BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 September, 2005, 02:03 GMT 07:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سردار قیوم دہلی جا رہے ہیں

سردار عبدالقیوم
پچاس سال میں پہلی مرتبہ ایل سو سی کے اس پار سے کوئی سیاسی رہنما بھارت جا رہے ہیں
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اہم رہنما اور سابق وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان کی سربراہی میں ایک پندرہ رکنی وفد بھارت کے سرکاری امداد سے چلنے والے ادارے انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز کی دعوت پر ایک ہفتے کے دورے پر سنیچر کے روز دہلی جا رہا ہے جہاں وہ دونوں اطراف کے کشمیریوں کی کانفرنس کی میں شرکت کرے گا۔

برصغیر کی تقسیم کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے سیاسی رہنما بھارت جا رہے ہیں ۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ دورہ بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کے عمل کے باعث ممکن ہوا ہے ۔

ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں انڈین کونسل آف ورلڈ افیئرز کے زیر اہتمام بیس ستمبر سے شروع ہونے والی تین روزہ کانفرنس میں کشمیر کے دونوں اطراف سے مختلف نظریات کے حامل سیاسی رہنماؤں کے علاوہ دانشوروں کو مدعو کیا گیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے سردار عبدالقیوم خان کی سربراہی میں جانے والے ودفد میں کشمیر کے اس علاقے کی کابینہ کے وزیر حافظ حامد رضا ، وزیراعظم کے مشیر راجہ فاروق حیدر خان اور حکومت کی اتحادی جماعت جمعیت علماء اسلام جموں کشمیر کے سربراہ اور رکن قانون ساز اسمبلی پیر عتیق الرحمان فیض پوری شامل ہیں۔

اگرچہ دونوں طرف کے کشمیری رہنماؤں کے درمیان مختلف اوقات میں مختلف جگہوں پر ملاقاتیں تو ہوتی رہیں لیکن یہ ملاقاتیں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے علحیدگی پسند رہنماؤں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہنماؤں کے درمیان محدود رہیں ۔لیکن اس بار یہ اسلئے اہم ہے کہ پہلی مرتبہ ریاست کشمیر کا ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے حامی سیاسی رہنماؤں سے لے کر خودمختار کشمیر کے حامی لوگ آپس میں مل رہے ہیں ۔

اس کانفرنس کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ دہلی میں ہو رہی ہے اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے سیاسی رہنما اٹھاون سالوں میں پہلی مرتبہ دہلی جارہے ہیں۔

واضع رہے کہ سردار عبدالقیوم سمیت کشمیر کے اس علاقے کے کئی رہنماؤں نے جمعے سے جموں یونیورسٹی کے زیر اہتمام جموں میں شروع ہونے والی دو روزہ کانفرنس میں شرکت کرنے سے اسلئے معذوری ظاہر کی تھی کہ وہ جموں بھارتی ویزے پر نہیں جائیں گے کیوں کہ ان کے خیال میں ایسا کرنا کشمیر پر ہندوستان کی حکمرانی تسلیم کرنے کے مترادف تھا جموں کے دورے سے انکار والوں میں صرف وہ سیاسی رہنما ہیں جو کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق کے خواہاں ہیں ۔

لیکن ان رہنماؤں نے جموں جانے سے انکار اپنے طور پر کیا یا کسی کے کہنے پر اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ البتہ جموں میں ہارٹ ٹو ہارٹ کانفرنس میں شرکت کے لیے کشمیر کے اس علاقے سے ایک آٹھ رکنی وفدگیا جس میں خود مختار کشمیر کی حامی تنظیموں پر مشتمل کل جماعتی اتحاد کے سربراہ عارف شاہد بھی شامل ہیں۔

جموں جانے والے لوگ بعد میں دہلی کی کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے۔

واضع رہے کہ جموں اور دہلی میں ہونے والی کانفرنسوں کے انعقاد میں تعاون بعض کشمیری سیاست دانوں اور دانشوروں پر مشتمل کوآرڈینشن کمیٹی کر رہی ہے۔ اس کمیٹی کے منتظم بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ایک سیاست دان بھیم سنگھ ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد