BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 June, 2007, 20:54 GMT 01:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارہ مئی واقعے کے پٹیشنر لاپتہ

فائل فوٹو: بارہ مئی کو کراچی میں ہونے والا تشدد
سندھ ہائی کورٹ میں بارہ مئی واقعے کے خلاف اور پیمرا کےترمیمی آرڈیننس کو چیلنج کرنے والے درخواست گزار اقبال کاظمی لاپتہ ہوگئے ہیں۔

اقبال کاظمی نے ایک عام شہری کی حیثیت سے سندھ ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی تھی جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بارہ مئی کے واقعات میں وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین، صوبائی مشیر داخلہ، وفاقی سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ، سی سی پی او کراچی کو فریق بنایا جائے اور جوڈیشل انکوائری مقرر کی جائے۔

عدالت نے یکم جون کو تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے تھے۔ اقبال کاظمی نے منگل کے روز سندھ ہائی کورٹ میں پیمرا آرڈیننس اور ٹی وی چینلز کی نشریات بند کرنے کو چیلنج کیا تھا۔

 پٹیشن میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بارہ مئی کے واقعات میں وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین، صوبائی مشیر داخلہ، وفاقی سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ، سی سی پی او کراچی کو فریق بنایا جائے اور جوڈیشل انکوائری مقرر کی جائے۔
پٹیشن میں انہوں نے وفاقی حکومت کو بذریعے وزارت اطلاعات و نشریات، پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی یعنی پیمرا اور صوبائی وزارت اطلاعات کو فریق بنایا ہے۔

اس پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت آزادی صحافت کے دعوے
کرتی رہی ہے مگر اس کے برعکس آزادی سلب کرنے کے لیے مختلف آرڈیننس اور قوانین نافذ کیے جارہے ہیں جن میں پیمرا کا ترمیمی آرڈیننس بھی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حکومت کو سب سے زیادہ غصہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی کوریج پر ہے۔

اقبال کاظمی کی بیگم سعدیہ کاظمی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے شوہر دو پہر کو اپنے بیٹے کو نانی کے گھر گلستان جوہر چھوڑنے گئے تھے، تاخیر ہونے پر انہوں نے موبائل پر فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ راستے میں ہیں۔

بیگم کاظمی کے مطابق اس کے بعد شوہر سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے اور ان کا موبائل فون بھی بند ہے، اس صورتحال سے انہوں نے پولیس کو بھی آگاہ کردیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب سے ان کے شوہر نے بارہ مئی کے واقعے کے حوالے سے پٹیشن دائر کی ہے انہیں ٹیلیفون پر دھمکیاں ملتی رہی ہیں اور نامعلوم لوگ ان کا پیچھا کرتے رہے ہیں۔

سعدیہ کاظمی کا کہنا تھا کہ خفیہ ادارے والے بھی ہوسکتے ہیں اور کوئی اس صورتحال کا فائدہ لینا والا بھی ہوسکتا ہے مگر وہ یقین سے نہیں کہہ سکتیں کہ اس میں کون ملوث ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ انہیں بارہ مئی واقعے پر پٹیشن دائر کرنے کی سزا دی جارہی ہے۔

دو ہاتھیوں کی لڑائی
چیف جسٹس کی آمد پر عسکری طاقت کا مظاہرہ
کراچیکراچی میں قتل
شہر میں تشدد: خصوصی ضمیمہ
کراچیکراچی میں تشدد
سرمایہ کاری متاثر نہیں ہوگی
سازش میں اہم کردار
ایم کیو ایم کا فوج کے ہاتھوں استعمال
متحدہ کی وڈیو
وڈیو کراچی میں 12 مئی کے تشدد پر مبنی ہے
کراچی میں تشدد
امن خراب نہیں ہونے دیں گے : اسفندیار ولی
حماد رضا کے والد سید امجد حسین حماد کا قتل کیوں ہوا
’چیف جسٹس کو میرے بیٹے پر بہت اعتماد تھا‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد