پاک بھارت قیدیوں کا تبادلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملی نغمے بجا کر اور ہار پہنا کر پاکستان اور بھارت نے پیر کو واہگہ کہ ذریعے پانچ سو ستاسی قیدیوں کا باہمی تبادلہ کیا ہے۔ پاکستان نے بھارت کے چار سو پینتیس اور بھارت نے پاکستان کے ایک سو باون قیدی رہا کیے۔ قیدی اپنے ملک کی سرحد پار کرکے زمین کو چومتے نطر آئے۔ ان کے عزیز و اقارب ان کے استقبال کے لیے چیک پوسٹ پر جمع تھے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر جب صدر جنرل پرویزمشرف اور وزیراعظم من موہن سنگھ کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے جس سے پہلے دونوں ملکوں نے خیرسگالی کے کے طور پر ایک دوسرے کے قیدی رہا کیے۔ واہگہ پر وزیر مملکت برائے داخلہ امور شہزاد وسیم نے وہگہ چیک پوسٹ پر پاکستان کے قیدیوں کا استقبال کیا اور انہیں ہار پہنائے۔ اس موقع پر ملی نغمے بجائے گئے۔بھارت کے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر بہادری لال نے بھارتی قیدیوں کا استقبال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں موجود تمام پاکستانی قیدی جلد رہا کردیے جائیں گے۔ دونوں ملکوں نے ان قیدیوں کو رہا کیا ہے جن کی شہریت کا تعین ہوگیا تھا۔ یہ لوگ غیرر قانونی طور پر سرحد پار کرنے اور سمندری حدود کی خلاف ورزی کے الزام میں قید کیے گئے تھے۔ تین سو اکہتر بھارتی مچھیرے کراچی کی لانڈھی جیل سے رہا ہوکر گزشتہ روز لاہور پہنچے تھے۔ دوسری طرف، اکیاون پاکستانی مچھیروں کے ساتھ ساتھ زیادہ تر پاکستانی قیدیوں کو پنجاب اور کشمیر کی جیلوں سے رہا کیا گیا ہے جن کا کہنا تھا کہ وہ غلطی سے سرحد پار کرگئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||