میرے والد کو سامنے لایا جائے: شاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے ضلع تربت کے ایک کسان کے اہل خانہ نے شکایت کی ہے کہ وہ ڈھائی ماہ قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد سے لاپتہ ہے۔ انہوں نے حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کہ ہے کہ وہ لاپتہ شخص کی بازیابی کے لیے اقدامات کریں۔ پیر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کے ضلع تربت کی تحصیل تمپ کے ایک کاشتکار عبدالواحد کمبر کی 14 سالہ بیٹی شاری نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے والد کو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے 14 مارچ کو مند اوتمپ سے حراست میں لیا تھا اس کے بعد سے آج تک ان کا کوئی پتہ نہیں اور نہ ہی ان کے گھر والوں اور وکیل کو ان کی صحت اور حراست کے مقام کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔ شاری کا کہنا تھا ’میرے والد کو بیگناہ پکڑا گیا ہے۔ کئی ماہ ہوگئے ہیں میں ان سے نہیں ملی اور ہمیں یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں انہیں ایسے لا پتہ کیا گیا ہے جیسے ان کا کوئی قصور ہو۔ اگر انہوں نے کوئی گناہ کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے اور انہیں ایسے گمشدہ نہ رکھا جائے‘۔ شاری نے کہا کہ ’ملک کے صدر جنرل پرویز مشرف کو بھی خیال کرنا چاہیے، ان کے بھی بچے ہیں اگر ان کو کوئی اس طرح اٹھاکر لے جائے تو ان کے بچوں پر کیا گزرے گی‘۔
پریس کانفرنس میں عبدالواحد کمبر کے دیگر رشتے داروں کے ساتھ ساتھ ان کی اہلیہ بھی موجود تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایس پی آر کے ترجمان نے ان کے شوہر کی گرفتاری کی تصدیق کی تھی اور ان کا یہ بیان مختلف اخبارات کے علاوہ الیکٹرانک میڈیا سے بھی نشر ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر کی گرفتاری کی تصدیق کے بعد انہیں اس طرح ’لاپتہ کر دینے‘ کا کیا جواز بنتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست بھی داخل کی ہے جس پر عدالت عالیہ نے حکومت بلوچستان اور قانون نافذ کرنے والے مختلف اداروں کے حکام کو نوٹس جاری کر کے دس دن میں رپورٹ طلب کی تھی لیکن اس ضمن میں کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ انہوں حکومت اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ عبدالواحد کمبر کی بازیابی کے لیے اقدامات کریں۔ واضح رہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے پراسرار حراست کے بعد لاپتہ ہونے والے درجنوں افراد کے اہل خانہ نے ان کی بازیابی کے لیے ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں درخواستیں داخل کررکھی ہیں جن میں زیادہ تر لاپتہ افراد کا تعلق صوبہ بلوچستان سے ہے۔ |
اسی بارے میں سرحد: آٹھ لاپتہ افراد کی واپسی24 May, 2007 | پاکستان سابق ڈی آئی جی عدالتی تحویل میں19 May, 2007 | پاکستان پرل کیس: اہم ملزم کا انتقال18 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||