BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 September, 2005, 13:59 GMT 18:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت قیدیوں کا تبادلہ

News image
ملی نغمے بجا کر اور ہار پہنا کر پاکستان اور بھارت نے پیر کو واہگہ کہ ذریعے پانچ سو ستاسی قیدیوں کا باہمی تبادلہ کیا ہے۔

پاکستان نے بھارت کے چار سو پینتیس اور بھارت نے پاکستان کے ایک سو باون قیدی رہا کیے۔

قیدی اپنے ملک کی سرحد پار کرکے زمین کو چومتے نطر آئے۔ ان کے عزیز و اقارب ان کے استقبال کے لیے چیک پوسٹ پر جمع تھے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر جب صدر جنرل پرویزمشرف اور وزیراعظم من موہن سنگھ کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے جس سے پہلے دونوں ملکوں نے خیرسگالی کے کے طور پر ایک دوسرے کے قیدی رہا کیے۔

واہگہ پر وزیر مملکت برائے داخلہ امور شہزاد وسیم نے وہگہ چیک پوسٹ پر پاکستان کے قیدیوں کا استقبال کیا اور انہیں ہار پہنائے۔ اس موقع پر ملی نغمے بجائے گئے۔بھارت کے پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر بہادری لال نے بھارتی قیدیوں کا استقبال کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں موجود تمام پاکستانی قیدی جلد رہا کردیے جائیں گے۔

دونوں ملکوں نے ان قیدیوں کو رہا کیا ہے جن کی شہریت کا تعین ہوگیا تھا۔ یہ لوگ غیرر قانونی طور پر سرحد پار کرنے اور سمندری حدود کی خلاف ورزی کے الزام میں قید کیے گئے تھے۔

تین سو اکہتر بھارتی مچھیرے کراچی کی لانڈھی جیل سے رہا ہوکر گزشتہ روز لاہور پہنچے تھے۔ دوسری طرف، اکیاون پاکستانی مچھیروں کے ساتھ ساتھ زیادہ تر پاکستانی قیدیوں کو پنجاب اور کشمیر کی جیلوں سے رہا کیا گیا ہے جن کا کہنا تھا کہ وہ غلطی سے سرحد پار کرگئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد