BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 February, 2007, 13:29 GMT 18:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور: لواحقین کو ویزے جاری

زاہد علی
زاہد علی کے بھائی کا خاندان اس حادثے میں متاثر ہوا ہے
بھارتی ہائی کمیشن نے لاہور میں اپنے عارضی دفتر سے اٹھارہ فروری کو پانی پت میں آتشزدگی کا شکار ہونے والی ٹرین کے مسافروں کے رشتہ داروں کو ویزے جاری کرنا شرو ع کر دیے ہیں۔

لاہور میں انڈین ایئر لائن کے دفتر میں بنائے گئے عارضی ویزا کیمپ میں ہائی کمیشن کے افسر مانس کمار مصطفٰی نے بی بی سی کو بتایا کہ شام تک چالیس افراد کو ویزے جاری کردیے گئے تھے۔

ملک کے دور دراز علاقوں سے حادثے کے متاثرین کے لواحقین لاہور پہنچ رہے ہیں جن میں زیادہ تر لوگوں کا تعلق سندھ سے ہے جن کے اعزاء اپنے منقسم خاندان سے ملنے ہندوستان گئے تھے۔

بھارتی ویزا افسر کے مطابق لواحقین کو واہگہ سے سڑک کے ذریعے پیدل سرحد پار کرنے کے لیے ویزا دیا جائے گا اور بعد میں وہاں سے سرکاری گاڑیاں انہیں آگے پہنچانے کا انتظام کریں گی۔

 جو مسافر واپس آئے ہیں وہ بتا رہے ہیں کہ پانی پت دھماکہ کے بعد بھارتی حکام نے امداد کی بجائے ان سے تفتیش شروع کردی۔ اب پتہ نہیں وہ ہسپتال میں ان سے کیا سلوک کررہے ہوں گے۔
رانا شبیر

میر پور خاص (سندھ) سے ویزا حاصل کرنے کے لیے آئے ہوئے ایک بزرگ احمد علی نے کہا کہ ان کے بھائی فتح محمد، ان کی بیوی اور ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی، بھابھی اور دو بچیوں کا پتہ نہیں چل رہا جبکہ ان کے دو بھتیجے زخمی حالت میں ہسپتال میں ہیں۔

فتح محمد جے پور اپنی بہن اور بہنوئی سے ملنے گئے تھے جو حج کر کے واپس آئے ہیں اور وہ انہیں اپنی لڑکیوں کی شادی کی دعوت دینے گئے تھے۔

احمد علی نے کہا کہ وہاں ان کے رشتے دار زخمی لڑکوں ندیم اور شکیل کی دیکھ بھال کے لیے موجود تو ہیں لیکن ان سے صبر نہیں ہورہا اور وہ خود جانا چاہتے ہیں کہ دیکھیں کہ باقی چار لوگوں کا کیا بنا۔ ان کا کہنا تھا کہ میر پور میں ان گھر میں دو دن سے رونا پیٹنا مچا ہوا ہے اور غم سے اہل خانہ نے کھانا نہیں کھایا۔

احمد علی نے روتے ہوئے کہا۔ ’میرا تو سارا خاندان چلا گیا، یار‘۔

پانی پت واقعہ کی خبر سن کر حیدرآباد (سندھ) سے منگل کی صبح لاہور آنےوالے ایک بزرگ زاہد حسین اور ان کا بھتیجا ویزا لینے کے لیے انڈین ایئر لائن کے دفتر میں موجود تھے۔

رانا شبیر
’ویزا دینے کے لیے ہائی کمیشن کے حکام زیادہ کاغدات نہیں مانگ رہے‘

زاہد کے بھائی تسلیم، ان کی بیوی نفیسہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا پانی پت واقعے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔تسلیم حیدرآباد میں چوڑیاں بنانے کا کام کرتے تھے۔ مرحوم کے پانچ بچے حیدرآباد میں رہتے ہیں۔

زاہد حسین نے کہا کہ انہوں نے بھارت میں اپنے عزیزوں سے فون پر رابطہ کیا تھا وہ پانی پت پہنچ گئے تھے اور میتیں لے کر سکندر راؤ (یو پی) میں اپنے گاؤں چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میتوں کی تدفین بھارت میں ہوگی کیونکہ لاشیں ایسی حالت میں نہیں ہیں کہ پاکستان لائی جائیں۔

زاہد حسین نے کہا کہ ان کے بھائی تسلیم اپنی سگی ماں سے ملنے سترہ سال بعد بھارت گئے تھے جبکہ اس دوران ان کے والد اور سسر کا بھی بھارت میں انتقال ہو چکا تھا۔

فیصل آباد سے ایک نوجوان رانا شبیر احمد اپنے والد کے ساتھ ویزے کے لیے فارم پر کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے چچا رانا شوکت علی، ان کی بیوی اور ان کے چھ بچے سمجھوتہ ایکسپریس کے ذریعے دلی سے واپس لاہور آرہے تھے۔

احمد علی
’میرا تو سارا خاندان چلا گیا، یار‘

رانا شبیر نے کہا کہ واپس پہنچنے والے مسافروں نے انہیں بتایا کہ ان کے چچا، چچی اور اور ایک گود کی بچی بری طرح جھلسے ہوئے ہیں جنہوں نے ٹرین سے کود کر اپنی جان بچائی اور دلی کے ایک ہسپتال میں داخل ہیں جبکہ تین لڑکے اور دو لڑکیاں ٹرین میں جل کر ہلاک ہوگئے ہیں۔

رانا شبیر نے کہا کہ ان کے چچا سمن آباد فیصل آباد میں دکاندار تھے اور بائیس جنوری کو دلی کی ملا کالونی میں رہائش پذیر اپنے ماموں زاد بھائی سے ملنے گئے تھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ بھارت میں رشتے داروں کے ہوتے ہوئے وہ وہاں کیوں جا رہے ہیں تو رانا شبیر نے کہا کہ ان کے رشتے دار دلی میں موجود تو ہیں لیکن ان کے جانے سے ان کے چچا کو حوصلہ ہوگا۔ان کی دیکھ بھال کے لیے کچھ تو کریں گے۔

رانا شبیر نے کہا کہ جو مسافر واپس آئے ہیں وہ بتا رہے ہیں کہ پانی پت دھماکے کے بعد بھارتی حکام نے امداد کے بجائے ان سے تفتیش شروع کردی۔ ’اب پتہ نہیں وہ ہسپتال میں ان سے کیا سلوک کررہے ہوں گے۔’

فرزانہ
بھائی کی خیریت پوچھنے دلی جانا چاہتی ہوں: فرزانہ

رانا شبیر نے کہا کہ ویزا دینے کے لیے ہائی کمیشن کے حکام ان سے زیادہ کاغذات نہیں مانگ رہے بلکہ صرف فارم پر کرنے کو کہہ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ فارم پر رہائش کا پتہ وہی لکھیں جو ان کے چچا کا تھا۔

لاہور سے فرزانہ بی بی اپنے خاوند کے ساتھ ویزا لینے آئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے چچا زاد بھائی ہندوستانی شہری ہیں اور اپنے دو بیٹوں کے ساتھ دلی سے پاکستان ان سے ملنے آرہے تھے کہ یہ واقعہ ہوگیا۔ فرزانہ کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے پریشانی پھیل گئی ہے اور اب وہ اپنے بھائی کی خیریت پوچھنے دلی جانا چاہتی ہیں۔

اسی بارے میں
فون ہیلپ لائن، ویزا کی سہولت
19 February, 2007 | پاکستان
ہلاک شدگان کے لیے معاوضہ
19 February, 2007 | پاکستان
ٹرین لاہور پہنچ گئی
19 February, 2007 | پاکستان
لواحقین کے لیے خصوصی ٹرین
19 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد