لیاری کی گینگ وار لوگ کی زندگی اجیرن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی گنجان آبادی کا قدیمی علاقہ لیاری ایک مرتبہ پھر لاقانونیت کی لپیٹ میں ہے جہاں ڈاکوؤں کے متحارب گروہوں کے ارکان ہاتھوں میں اسلحہ اٹھائے دنداتے پھررہے ہیں جبکہ پولیس ان کی بیخ کنی کی تجاویز پر محض غور کررہی ہے۔ ہفتہ کی رات بلوچ اتحاد کے سابق صدر سہراب بلوچ کو لیاری کے علاقے بغدادی میں فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا ہے۔ اس سے قبل جنوری دو ہزار پانچ میں بلوچ اتحاد کے چئرمین انور بھائی جان کو بھی قتل کیا جا چکا ہے۔ یہ تنظیم لیاری میں جاری گینگ وار کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہے۔ پولیس کے مطابق لیاری میں گزشتہ پانچ سال سے جاری گینگ وار کے دوران چار سو سے زیادہ افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں جن میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ لیاری میں حالیہ تعینات کردہ ایس پی فیاض خان نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ لیاری ٹاؤن پولیس نے اعلٰی حکام سے لیاری میں تعینات نفری کی تعداد ایک ہزار تک کرنے کی تجویز دی ہے جس کی موجودہ تعداد چار سو ہے۔
پولیس اہلکار کی تعداد میں اضافہ سے جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب لیاری سے منتخب قومی اسمبلی کے پپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن نبیل گبول نے پولیس کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے لیاری میں حالات کا خراب ہونا ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔ لیاری کے مکینوں نے بھی پولیس کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ پولیس کی دہشت گردوں اور بدمعاشوں کے ساتھ ملی بھگت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیاری کے بڑے مسائل لاقانونیت، بے روزگاری اور بجلی کی عدم فراہمی ہیں۔ ان لوگوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ لیاری میں مستقل امن قائم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کئے جائیں اورڈاکوؤں کے گروہوں سے نجات دلائی جائے۔ ایس پی فیاض خان نے بتایا کہ ان سے پہلے تعینات ایس پی لیاری پیر فرید جان سرہندی نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ لیاری میں پولیس اہلکار کی نفری بڑھائی جائے جس کی انہوں نے نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ اعلٰی حکام سے پرزور درخواست کی ہے اور وہ پر امید ہیں کہ پولیس نفری کی تعداد بہت جلد ایک ہزار کردی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کی تعداد بڑھنے سے علاقے میں پولیس چوکیوں کی تعداد بڑھانے میں مدد ملے گی جس سے لوگوں میں ایک جانب احساسِ تحفظ مستحکم ہوگا اور دوسری جانب شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت لیاری میں بدنامِ زمانہ ڈاکوؤں کے دونوں گروہوں کے سرغنہ منظر عام پر نہیں ہیں جس کی بناء پر دونوں گروہ کئی چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ ان گروہوں کے ارکان آپس میں مسلح ہو کر لڑتے ہیں اور جب پولیس موقع پر پہنچتی ہے تو یہ پولیس پر حملہ کردیتے ہیں لہذٰا ان گروہوں پر قابو پانے میں مشکلات درپیش ہیں۔ تاہم انہوں نے پولیس کی حالیہ کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جمعرات کو رحمان ڈکیت گروپ اور ارشد پپو گروپ کے ارکان میں مسلح تصادم ہوا جس میں رحمان ڈکیت گروہ کا ناصر عرف بابا مارا گیا۔ پولیس جب موقع پر پہنچی تو رحمان ڈکیت کے ارکان فرار ہوگئے مگر ارشد پپو گروہ کے ارکان نے پولیس پر حملہ کردیا جس سے پولیس کو مطلوب مجید عرف اسپیڈ اور اس کا ساتھی حسن مارے گئے۔ ان کے مرنے سے علاقے کے لوگوں میں پولیس کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے اور اب لوگ ڈاکووں کے گروہوں کے بارے میں پولیس کو معلومات فراہم کررہے ہیں۔ فیاض خان کے مطابق مجموعی امن و امان کی صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے۔ لیاری کے علاقے بغدادی کے رہائشی عبدالحمید نے بتایا کہ ْہر طرف ڈکیتی اور ڈاکو ہے اور کوئی بھی محفوظ نہیں ہیں۔ پولیس خود بھی محفوظ نہیں ہے۔ راتوں کو خاص طور پر گھر سے باہر نکلنا ناممکن ہے کیونکہ مختلف گروہ بن چکے ہیں اور وہ رات کو لڑتے ہیں فائرنگ کرتے ہیں اور عام لوگ بیچ میں آکر مارے جاتے ہیں،
ایک اور رہائشی پیر محمد نے بتایا کہ بھتہ خوری بہت ہے۔ ڈکیت گروہ کے لوگ بھتہ گن پوائنٹ پر لے جاتے ہیں جس کی وجہ سے کئی کارخانے اور دکانیں بند ہوچکی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیسڈاکوؤں سے ملی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ْجب یہ حکومت بلوچستان میں پہاڑوں میں جا کر بدمعاشوں کو مار سکتے ہیں تو کیا یہاں چند بدمعاشوں کو ختم نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ بدمعاش ختم نہیں ہونگے اس وقت تک بے روزگاری ختم نہیں ہو سکتی اور نہ ہی مستقل امن قائم ہو سکتا ہے۔ لیاری کا علاقہ پاکستان پپلزپارٹی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے جہاں سے منتخب قومی اسمبلی کے رکن نبیل گبول نے بتایا کہ لیاری ٹاسک فورس ختم کی گئی اور لیاری میں جان بوجھ کر الیکشن سے پہلے حالات خراب کئے جارہے ہیں تاکہ پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر نقصان پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ ْیہ گینگ وار کے جتنے بھی گینگ ہیں ان سب کے مختلف ایجنسیوں سے لنک ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس علاقے میں بدامنی ہو۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں مسلسل بدامنی کی فضاء کی وجہ سے پانچ ہزار خاندان نقل مکانی کرکے مواچھ گوٹھ یا ہاکس بے چلے گئے ہیں۔ اس وقت لیاری میں گیارہ یونین کونسل ہیں جن میں چھ یونین کونسل ان گینگ کے قبضے میں ہیں جس کی بنیاد پر یہاں سیاسی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دوسری جانب کوئی کام نہیں ہورہا ہے اور علاقے میں بجلی، پانی، نکاسی، اور دیگر مسائل ہیں لیکن لوگوں کو سب سے پہلے اپنی جانوں کا مسئلہ ہے۔ جبکہ پولیس کی موجودگی برائے نام ہے۔ نبیل گبول نے دعوٰی کیا کہ جمعرات کو تین افراد متحارب گروہوں کی آپس میں مسلح جھڑپ کے دوران مارے گئے جبکہ پولیس نے اس کو مقابلہ ظاہر کیا ہے حالانکہ پولیس تو دونوں گروہوں کے درمیان جھڑپ کے دوران داخل ہی نہیں ہوسکی تھی۔ | اسی بارے میں کراچی تشدد کے واقعات تین ہلاک15 August, 2007 | پاکستان ’مشہور میجر کلیم کیس ختم ہوگیا‘13 August, 2007 | پاکستان کراچی: دھماکہ کیس میں گرفتاری30 June, 2007 | پاکستان نشتر پارک دھماکہ، ملزمان کی پیشی18 June, 2007 | پاکستان آصف بالادی کے اہلخانہ کا احتجاج14 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||