BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 September, 2005, 07:21 GMT 12:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہلی میں سوچ بدل رہی ہے‘

سردار عبدالقیوم
پچاس سال میں پہلی مرتبہ ایل سو سی کے اس پار سے کوئی سیاسی رہنما بھارت جا رہے ہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم کو پچاس سال میں پہلی دفعہ بھارت جانے کی اجازت مل گئی ہے لیکن وہ اس دورے سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے سردار قیوم نے کہا کہ ’ یہ دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ پہلی بار دونوں طرف کے کشمیری رہنماؤں کو آپس میں براہ راست بات چیت کا موقع ملے گا۔‘

سردار عبدالقیوم خان نے کہا کہ وہ اس دورے سے زیادہ امیدیں اس لیے وابستہ نہیں کرنا چاہتے کہ حالات کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا ہے۔

سردار قیوم نے کہا ان کا یہ دورہ اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ دہلی گذشتہ پچاس سالوں سے ان کی مخالفت کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں دہلی جانے کی اجازت بھارت کی سوچ میں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں تھا کہ انہیں بھارت جانے کی اجازت مل جائے گی۔

سردار قیوم کا کہنا تھا کہ’اگرچہ میں اس کانفرنس سے بہت بڑی امیدیں نہیں رکھتا ہیں لیکن کشمیریوں کی اس طرح کی پہلی کانفرنس ہے اور وہ بھی دہلی میں ہورہی ہے اس لحاظ سے یہ بذات خود ایک پیش رفت ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں ہے لیکن جب کشمیری آپس میں مل بیٹھیں گے تو یہ بے مقصد تو نہیں ہوگا وہ کسی ایجنڈے پر بات کریں گے ۔

تاہم سردار عبدالقیوم خان کا کہنا تھا کہ ایجنڈہ پہلے سے طے شدہ نہیں ہے بلکہ ایجنڈہ دہلی میں ہی طے ہوگا کہ کس پر بات کرنی ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کشیمری کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں تو وہ دونوں ملکوں کے سامنے اپنی سفارشات رکھیں گے لیکن اس پر عمل درآمد کی کوئی ضمانت نہیں ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے دورہ دہلی کے بارے میں حکومت پاکستان سے نہیں پوچھا اور نہ ہی ان سے مشورہ کیا ۔

سردار قیوم نے کہا کہ انہیں دورے سے پہلے پاکستانی حکام سے مشورے کی ضرورت اس لیے محسوس نہیں ہوئی کیونکہ پاکستان کے مفادات کا جتنا علم اور دھیان وہ رکھتے ہیں شاید پاکستان کی حکومت کے حکام بھی نہ رکھتے ہوں۔

سردار عبدالقیوم خان نے کہا کہ وہ اپنے ایک ہفتے کے دورے کے دوران بھارت کے سیاست دانوں سے بھی ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ سے بھی ان کی ملاقات کے امکانات ہیں ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد