بھارتی جنگی قیدیوں کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان سے ایک وفد پاکستان جارہا ہے جس میں شامل لوگوں کا دعویٰ ہے کہ سنہ اکہتر کی ہند پاک جنگ میں ان کے جن اہل خانہ کو قید کیاگيا تھا وہ اب بھی جیل میں ہیں۔ یہ وفد پاکستان میں دس جیلوں کا دورہ کرکے انہیں تلاش کرنے کی کوشش کرےگا۔ پاکستان نے ایک بار پھر اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ اس کی جیلوں میں کوئی بھی بھارتی جنگی قیدی موجود ہے۔ پاکستان میں وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ بھارتی حکام نے کئی بار اس موقف کو دہرایا تھا کہ بعض بھارتی جنگی قیدی پاکستان کی جیلوں میں اب بھی قید ہیں اس لیے اس وفد کو آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’یہ وہ لوگ ہیں جن کے اہل خانہ گم ہیں، ان کی تسلی کے لیےانہیں پاکستان آنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ وہ خود جیلوں کا دورہ کرسکیں اور مطمئن ہوسکیں‘۔ ’ ہم نے بارہا کہا ہے کہ یہاں کوئي قیدی نہیں ہے اب چاہے وہ ہلاک ہوئے ہوں یا ان کی لاشیں نہ مل پائی ہوں‘۔ بھارت میں ایک تنظیم’مسنگ ڈیفنس پرسونیل ریلیٹیو ایسو سی ایشن ‘ کے صدر لفٹننٹ کرنل راج کمار پٹو گزشتہ کئی برسوں سے ان گم شدہ افراد کی تلاش کے لیے مہم چلار ہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے کئی ثبوت ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کئی لوگ پاکستان کی جیلوں میں موجود ہیں۔’اس کا ذکر ایک بار بے نظیربھٹونے خود کیا تھا، کئی کتابوں میں بھی ان ذکر ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری امیدیں بر آئیں گی۔‘ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان یہ معاملہ اٹھتارہا ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں برسوں سے قید بھارتی جنگی قیدیوں کی رہائی ہونی چاہیے۔ پاکستان نے ان قیدیوں کی موجودگي کی بارہا تردید کی ہے۔ لیکن جب اصرار زیادہ بڑھا تو صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے مبینہ قیدیوں کے اہل خانہ کو پاکستان آکر انہیں تلاش کرنے کی دعوت دیدی۔ اسی دعوت پر تیرہ رکنی ایک وفد یکم جون کو پاکستان پہنچ رہا ہے۔ مسٹر پٹو کہتے ہیں کہ صدر مشرف نے خیر سگالی کے لیے جو پہل کی ہے اس سے دونوں ملکوں کے رشتے بہتر ہوں گے اور وہ اس دورہ سے بہت پر امید ہیں۔ لیکن تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے بھارتی موقف قابل افسوس ہے۔’ کم سے کم پانچ سو پاکستانی سویلین قیدی بھارتی جیلوں میں ہیں جن کی رہائی کے لیے کئی بار گزارش کی جاچکی ہے لیکن بھارت نے سرد مہری اختیار کر رکھی ہے۔ جس طرح ہم نے انسانی بنیاد پر قدم اٹھایا ہے ایسا ہی قدم بھارت کو بھی اٹھانا چاہیے۔‘ سنہ انیس سو اکہتر کی ہند پاک جنگ سے جو فوجی واپس نہیں لوٹے ان کے اہل خانہ پاکستان کے دورے سے بہت پر امید ہیں۔ ممکن ہے کہ بعض افراد کے خوابوں کی تعبیر بھی پوری جائے لیکن بر صغیر کی جیلوں میں پینتیس برس پرانے قیدیوں کو تلاش کرنا آسان کام نہیں ہوگا۔ | اسی بارے میں قیدیوں کا تبادلہ شروع12 September, 2005 | پاکستان پاکستان: 371 بھارتی ماہی گیر واپس 10 September, 2005 | پاکستان بھارت تعاون نہیں کر رہا: دفترِ خارجہ05 March, 2007 | پاکستان سربجیت : سزائے موت کا حکم 27 September, 2005 | پاکستان بچوں کی جیلیں، ہائی کورٹ کا نوٹس28 March, 2007 | پاکستان نہ رہی جیل، نہ رہے قیدی18 October, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||