سربجیت کی درخواست واپس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں قید بھارتی باشندے منجیت سنگھ عرف سربجیت سنگھ کی نظرثانی کی تین مختلف درخواستوں کو عدالت عظمیٰ کی لاہور رجسٹری نے جمعرات کے روز اعتراض لگا کر واپس کردیا ہے۔ منجیت سنگھ عرف سربجیت سنگھ جن کی عمر چالیس سال ہے، پندرہ سال سے پاکستان میں قید ہیں اور انہیں سپریم کورٹ سے پاکستان میں بم دھماکے کرنے کے الزام میں سزائے موت دی جاچکی ہے۔ بھارت کے ضلع امرتسر کے رہائشی منجیت عرف سربجیت کو اگر نظر ثانی کی درخواست کے نتیجہ میں سزائے موت کے بجائے عمر قید بھی دے دی جائے تو ان کے وکیل عبدلحمید رانا کے مطابق وہ رہا ہوسکتے ہیں۔ لاہور میں منجیت عرف سربجیت سنگھ کے وکیل عبدالحمید رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری نے اس مقدمے سے متعلق کچھ مزید کاغذات نظرثانی کی درخواست کے ساتھ لگانے کے لیے کہا ہے اور اسے دوبارہ داخل کرنے کے لیے پانچ روز کی مہلت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چند روز میں یہ درخواستیں کاغذات کے ساتھ دوبارہ داخل کرادیں گے۔ منجیت عرف سربجیت سنگھ کو انیس سو نوے میں لاہور اور فیصل آباد میں ہونے والے چار مختلف بم دھماکوں کے مقدموں میں سزائے موت ہوئی تھی۔ ایک بم دھماکہ انیس سو نوے میں دلی دروازہ لاہور، دوسرا مئی میں ملک تھیٹر بھاٹی گیٹ لاہور، تیسرا بھی مئی میں فیصل آباد جانے والی بس میں اور چوتھا لاہور سٹیشن سے غازی آباد جانے والی بس میں ہوا تھا۔ ان میں سے تین مقدموں میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس سال اٹھارہ اگست کو ان کی اپیل مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کی سزا کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔ اسی طرح چوتھے مقدمے میں بھی ستائیس ستمبر کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو قائم رکھا تھا۔ منجیت کے وکیل نے، جن کی خدمات ان کے لیے کینیڈا میں انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے حاصل کی ہیں، سپریم کورٹ سے مسترد کی جانے والی پہلی تین اپیلوں پر بدھ کے روز سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں نظرِ ثانی کی درخواستیں جمع کرائی تھیں جنہیں جمعرات کو اعتراض کے ساتھ واپس کردیا گیا۔ وکیل عبدالحمید رانا نے کہا کہ انہوں نے نظرِ ثانی کی درخواستوں میں کئی قانونی نکات اٹھائے ہیں جن میں سے ایک نکتہ یہ ہے کہ فوج کے ایک میجر غلام عباس استغاثے کے گواہ کے طور پر ٹرائل عدالت میں پیش ہوئے تھے جہاں انہوں نے یہ کہا تھا کہ انہوں نے منجیت سنگھ ولد منگا سنگھ کو گرفتا رکیا تھا۔ وکیل کا کہنا ہے کہ موجودہ قیدی منجیت سنگھ ولد سولکھن سنگھ ہے تو پھر ولد منگا سنگھ والا قیدی کہاں گیا۔ وکیل کا کہنا ہے کہ کسی عدالت نے اس فوجی افسر کے بیان پر غور نہیں کیا اس لیے وہ عدالت سے استدعا کررہے ہیں کہ اسے زیِرغور لایا جائے۔ وکیل نے نظر ثانی کی درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ استغاثہ کے گواہوں کے بیانات میں بہت سے تضادات ہیں جنہیں اگر مدنظر رکھا جائے تو اس مقدمہ کا فیصلہ مختلف ہوسکتا ہے۔ وکیل نے نظر ثانی کی درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ منجیت سنگھ کا مبینہ طور پر میجسٹریٹ کے سامنے آٹھ ستمبر انیس سو نوے کو دیا گیا جو اقبالی بیان پیش کیا گیا اس میں بھی قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور اس میں اس بات کا کہیں ذکر نہیں کہ اس بیان کے دوران میں اس کی ہتھکڑیاں کھولی گئیں تھیں اور یہ کہ اس بیان میں لکھا ہے کہ بیان کے بعد اسے دوبارہ فوج کےحوالے کردیا گیا جو قانونی طور پر درست بات نہیں۔ وکیل کا کہنا ہے کہ قانون کا اصول ہےکہ شک کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے لیکن مجیت عرف سربجیت کے مقدمے میں عدالت نے ایسا نہیں کیا بلکہ مذہبی تعصب اور دشمن ملک کے باشندہ ہونے کی بنیاد پر سخت ترین سزا دی گئی۔ وکیل عبدالحمید رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست منجیت عرف سربجیت کے پاس آخری قانونی فورم ہے اور اگر اس کی سزا عمر قید میں بھی تبدیل کردی جائے تو وہ رہا ہوسکتے ہیں کیونکہ عمر قید کی سزا چودہ سال پر مبنی ہوتی ہے جو سربجیت سنگھ پہلے ہی مکمل کرچکے ہیں۔ منجیت عرف سبجیت کے وکیل کے مطابق اس مقدمے میں استغاثہ نے ملزم پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ پبلک ٹائلٹس میں بیٹھ کر بم تیار کرتا تھا جو عام فہم سے بالا ہے۔ وکیل نے بی بی سی سے کہا کہ استغاثہ کا ایک گواہ ایک بس کا کنڈکٹر ہے جس میں لاہور کے علاقے غازی آباد میں بم دھماکہ ہوا تھا۔ اس کنڈکٹر نے یہ بیان دیا کہ منجیت عرف سربجیت ہی وہ شخص ہے جو اپنا سامان چھوڑ کر بس سے اتر کرگیا تھا۔ وکیل کا کہنا ہے کہ ایک کنڈکٹر کا بہت سی سواریوں میں سے ایک سواری کا حلیہ یاد رکھنا عام سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نظرِثانی کی درخواستوں کو مسترد کردے تو آخری مرحلہ صدرِ پاکستان کے پاس معافی کی درخواست کا ہے جو آئین کے آرٹیکل پینتالیس کے تحت کسی بھی سزا کو کم کرنے یا ختم کردینے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں جسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||