| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’کشمیری سب سےمذاکرات کریں‘
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سابق صدر اور وزیرِ اعظم سردار عبدالقیوم خان نے کہا ہے کہ وہ بھارتی کشمیر میں میانہ رو سیاسی گروہوں اور بھارتی حکومت کے درمیان امن مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں۔ سردار عبدالقیوم نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ وہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے عباس انصاری کے دھڑے سے بھارتی حکومت کی بات چیت کی حمایت کرتے ہیں۔ انہیں کہا کہ عباس انصاری بڑے باشعور اور معروف سیاستدان ہیں اور وہ اپنی ساکھ کو کبھی داؤ پر نہیں لگائیں گے۔ ’مجھے پورا یقین ہے کہ وہ جو بات چیت کریں گے وہ ٹھیک ہو گی اور مفید ثابت ہو گی۔‘ سردار قیوم نے کہا کہ وہ اب نہیں بلکہ ہمیشہ سے بات چیت کے حق میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو ہر ایک سے بات چیت کرنی چاہیئے اور بھارت سے بات کرنا بھی اچھی بات ہے۔ ’بس اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ اپنی ساکھ خراب نہ ہو۔‘ حال ہی میں کل جماعتی حریت کانفرنس اس وقت دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی تھی جب سید علی شاہ گیلانی نے نسبتاً میانہ رو رہنماؤں سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کل جماعتی حریت کانفرنس کے سید علی شاہ گیلانی کے دھڑے کو تسلیم کرتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||