احمد رضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | کراچی کی سڑکوں پر زندگی معمول پر رہی |
کراچی میں جمعہ کو متحدہ مجلس عمل اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہڑتال کی کال کا کوئی خاص اثر دیکھنے میں نہیں آیا اور کاروبار اور ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق رواں دواں رہے۔ متحدہ مجلس عمل نے اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنما واصف عزیز اور مسلم لیگ (ن) نے اپنے کارکن حشمت بنگش کے قتل کے خلاف شہر میں پہیہ جام ہڑتال کی کال دی تھی جنہیں گزشتہ دنوں مختلف علاقوں میں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کردیا تھا۔ ٹرانسپورٹرز کی تنظیموں نے جمعرات کو ہی ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کردیا تھا۔ ہڑتال کے موقع پر شہر کے تمام اہم کاروباری و تجارتی مراکز اور منڈیاں کھلی رہیں اور اسٹاک ایکسچنج میں بھی کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا جبکہ سرکاری و نجی دفاتر اور صنعتوں میں حاضریاں بھی معمول کے مطابق رہیں۔ بنارس، لانڈھی، قائدآباد، سہراب گوٹھ اور پٹیل پاڑہ سمیت بعض دیگر مضافاتی علاقوں میں سڑکوں پر ٹائر اور پرانا فرنیچر جلانے کے اکا دکا واقعات رونما ہوئے ہیں تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ شہر کے حساس علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے دو درجن سے زائد کارکنوں کو شہر کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیا گیا ہے۔ اسی طرح اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کا دعویٰ ہے کہ پولیس نے ان کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے اور 70 کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ کراچی پولیس کے سربراہ اظہر فاروقی نے گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے تاہم انہوں نے کہا ہے کہ گرفتار شدگان کی تعداد 80 کے قریب ہے جنہیں محکمہ داخلہ کے احکامات کے تحت نقص امن کے خدشے کی بناء پر گرفتار کیا گیا ہے اور انہیں سنیچر کو چھوڑ دیا جائے گا۔ |