پانچ ہلاکتوں کی تصدیق، چھ لاپتہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سمجھوتہ ایکسپریس میں ہلاک ہونے والوں میں سندھ سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے، جبکہ چھ افراد لاپتہ ہیں جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ وہ بھی سمجھوتہ ایکسپریس کے مسافر تھے۔ حیدرآباد کے علاقے لیاقت کالونی کے رہائشی تسلیم خان صدیقی، ان کی بیگم نفیسہ، اٹھارہ سالہ بیٹی مہرین، تیرہ سال بیٹا ساجد اور آٹھ سالہ بیٹا نورالعین اس حادثے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ تسلیم صدیقی حیدرآباد میں چوڑیوں کا کاروبار کرتے تھے، ان کے بیٹے محسن صدیقی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے والدین ڈیڑھ ماہ قبل فیروزآباد اترپردیش گئے تھے، جہاں ان کے ماموں وکیل صدیقی رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رات کو ان کے والدین دلی سے سمجھوتہ ایکسپریس میں سوار ہوئے تھے۔ صبح کو اٹھے تو حادثے کے بارے میں پتہ چلا۔ محسن صدیقی نے بتایا کہ وہ سارا دن پریشان رہے کیونکہ ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہورہا تھا۔ شام کو ان کے ماموں وکیل صدیقی نے ٹیلیفوں پر انہیں آگاہ کیا کہ ’میرے والد، والدہ، بہن اور دو بھائی اس حادثے میں فوت ہوگئے ہیں۔‘ محسن نے بتایا کہ ان کے اہلِ خانہ کی لاشوں کی شناخت ان تحائف سکی کی گئی جو ان کے ماموں نے اپنی بہن کو دیئے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ وکیل صدیقی لاشوں کو اپنے ساتھ لے جارہے ہیں اور ہندوستان میں ہی ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ محسن صدیقی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری ویزا فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنے والدین کی آخری رسومات میں شریک ہوسکیں۔ ادھر میرپورخاص کے ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے چھ افراد جو اس ٹرین میں سفر کر رہے تھے ابھی تک لاپتہ ہیں۔ فتح محمد، ان کی بیگم رئیسہ، دو بیٹیاں عائشہ، صاحبہ ، دو بیٹے شکیل اور ندیم ایک ماہ قبل جے پور اپنے رشتہ داروں کے پاس گئے تھے۔ | اسی بارے میں ’دھماکوں کی تحقیقات کرائیں‘19 February, 2007 | پاکستان فون ہیلپ لائن، ویزا کی سہولت19 February, 2007 | پاکستان ’سمجھوتہ ایکسپریس تخریب کاری کا نشانہ‘19 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||