BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 February, 2007, 16:21 GMT 21:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹرین لاہور پہنچ گئی

سمجھوتہ ایکسپریس
دھماکوں سے متاثرہ افراد میں زیادہ تر پاکستانی ہیں
پانی پت کے قریب حادثہ کا شکار ہونے والی ٹرین سمجھوتہ ایکپریس کے پانچ سو سے زیادہ مسافر شام پونے نو بجے لاہور ریلوے سٹیشن پہنچ گئے ہیں۔

تاہم ہلاک ہونے والوں افراد کے ناموں کا اعلان نہ ہونے کی وجہ سے بیشتر مسافروں کے لواحقین بے یقینی کا شکار ہیں۔بھارتی حکام نےٹرین کے جلے ہوئے ڈبوں کو نکال کر ٹرین کو پاکستان روانہ کر دیا۔

اس سے پہلے سہ پہر تقریباً سوا چھ بجے سمجھوتہ ایکسپریس لاہور سے تیس کلومیٹر دور سرحدی سٹیشن واہگہ آ کر رکی تو چند لحموں کے لیے فضا میں مکمل خاموشی چھا گئی۔

ٹرین سے اترنے والی ایک خاتون بوہری کا چہرہ جھلسا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرین میں آگ لگنے سے ایسا ہوا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ بوہری اتنی دہشت زدہ تھیں کہ وہ بات شروع کرتے ہی رونے لگ جاتی تھیں۔

واہگہ سٹیشن پر مسافروں کا کسٹم اور امیگریشن ہونے کے بعد ٹرین انہیں لے کر لاہور سٹیشن کے لیے روانہ ہوئی۔

دلی سے واپس والے لاہور کے ایک شہری محمد یوسف نے بتایا کہ وہ اپنے بھائی سے مل کر واپس آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرین کو پاکستان پہنچنے میں دیر اس لیے ہوئی کہ بھارتی حکام گاڑی کی چیکنگ کر رہے تھے۔

پانی پت حادثہ کی تفصیل بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رات کا وقت تھا۔ بہت پریشانی تھی۔ ’ڈبہ سے باہر نکلے تو اندھیرا تھا۔ پتھر تھے۔ بہت پریشانی تھی۔ لوگ رو رہے تھے۔‘

’ڈبہ سے باہر نکلے تو اندھیرا تھا، لوگ رو رہے تھے۔

ایک خاتون کہنے لگیں کہ ہم نے ابھی کھانا ہی کھایا تھا کہ ہمارے اگلے ڈبہ میں آگ لگنے کا شور مچ گیا۔ ہم نے اپنی اپنی زنجیریں کھینچیں توگاڑی خود ہی رک گئی۔

مسافروں کا کہنا تھا کہ آگ لگی تو لوگوں نے افراتفری میں اپنا سامان گاڑی سے باہر پھینکا۔ کچھ لوگوں نے دوسروں کو بچانے کی کوشش کی تو آگ اتنی شدید تھی کہ منہ پر آ رہی تھی۔

مسافروں نے بتایا کہ انہیں جائے حادثہ کے بعد انبالہ سٹیشن پر گاڑی روک کر ان کی تواضع کی گئی۔

واہگہ اور لاہور سٹیشن پر بھارت سے آنے والے بعض مسافروں کے لواحقین انہیں لینے کے لیے آئے ہوئے تھے۔

ابھی تک ہلاک ہونے والے مسافروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا گیا اس لیے لوگ اپنے عزیز رشتے داروں کی خیریت کے بارے میں بے یقینی کا شکار تھے۔

کراچی سے آئےہوئے ظہیر احمد نے بتایا کہ ان کی ستر سالہ بہن اجمیر شریف سے خاندان میں ایک شادی میں شرکت کے لیے سمجھوتہ ایکسپریس سے آرہی ہیں لیکن انہیں معلوم نہیں کہ ان کا کیا بنا کیونکہ دونوں طرف حکام مرنے والوں کے نام نہیں بتا رہے۔

لاہور کے غلام محمد خاں اپنے والد عبدالقادر کا انتظار کررہے تھے جو دو ماہ پہلے رشتے داروں سے ملنے فیض آباد گئے تھے۔ انہیں بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے والد پر کیا بیتی۔

کراچی سے محمد حسین اپنی بیوی اور بیٹی کا انتظار کررہے تھے جو بیکانیر راجپوتانہ میں گئی تھیں جہاں ان کی ساس رہتی ہیں۔

محمد حسین کو اپنی بیوی اور بیٹی اسما کے بارے میں کوئی اطلاع تو نہیں تھی لیکن ان کو امید تھی کہ ان کے گھر والےخیریت سے ہوں گے کیونکہ وہ جس ڈبہ سے سفر کررہے تھے ان کے خیال میں وہ آگ سے محفوظ رہا ہے۔

پاکستانی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ بھارتی حکام نے چونسٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ ایک درجن سے زیادہ شدید زخمی دہلی ہسپتال میں داخل ہیں۔

پاکستان حکومت نے سمجھوتہ ایکسپریس (بھارت میں اٹاری سپیشل) میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے پانچ پانچ لاکھ اور زخمیوں کے لیے ایک ایک لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

لاہور میں انڈین ائیر لائن کے دفتر نے لواحقین کو ویزے فارم جاری کرنا شروع کردیئے ہیں۔

اسی بارے میں
فون ہیلپ لائن، ویزا کی سہولت
19 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد