’ کشمیر کے حل کا عمل جلد شروع ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق صدر سردار عبدالقیوم خان نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کا عمل جلد شروع ہوجائےگا کیونکہ دونوں طرف سے اس میں دلچسپی لی جا رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے نو روزہ دورے کے بعد انڈیا سے واپسی پر نامہ نگاروں سےگفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سردار عبدالقیوم نے دہلی میں ہونے والی ’ہارٹ ٹو ہارٹ‘ کانفرنس میں شرکت کی جس میں دونوں طرف کے کشمیری رہنما شامل تھے تاہم انہوں نے بتایا کہ اس کانفرنس میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی وادی سرینگر سے کسی اہم کشیمری لیڈر نے شرکت نہیں کی البتہ جموں کی لیڈر شپ موجود تھی۔ سردار قیوم نےکشمیر کے حل کے سلسلے میں ہندوستان کے جوابی رویہ کو بہت اچھا قرار دیا اور ساتھ ہی وضاحت کی کہ ان کا مطلب حکام کے رویے سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں طرف اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ امن ہونا چاہیے اور ہندوستان کے وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات میں انہوں نے امن کےعمل کو کامیاب بنانے کی بات کی ہے۔ کشمیری رہنما نے اپنے دورہ ہندوستان کو دونوں ملکوں کے تعلقات اور مسئلہ کشمیر کی حل کی جانب پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ ’یہ کوئی کم پیش رفت نہیں ہے کہ مجھے دشمن نمبر ون کہا جاتا تھا اور اب ساٹھ برس بعد مجھے ہندوستان جانے کی اجازت دی گئی‘۔ سردار عبدالقیوم خان نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر پر جو تجاویز دی ہیں ان پر بات چل رہی ہے اور ’ہمارا موقف ہے کہ امن کے لیے ہونے والے مذاکرات میں جو بھی کمی ہے اسے پورا کر کے اس عمل کو تیز کیا جانا چاہیے|‘۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی اور خودمختاری دو الگ باتیں ہیں اور وہ کہہ چکے ہیں کہ خود مختار کشمیر کی بات کا کوئی وجود نہیں ہے اور اس پر خواہ مخوا بحث نہ کی جائے۔ سردار قیوم نے کہا کہ ہندوستان میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی تحریک میں شامل اور قید افراد کی محفوظ واپسی کے عمل کی حمایت کریں گے تو انہوں نے اس کی حمایت کی۔ سردار قیوم نے کہا کہ کشمیر میں ’جنرل ایمنسٹی‘ ہونی چاہیے تاکہ تحریک کے لوگ رہا ہوکر اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ | اسی بارے میں ’دہلی میں سوچ بدل رہی ہے‘17 September, 2005 | پاکستان سردار قیوم دہلی جا رہے ہیں17 September, 2005 | پاکستان ’کشمیر پر قراردادیں بےکار‘19 December, 2006 | پاکستان ’کبھی نہیں کہا کہ میں مجاہد اول ہوں‘28 September, 2005 | پاکستان ریاست ہائےمتحدہ کشمیر کی تجویز 13 May, 2005 | پاکستان ’کشمیر درجہ بندی کا علم نہیں‘27 April, 2005 | پاکستان مظفرآباد: ملے جلے ردِ عمل کا اظہار 17 November, 2004 | پاکستان مشرف کی کشمیری رہنماؤں سےملاقات09 January, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||