مزید قیدیوں کا تبادلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان ایک بار پھر سرحدی خلاف ورزی کےالزام میں گرفتار ایک دوسرے کے شہریوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ ہندوستان سے ستاون شہری جمعہ کی رات پاکستان پہنچ گئے تھے جبکہ توقع ہے کہ پاکستان ہفتے کے روز ستر ہندوستانی ماہی گیروں اور دیگر قیدیوں کو ان کے وطن واپس بھجوادے گا۔ لاہور کے واہگہ باڈر پر پاکستانی قیدیوں کااستقبال کرنے کےلیے صوبہ سندھ کے وزیر برائے فشریز ولائیو سٹاک فقیر محمد منگریو بھی موجود تھے۔ ہندوستان سے لوٹنے والے پاکستانی شہریوں میں تیس کے قریب مچھیرے تھے جو سمندر میں ماہی گیری کرتے ہوئے مبینہ طور پر ہندوستانی حدود میں داخل ہوگئےتھے جبکہ ستائیس دیگر شہری تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ان پر الزام تھا کہ انہوں نے غیر قانونی طورپر بھارت کی سرحد عبور کی یا ہندوستان میں غیر قانونی قیام کیا۔ ان پاکستانی شہریوں کی واپسی خاصی تاخیر سے شروع ہوئی اور رات گئے تک جاری رہی۔ پاکستان آنے والے متعدد شہریوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتےہوئے ہندوستانی حراست کےدوران تشدد کی شکائت کی۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی ساجد نے کہا کہ اس پر دہشت گردی کا الزام لگا کر تفتیش کی جاتی رہی اور اس دوران مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ کراچی کے عشرت علی اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ہمراہ ہندوستان کی جیل کاٹ کر لوٹے ہیں ان کے مطابق وہ اور ان کا خاندان سرحد دیکھنے گئے تھے کہ غلطی سے باڈر پار کر گئے۔ پاکستان کی ملیر جیل سے پچاس ہندوستانی ماہی گیروں کو رہا کر دیا گیا ہے یہ قیدی آج بذریعہ ٹرین لاہور پہنچ رہے ہیں جہاں انہیں پنجاب کی جیلوں سے رہا کیے جانے والے دیگر بیس قیدیوں کے ہمراہ واہگہ باڈر سے ہی ہندوستان کے حوالے کیا جائے گا۔ پاکستان اور بھارت کے اہلکار ایک دوسرے کے ماہی گیروں کو سرحد کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرکے گرفتار کرتے رہتے ہیں اور بعد میں تعلقات میں بہتری کے نام پر ان قیدیوں کا تبادلہ ہوتا ہے۔ پچھلے برس ایک موقع پر چھ سو قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا جسے سن ء انیس سو اکہتر کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان قیدیوں کا سب سے بڑا تبادلہ قرار دیا گیا۔ گذشتہ جون میں بھارتی حکام نے پاکستان میں موجود بھارتی قیدیوں کی تعداد پانچ سو سینتالیس بتائی تھی جبکہ اسلام آباد میں وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی جیلوں میں چار سو اکہتر پاکستانی قید ہیں۔ ان قیدیوں میں سے بیشتر پر بلا اجازت سرحد عبور کرنے یا غیر قانونی قیام کا الزام ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دنوں ملکوں میں ان الزامات کے تحت گرفتار ہونے والے افراد پر جاسوس ہونے کا شبہ ضرور کیا جاتا ہے اور یہی شبہ ان پر تشدد کا سبب بنتا ہے۔ | اسی بارے میں پاک بھارت قیدیوں کا تبادلہ 12 September, 2005 | پاکستان قیدیوں کا تبادلہ شروع12 September, 2005 | پاکستان چھ پاکستانی مچھیرے گرفتار 22 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||