BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 September, 2005, 16:06 GMT 21:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کبھی نہیں کہا کہ میں مجاہد اول ہوں‘

سردار عبدالقیوم
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عبدالقیوم نے بھارت اور پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے زیرانتظام کشمیر کے علاقوں میں فوج کم کریں اور جہاں آبادیاں ہیں وہاں سے فوری طور پر فوج کو ہٹایا جائے۔

یہ مطالبہ انہوں نے دلی سے واپسی پر اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات سے دونوں ممالک میں جاری جامع مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔

اس موقع پر مختلف سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے مزاحمتی تحریک ختم کردی ہے۔ جس پر ان کے مطابق کشمیری سیاسی رہنما بھی متفق ہیں۔

البتہ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ایک بار کشمیر کی آزادی کی تحریک ختم ہوگئی تو دوبارہ جنم نہیں لے سکے گی۔

سردار قیوم نے کہا پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بیسیوں تجاویز پر غور ہورہا ہے اور انہیں امید ہے کہ فریقین کے لیے قابل قبول حل نکل آئے گا۔

ان کی پریس کانفرنس کا بنیادی مقصد تو بھارت میں قیام کے دوران ان سے منسوب شایع کردہ اس بیان کی وضاحت کرنا تھی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ کشمیریوں کی شدت پسندی کی تحریک کو جائز نہیں سمجھتے۔

سردار قیوم
 سردار قیوم نے کہا پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بیسیوں تجاویز پر غور ہورہا ہے اور انہیں امید ہے کہ فریقین کے لیے قابل قبول حل نکل آئے گا۔

کشمیری رہنما نے کہا کہ متعلقہ خبر رساں ایجنسی نے بعد میں ان سے منسوب اس بیان پر معذرت بھی کی اور تردید بھی جاری کی تھی۔ ان کے اس بیان پر پاکستان کے کشمیری رہنماؤں نے سخت تنقید کی تھی۔

سردار قیوم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی کہتے ہیں کہ شدت پسندوں نے یورپی باشندوں کو اغوا کرکے غلط قدم اٹھایا تھا اور اس ان کی تحریک کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے بتایا کہ جب مولانا مودودی نے کہا تھا کہ کشمیر میں جہاد نہیں بلکہ فساد ہورہا ہے تو اس وقت ان کی انہوں نے مولانا کی مخالفت کی تھی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ خود کو مجاہد اول بھی کہتے ہیں اور کشمیریوں کی تحریک کی مخالفت بھی کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ’میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ کشمیر جہاد کے لیے پہلی گولی میں نے چلائی اور میں ہی مجاہد اول ہوں،۔

انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ لوگ ایسا کہتے ہیں اور اب آپ بیشک ایسا نہیں لکھیں،۔

سردار قیوم کا جواب
’میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ کشمیر جہاد کے لیے پہلی گولی میں نے چلائی اور میں ہی مجاہد اول ہوں،

سردار قیوم نے بھارت میں دونوں جانب کے کشمیری رہنماؤں کی ملاقات کو خاصی اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ اس سے انہیں ایک دوسرے کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ جب بھی کشمیری ملتے ہیں تو لڑائی ہوتی ہے لیکن ان کے بقول دلی میں ایسا نہیں ہوا۔

انہوں نے بھارت کے مختلف سیاسی رہنماؤں اور دانشوروں سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیل بتائی اور کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کی کارروائیاں روکی جائیں۔ کیونکہ ان کے بقول بات چیت اور تشدد ساتھ ساتھ نہیں چل سکتا۔

لیکن سردار قیوم نے کہا کہ انہوں نے بھارتی سیاستدانوں اور دانشوروں سے کہا کہ جامع مذاکرات کی رفتار تیز کی جائے تاکہ جلد سے جلد مسئلہ حل ہوسکے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی اپنی بات پر قائم ہیں کہ اگر پاکستان بننے سے قبل جو حیثیت کشمیر کی تھی ( یعنی ڈوگرہ راج تھا) اور اگر آج وہ ہی حیثیت بحال کی جائے اور کرن سنگھ کو سربراہ بنایا جائے تو انہیں قبول ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے جان چھڑانے کے لیے ایسا سودا مہنگا نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد