BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 May, 2006, 07:57 GMT 12:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مچھیروں کی رہائی کا اعلان

انڈیا کے مچھیرے
ممالک جہاں ایک دوسرے کے مچھیروں کو رہا کرتے رہے ہیں وہیں پر وقت فوقتاً ان کی گرفتاریاں بھی جاری رہتی ہیں
پاکستان اور انڈیا نے ایک دوسرے کے گرفتار کردہ ایک سو تیس ماہی گیر رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ حکومت نے خیر سگالی کے طور پر اکہتر مچھیرے رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے انڈیا کے دو ماہی گیر بچوں کو ہفتے کے روز انڈیا کے حکام کے حوالے کیا جنہیں کراچی کے ہوائی اڈے سے پی آئی اے کے طیارے میں ایک بھارتی سفارتکار سمیت ممبئی کے لیئے روانا کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستانی سمندری حدود میں مچھلیاں پکڑنے کے الزام میں گرفتار بھارتی مچھیروں کو تیس مئی کو واہگہ کی سرحد پر انڈیا کے حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

جبکہ پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے نے کراچی میں قائم ’فشرمین کو آپریٹو سوسائٹی‘ کے ذرائع سے خبر دی ہے کہ انڈیا کی حکومت نے بھی انسٹھ پاکستانی مچھیرے رہا کردیے ہیں اور وہ سنیچر کے روز کھوکھرا پار سرحد سے پاکستان پہنچیں گے۔

بھارت سے رہائی پانے والے یہ پاکستانی مچھیرے گزشتہ برس اکتوبر کے بعد گرفتار کیے گئے تھے۔ جبکہ گزشتہ برس ستمبر تک انڈیا دو سو سے زائد پاکستانی مچھیرے رہا کرچکا تھا۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات شروع ہونے کے بعد گزشتہ دو برسوں میں ایک دوسرے کے غلطی سے سرحد پار کرنے اور مچھیروں کو درجنوں کی تعداد میں رہا کیا ہے۔

تاہم جہاں ایک طرف دونوں ممالک ایک دوسرے کے گرفتار مچھیروں کو رہا کرتے رہے ہیں وہیں پر وقت فوقتاً گرفتار بھی کرتے رہتے ہیں۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ نے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے داخلہ کے محکموں کے سیکریٹریوں کی سطح پر دو روزہ بات چیت تیس اور اکتیس مئی کو اسلام آباد میں ہوگی۔

داخلی امور کے سیکریٹری اپنے اپنے ممالک کے سویلین قیدیوں کی رہائی کے بارے میں بات چیت کریں گے اور ان کی رہائی کے لیے حکمت عملی بھی وضح کریں گے۔

ماہی گیر بچے
انڈیا کے دو ماہی گیر بچوں سات سالہ پاؤش رام جی اور آٹھ سالہ بھارت بابو کو بیس نومبر کو پاکستان کی حدود میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

دونوں بچوں کو ان کے رشتے داروں کے ساتھ مچھلی کا شکار کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔
ہوائی اڈے پر بچوں کی ان کے رشتے داروں سے ٹیلی فون پر بات چیت بھی کروائی گئی، اور روانگی سے قبل انصار برنی ٹرسٹ کی جانب سے تحائف بھی دیئے گئے۔

اسی بارے میں
پاک بھارت قیدیوں کا تبادلہ
12 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد