاکستانی پنجاب کے ایک شہر نارروال کے گاؤں کوٹلی بھورے خان کی رہائشی تھی اور معمولی ڈانٹ پر اپنے گھر والوں سے ناراض ہوکر سرحد پارکرنے چلی گئی جہاں بھارتی سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے اسے پکڑکر بچوں کی جیل بھجوادیا۔ آٹھ اپریل کو لدھیانہ کی ایک عدالت نے اسے اس بنیاد پر رہا کرنے کا حکم دیا کہ وہ اپنی سزا سے زیادہ جیل پہلے ہی کاٹ چکی ہے۔ اس لڑکی کے والدین اسے لینے کے لیے واہگہ موجود تھے۔ بھارت کی جیل سے رہائی پانے والے افراد بھارت کی مختلف جیلوں میں چار سے نو سال تک کی قید کاٹنے کے بعد پاکستان لوٹ سکے ہیں۔
ایک پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ ابھی فوری طور پر انہیں رہا نہیں کیا جائے گا بلکہ اس سے پہلے پاکستان کی مختلف سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکار ان سے پوچھ گچھ کریں گی اور ان کے اہلخانہ کے بارے میں چھان بین کی جائے گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان کئی دہائیوں سے شدید کشیدگی رہی ہے اور طویل عرصے تک دونوں اطراف کے حکام ایک دوسرے کے اقدامات کو شک کی نظر سے دیکھتے رہے ہیں۔ ایک پاکستانی سیکیورٹی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکام ان قیدیوں کے پاکستانی ہی ہونے کے بارے میں مکمل تسلی چاہتے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق رہا ہونے والے سولہ سالہ لڑکے الطاف شاہ نے کہا ہے وہ چار سال تک بھارت کی مختلف جیلوں میں قید کاٹنے کے بعد وطن لوٹا ہے تو اسے یہ نہیں معلوم کہ اس کا گھر کہاں ہے اور اہلخانہ کدھر ہیں تاہم اسے آزاد ہونے اور وطن لوٹنے کی خوشی ہے۔ الطاف شاہ کے مطابق وہ واہگہ باڈر کی سیر کےدوران غلطی سے سرحد پار کر گیا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کے بعد سے دونوں اطراف سے سینکٹروں قیدیوں کو رہا کیا جاچکا ہے لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اب بھی بڑی تعداد میں شہری دونوں ملکوں کی جیلوں میں موجود ہیں۔ | اسی بارے میں اکیس بھارتی قیدی رہا 17 March, 2005 | پاکستان بھارت سے چوبیس پاکستانی قیدی رہا14 April, 2005 | پاکستان بھارت لوٹنے کے لیے 46 قیدی تیار 12 July, 2005 | پاکستان پاک بھارت قیدیوں کا تبادلہ 12 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||