’امن عمل جاری رہنا چاہیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات کو جنوبی ایشیا میں جاری امن کے عمل پر اثر انداز نہیں ہونا چاہئے۔ وہ پیر کو اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بھارتی حزبِ اختلاف بی جے پی کی جانب سے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کو دیے گئے اس مشورے پر تبصرہ کر رہی تھیں کہ پاکستان کے موجودہ عدالتی اور سیاسی بحران کے پیشِ نظر فی الحال کسی ٹھوس پیش رفت سے اجتناب کیا جائے۔ تاہم انہوں نے اس سوال کا جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا چین اور امریکہ سمیت کئی اہم ممالک عدالتی بحران کے ضمن میں حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ وزیر اعظم شوکت عزیز نے برطانیہ کا مجوزہ دورہ اس لیے منسوخ کیا ہے کیونکہ حکومت میں شامل ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے ان سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا تھا۔ تسنیم اسلم نے کہا کہ درحقیقت یہ دورہ برطانوی وزیر اعظم کی دعوت پر ہونے والا تھا، لیکن وزیر اعظم شوکت عزیز نیشنل سکیورٹی کونسل کے اجلاس کے سبب لندن نہ جا سکے ۔ تاہم رواں ہفتے میں ان کے دورۂ کابل کا امکان ہے۔ عمران خان کی جانب سے الطاف حسین کے خلاف برطانیہ میں مقدمہ دائر کرنے کے ارادے پر تبصرہ کرتے ہوئے دفترِ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ اس حوالے سے وزارت داخلہ ہی کوئی بات کر سکتی ہے۔ ’برطانیہ سے عدالتی امور پر مختلف سطح پر تعاون ہوتا رہتا ہے، البتہ تحویلِ ملزمان کے کسی رسمی معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان میں سزائے موت کا قانون ہے‘۔ پاکستانی جیلوں میں بھارتی جنگی قیدیوں کی موجودگی سے متعلق انہوں نے کہا کہ حکومت کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے، تاہم چونکہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے اس لیے ہم نے لاپتہ بھارتی جنگی قیدیوں کے ورثاء کو مطمئن کرنے کے لیے پاکستان آنے کی سہولت دی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان یکطرفہ طور پر متعدد بار عام بھارتی قیدیوں اور مچھیروں کو چھوڑ چکا ہے۔ ’بھارت بھی اپنی جیلوں میں بند پانچ سو کے لگ بھگ پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے‘۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے معاملے پر پاکستان ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کرچکا ہے، تاہم بھارت کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی جواب نہیں ملا۔ |
اسی بارے میں ’ کشمیر کے حل کا عمل جلد شروع ‘02 May, 2007 | پاکستان ’من موہن کی تقریر مثبت ہے‘24 March, 2006 | پاکستان سیاچین: حل کے لیے ڈیڈ لائن مقرر 04 October, 2005 | پاکستان ’کشمیر: بس سروس رک بھی سکتی ہے‘22 May, 2005 | پاکستان 40 فیصدغریب جنوبی ایشیا میں25 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||