بچوں کی جیلیں، ہائی کورٹ کا نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے صوبے کے بیشتر اضلاع میں نو عمر قیدیوں کے لیے علیحدہ جیلیں نہ ہونے کا از خود نوٹس لیا ہے اور آئی جی جیل خانہ جات اور محکمۂ داخلہ سندھ کو حکم دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں صوبے کے تمام جیلوں کی صورتحال کا جائزہ لے کر ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کریں۔ـ بدھ کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اس معاملے کے سماعت کی جس میں آئی جی جیل سندھ یامین خان، ایڈیشنل سیکرٹری محکمۂ داخلہ سندھ آصف حیدر اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ سندھ چودھری محمد رفیق راجوروی پیش ہوئے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے مطابق آئی جی جیل نے عدالتِ عالیہ کو بتایا کہ سندھ میں کل بیس جیلیں قائم ہیں لیکن اُن میں نو عمر قیدیوں کے لیے صرف کراچی اور حیدرآباد میں دو جیلیں ہیں جبکہ حیدر آباد جیل کا عملہ ابھی تعنیات ہونا باقی ہے۔ اُنہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ صوبے کی جیلوں میں اِس وقت 18 سال سے کم عمر 600 قیدی ہیں جن کی اکثریت کراچی میں واقع بچوں کی جیل میں قید ہے۔ ان نو عمر قیدیوں میں 562 زیرِ سماعت مقدمات کے ملزمان ہیں جبکہ 38 سزا یافتہ ہیں۔آئی جی جیل نے بتایا کہ اندرونِ سندھ کے اضلاع میں جہاں جہاں نو عمر قیدی ہیں انہیں سینٹرل یا ڈسٹرکٹ جیلوں میں علیحدہ وارڈوں میں رکھا جاتا ہے۔ چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے آئی جی جیل کو ہدایت کی کہ وہ ایک ماہ کے اندر تمام جیلوں کا دورہ کریں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ قیدی بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کیا بہتر انتظامات ہو سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نےہدایت کی کہ قیدی بچوں کو قطعی طور پر بڑی عمر کے قیدیوں سے الگ علیحدہ جیلوں میں رکھنا چاہیے اور اس کا تقاضا سنہ 2000 میں نافذ ہونے والا جوونائل جسٹس سسٹم آرڈینینس بھی کرتا ہے۔ سماعت کے بعد آئی جی جیل یامین خان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ وہ جیلوں کا دورہ کر کے جائزہ لیں گے کہ نو عمر قیدیوں کو قانون کے مطابق سہولیات فراہم کرنےکے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے اور خاص طور پر انہیں بڑی عمر کے قیدیوں سے الگ رکھنے اور اُن کی تعلییم و تربیت کا انتظام کیسے ہو سکتا ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ آصف حیدر کے مطابق اُن کا محکمہ قیدی بچوں کے لیے علیحدہ جیلوں کے قیام کے سلسلے میں طویل المدت منصوبہ بندی کرے گا جس میں یہ طے کیا جائے گا کہ قیدی بچوں کے لیے صوبے میں اور کہاں کہاں جیلیں یا انڈسٹریل سکول بنائے جا سکتے ہیں اور اُن کی معیاری شکل کیا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کوشش کی جائےگی کہ ان صنعتی سکولوں میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مناسب سہولیات موجود ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ جلد از جلد منصوبہ تیار کرکے حکومت کو پیش کریں تاکہ اس پر مرحلہ وار عمل درآمد ہو سکے۔ | اسی بارے میں خواتین قیدیوں کی رہائی کا حکم02 July, 2006 | پاکستان قید خواتین، کراچی میں رہائی شروع13 July, 2006 | پاکستان خواتین قیدیوں کی رہائی کا حکم 07 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||