BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 June, 2007, 15:55 GMT 20:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’لڑائی مہاجروں سے نہیں الطاف سے ہے‘

عمران خان
مہاجر پاکستان کے سب سے پڑھے لکھے لوگ ہیں: عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے کہا ہے کہ ایک کیو ایم کے رہنما الطاف حسین کے خلاف مقدمے کے لئے بدھ کے روز ان کی اپنے وکیل عمران خان کے ساتھ حتمی میٹنگ ہے جس کے بعد وہ ایک پریس کانفرنس میں اپنی آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے سوموار کو برطانوی پولیس کے ادارے سکاٹ لینڈ کے حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں انہوں نے اس سلسلے میں دستاویز فراہم کی ہیں۔
انصاف چاہتا ہوں
News image
 یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میرے لڑکے مارے جائیں اور میں چپ ہوکر بیٹھا رہوں۔ میں اس پارٹی کا رہنما ہوں اور میں انصاف چاہتا ہوں۔
عمران خان

عمران کا کہنا تھا کہ وہ برطانوی میڈیا کے توسط سے یہاں کہ عوام میں بھی الطاف حسین کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ’ایک طرف تو یہاں کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور دوسری طرف ہمارا ایک دہشت گرد یہاں بیٹھا ہوا ہے۔‘

عمران نے یہ واضح کیا کہ وہ نسلی بنیادوں پر سیاست پر یقین نہیں رکھتے اور ان کی لڑائی پاکستان کے مہاجروں سے نہیں بلکہ الطاف حسین سے ہے۔
’مہاجر پاکستان کے سب سے پڑھے لکھے لوگ ہیں اور شروع سے ہمارے کئی رہنما بھی مہاجر تھے جیسے لیاقت علی خان وغیرہ لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ ایم کیو ایم کو پاکستان کے قومی دھارے میں شامل ہونا چاہئیے اور صرف سندھ کے چند شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہئیے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر کراچی میں بارہ مئی کے تشدد کے واقعات میں ان کی جماعت کے کارکن ہلاک نہ ہوتے تو وہ کبھی بھی یہ جھگڑا شروع نہ کرتے۔ ’یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میرے لڑکے مارے جائیں اور میں چپ ہوکر بیٹھا رہوں۔ میں اس پارٹی کا رہنما ہوں اور میں انصاف چاہتا ہوں۔‘

پاکستان میں میڈیا پر حالیہ قانون سازی کے حوالے سے عمران خان نے میڈیا کے کردار کو سرہاتے ہوئے کہا کہ ’جب پاکستان کی جمہوری تاریخ لکھی جائے گی اس میں میڈیا کا نام سنہرے لفظوں سے لکھا جائے گا کیونکہ اس میڈیا نے حالیہ دنوں مہینوں میں عوام میں بہت زیادہ آگاہی پھیلائی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ بے نظیر اور نواز شریف کو پاکستان واپس آنا چاہئیے اور پارلیمانی جمہوریت میں حصہ لینا چاہئیے۔ ’میں ابھی میاں صاحب سے ملاقات کرنے جارہا ہوں اور انہیں تاکید کروں گا کہ وہ ضرور پاکستان واپس آئیں۔‘

فوج کے سیاسی کردار کے بارے میں عمران کا کہنا تھا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پنجاب تک میں عوام میں فوج کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے اور ’یہ کیسی فوج ہے جو سارے ذرائع پر قبضہ کر کے بیٹھی ہوئی ہے۔ یہ فوج اب لڑنے کے قابل نہیں رہی۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں سے جو جدو جہد شروع کی ہے وہ اب جاری رہے گی اور باقی جماعتوں کے رہنماؤں سے مل کر جمہوریت کے لئے اور پھر الیکشن کے لئے کام جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں
عمران خان لندن پہنچ گئے
02 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد