BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 May, 2007, 21:15 GMT 02:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی جنگی قیدیوں کی تلاش

پشاور جیل فائل فوٹو
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگی قیدیوں کا معاملہ اٹھتارہا ہے
ہندوستان سے ایک وفد پاکستان جارہا ہے جس میں شامل لوگوں کا دعویٰ ہے کہ سنہ اکہتر کی ہند پاک جنگ میں ان کے جن اہل خانہ کو قید کیاگيا تھا وہ اب بھی جیل میں ہیں۔

یہ وفد پاکستان میں دس جیلوں کا دورہ کرکے انہیں تلاش کرنے کی کوشش کرےگا۔

پاکستان نے ایک بار پھر اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ اس کی جیلوں میں کوئی بھی بھارتی جنگی قیدی موجود ہے۔

پاکستان میں وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ بھارتی حکام نے کئی بار اس موقف کو دہرایا تھا کہ بعض بھارتی جنگی قیدی پاکستان کی جیلوں میں اب بھی قید ہیں اس لیے اس وفد کو آنے کی دعوت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا ’یہ وہ لوگ ہیں جن کے اہل خانہ گم ہیں، ان کی تسلی کے لیےانہیں پاکستان آنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ وہ خود جیلوں کا دورہ کرسکیں اور مطمئن ہوسکیں‘۔

کم سے کم پانچ سو پاکستانی سویلین قیدی بھارتی جیلوں میں ہیں جن کی رہائی کے لیے کئی بار گزارش کی جاچکی ہے لیکن بھارت نے سرد مہری اختیار کر رکھی ہے
پاکستان میں وزارتِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم

’ ہم نے بارہا کہا ہے کہ یہاں کوئي قیدی نہیں ہے اب چاہے وہ ہلاک ہوئے ہوں یا ان کی لاشیں نہ مل پائی ہوں‘۔

بھارت میں ایک تنظیم’مسنگ ڈیفنس پرسونیل ریلیٹیو ایسو سی ایشن ‘ کے صدر لفٹننٹ کرنل راج کمار پٹو گزشتہ کئی برسوں سے ان گم شدہ افراد کی تلاش کے لیے مہم چلار ہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسے کئی ثبوت ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کئی لوگ پاکستان کی جیلوں میں موجود ہیں۔’اس کا ذکر ایک بار بے نظیربھٹونے خود کیا تھا، کئی کتابوں میں بھی ان ذکر ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری امیدیں بر آئیں گی۔‘

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان یہ معاملہ اٹھتارہا ہے کہ پاکستان کی جیلوں میں برسوں سے قید بھارتی جنگی قیدیوں کی رہائی ہونی چاہیے۔ پاکستان نے ان قیدیوں کی موجودگي کی بارہا تردید کی ہے۔ لیکن جب اصرار زیادہ بڑھا تو صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے مبینہ قیدیوں کے اہل خانہ کو پاکستان آکر انہیں تلاش کرنے کی دعوت دیدی۔

 صدر مشرف نے خیر سگالی کے لیے جو پہل کی ہے اس سے دونوں ملکوں کے رشتے بہتر ہوں گے اور وہ اس دورہ سے بہت پر امید ہیں۔
لیفٹیننٹ کرنل راج کمار پٹو

اسی دعوت پر تیرہ رکنی ایک وفد یکم جون کو پاکستان پہنچ رہا ہے۔

مسٹر پٹو کہتے ہیں کہ صدر مشرف نے خیر سگالی کے لیے جو پہل کی ہے اس سے دونوں ملکوں کے رشتے بہتر ہوں گے اور وہ اس دورہ سے بہت پر امید ہیں۔

لیکن تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے بھارتی موقف قابل افسوس ہے۔’ کم سے کم پانچ سو پاکستانی سویلین قیدی بھارتی جیلوں میں ہیں جن کی رہائی کے لیے کئی بار گزارش کی جاچکی ہے لیکن بھارت نے سرد مہری اختیار کر رکھی ہے۔ جس طرح ہم نے انسانی بنیاد پر قدم اٹھایا ہے ایسا ہی قدم بھارت کو بھی اٹھانا چاہیے۔‘

سنہ انیس سو اکہتر کی ہند پاک جنگ سے جو فوجی واپس نہیں لوٹے ان کے اہل خانہ پاکستان کے دورے سے بہت پر امید ہیں۔ ممکن ہے کہ بعض افراد کے خوابوں کی تعبیر بھی پوری جائے لیکن بر صغیر کی جیلوں میں پینتیس برس پرانے قیدیوں کو تلاش کرنا آسان کام نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں
قیدیوں کا تبادلہ شروع
12 September, 2005 | پاکستان
سربجیت : سزائے موت کا حکم
27 September, 2005 | پاکستان
نہ رہی جیل، نہ رہے قیدی
18 October, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد