BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 January, 2004, 17:43 GMT 22:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کی کشمیری رہنماؤں سےملاقات

سری نگر میں ایک مظاہرے کا منظر (فائل فوٹو)

صدر جنرل پرویز مشرف نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والی حالیہ بات چیت پر کشمیری رہنماؤں کو اعتماد میں لینے کے لیے ان سے جمعرات کے روز ملاقات کی جس میں انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان سری نگر او رمظفرآباد بس سروس کے لیے تیار ہے۔

اس ملاقات میں دوسروں کے علاوہ آزاد کشمیر کے وزیراعظم سکندر حیات خان، صدر سردار انور، حزب اختلاف کے رہنما بیرسٹر سلطان چودھری اور مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عبدالقیوم اور حریت کانفرنس کے پاکستان میں رہنما نذیر شال شامل تھے۔

وزیراطلاعات شیخ رشید نے اس ملاقات کے بارے میں بتایا کہ یہ ملاقات خوش گوار ماحول میں ہوئی اور صدر نے کشمیری رہنماؤں کو یقین دلایا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے کسی حل کے لیے کشمیری قیادت کو اعتماد میں لےگا کیونکہ پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ کشمیری اس مسئلہ کے تیسرے بڑے اہم فریق ہیں جن کی مرضی و منشا کے بغیر اس مسئلہ کا کوئی حل دیرپا نہیں ہوسکتا۔

صدر مشرف نے ان ملاقاتوں میں کہا ہے کہ کشمیر کے معاملہ پر کوئی خفیہ سمجھوتہ نہیں ہوا ہے اور پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بات چیت کے لیے جو سمجھوتے ہوئے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔

صدر مشرف نے ان کشمیری رہنماؤں کو بتایا کہ پاکستان اور ہندوستان کے مذاکرات میں کشمیر کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی اور دونوں طرف کی کشمیری قیادت کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اعتماد میں لیا جائے گا۔

صدر مشرف نے ان رہنماؤں کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان اصولی طور پر دونوں طرف کے کشمیری عوام کے درمیان رابطوں کے حق میں ہے اور سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس کے ذریعے یہ رابطے ممکن ہیں، جس پر بات چیت کے لیے پاکستان تیار ہے۔

ملاقات کے بعد سردار عبدالقیوم نے کہا کہ کشمیری قیادت صدر مشرف کی کشمیر پالیسی کی حمایت کرتی ہے۔ تاہم بیرسٹر سلطان محمود نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں میں مذاکرات کے بارے میں شکوک شبہات پائے جاتےہیں۔

انھوں نے کہا کہ کشمیریوں کو بات چیت کے عمل میں شریک کیا جانا چاہیے۔

بیرسٹر سلطان نے کہا کہ ’صدر مشرف کی حالیہ دو ملاقاتوں سے شکوک دور کرنے میں مدد تو ملی ہے لیکن کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینے کے لیے پاکستان نے تاخیر سے کام لیا ہے۔ پہلے پاکستان نے سیز فائر کردیا اور پھر ہندوستان نے باڑ لگادی۔ اب ضرورت ہےکہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں حریت کانفرنس کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہندوستان سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کے لیے وقتی طور پر خطے میں امن قائم کرنا چاہتا ہے۔ عالمی برادری بھی مذاکرات چاہتی ہے لیکن اگر ایک بار جہاد رک گیا تو اسے دوبارہ شروع کرنے میں وقت لگے گا۔‘

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے صدر سردار انور نے کہا کہ صدر مشرف سے ملاقات کا مجموعی تاثر اچھا ہے اور اس سے شکوک ختم کرنے میں مدد ملی ہے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم سکندر حیات نے کہا ہے کہ سارک کانفرنس سے پہلے اور بعد میں کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینے کا اقدام خوش آئند ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد