ہلاک شدگان کے لیے معاوضہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے سمجھوتہ ایکسپریس میں ہلاک ہونے والوں کو فی کس پانچ لاکھ جبکہ زخمی ہونے والوں کو فی کس ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے پیر کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم شوکت عزیز نے بھارت سے پاکستان آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں کے بعد آگ لگنے سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے معاوضوں کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان حکومت فوجی مال بردار طیارہ سی ون تھرٹی ادویات لے کر بھارت جانے کے لیے تیار کھڑا ہے لیکن ابھی بھارتی حکام کے جواب کا انتظار ہے۔ ان کے مطابق اس طیارے میں واپسی پر زخمیوں کو لایا جائے گا۔ ترجمان نے بتایا کہ پنجاب حکومت کو کہا گیا ہے کہ وہ متاثرہ مسافروں کے رشتہ داروں کو بھارت پہنچانے کے لیے خصوصی بسیں چلائیں۔ ان کے مطابق دلی میں تعینات پاکستانی سفارتخانے کے عملے کے پانچ اراکین پر مشتمل ٹیم کو حادثے کی جگہ روانہ کیا گیا ہے جبکہ دیگر اہلکار زخمیوں کی دیکھ بھال پر بھی مامور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت وہ ریل گاڑی میں دھماکے کرنے والوں کے عزائم کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتیں لیکن ان کے بقول وہ پاکستانیوں کو نشانہ بنانے کے امکان کو رد بھی نہیں کرسکتیں۔ ترجمان نے اِس دہشت گردی کی کارروائی کا الزام بھارت پر لگانے سے گریز کیا اور اس بارے میں ان سے کئی سوالات بھی ہوئے کہ جب بھی بھارت میں کوئی واقعہ ہوتا ہے تو وہ پاکستان پر الزام لگاتے ہیں تو انہوں نے خاصا احتیاط برتا اور کہا کہ جب تک ثبوت نہیں ہوگا وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے توقع کرتا ہے کہ وہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرائیں اور نتائج کے بارے میں پاکستان کو مطلع کریں گے۔ ترجمان نے بتایا کہ ساڑھے سات سو مسافروں میں سے ساڑھے پانچ سو مسافروں سے زیادہ پاکستانی تھے۔ اب تک ان کے مطابق چھیاسٹھ مسافروں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق ریل کے ڈبوں کی جانچ کے بعد انہیں مہر بند کردیا تھا اور اس وجہ سے مسافر آگ لگنے کے بعد باہر نہیں آسکے۔ انہوں نے کہا ’مجھے نہیں پتہ کہ دونوں طرف سکیورٹی کے انتظامات کا طریقہ کار کیا ہے لیکن بوگیاں سِیل یعنی بند تھیں اور اس پر ریلوے حکام ہی بہتر بتاسکتے ہیں۔ لیکن دونوں ممالک کو اپنے اپنے علاقوں میں اس ریل گاڑی کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کرنے ہوں گے۔‘ تسنیم اسلم نے کہا کہ دونوں ممالک میں دہشت گردی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں اور پاکستان کا یقین ہے کہ ایسے واقعات سے امن مذاکرات کا عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری بیس سے تئیس فروری تک بھارت کا دورہ کر رہے ہیں اور وہ اس دوران بھارتی قیادت اور کشمیری رہنماؤں سے بھی ملیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جناب قصوری وقت بچانے کے لیے خصوصی طیارے میں دورہ کر رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کے بھارتی ہم منصب نے بھی خصوصی طیارہ استعمال کیا تھا۔ ایران میں تعینات پاکستانی سفیر کو طلب کیے جانے کے متعلق ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ایران کے دفتر خارجہ میں انہیں طلب نہیں کیا تھا بلکہ ملاقات کے لیے وہ گئے تھے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ایران کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان سے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے مکمل تعاون کرے گا۔ مبینہ طور پر ایران کے شہر زاہدان میں بم دھماکوں میں ملوث جند اللہ نامی شدت پسند جماعت کی پاکستان میں حیثیت کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس بات کا جواب سکیورٹی سے متعلق اداروں سے پوچھیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی کاموں پر کل تک الرشید ٹرسٹ کے کردار کو صدر مملکت سراہتے رہے اور اب ان کے پاکستان میں دفاتر بند کردیے گئے ہیں تو ترجمان نے کہا کہ وہ ان کا ذاتی عمل اور کردار تھا لیکن ان کے دفاتر بند کرنے اور اکاؤنٹ منجمند کرنے کا عمل اقوام متحدہ کی لگائی گئی پابندیوں کی تکمیل کے لیے کیا گیا۔ | اسی بارے میں امن مذاکرات جاری رہیں گے: پاکستان19 February, 2007 | پاکستان لواحقین کے لیے خصوصی ٹرین19 February, 2007 | پاکستان جلی ہوئی چوڑیاں اور کنگن19 February, 2007 | انڈیا ’لوگ جلتے ڈبوں سےکود رہے تھے‘19 February, 2007 | انڈیا واقعہ تشویش کی بات ہے: لالو19 February, 2007 | انڈیا ٹرین میں تخریب کاری: 66 ہلاک19 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||