’مشہور میجر کلیم کیس ختم ہوگیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے سولہ سال پرانے مشہور میجر کلیم اغواء کیس میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور ان کی جماعت کے اٹھارہ اہم رہنماؤں کو بری کیے جانے کے خلاف حکومت سندھ کی اپیل، خود حکومت کی درخواست پر خارج کردی ہے۔ جب کہ واقعے کے مدعی میجر کلیم اللہ کی جانب سے اسی سلسلے میں داخل کردہ ایک اور اپیل عدم پیروی پر مسترد کر دی ہے۔ میجر کلیم اللہ کو جو اب لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز ہیں، 20 جون 1991ء کو نواز شریف کے دور حکومت میں کراچی کے علاقے لانڈھی میں اغواء کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کا الزام انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ جو اس وقت مہاجر قومی موومنٹ تھی اس کے قائد الطاف حسین، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عمران فاروق اور سلیم شہزاد سمیت انیس رہنماؤں پر عائد کیا تھا۔ لانڈھی تھانے میں درج کرائی گئی ایف آئی آر میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ ایم کیو ایم کے ان رہنماؤں نے انہیں تین فوجی اہلکاروں سمیت اغواء کرلیا اور علاقے میں واقع وائٹ ہاؤس نامی مکان میں لے جاکر سخت تشدد کا نشانہ بنایا اور سات گھنٹے حبس بے جا میں رکھا۔ جس کے بعد پولیس نے علاقے میں پہنچ کر انہیں بازیاب کرایا۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سید غضنفر علی شاہ نے 9 جون 1993ء کو مقدمے کے تین گرفتار ملزمان اشفاق چیف، جاوید کاظمی اور حاجی جلال کو 30، 30 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ الطاف حسین، عمران فاروق، سلیم شہزاد، سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر صفدر باقری اور دیگر کو ان کی غیرموجودگی میں اشتہاری مجرم قرار دیتے ہوئے ستائس ستائس سال قید کی سزا کا حکم دیا تھا۔ اس وقت الطاف حسین لندن جا چکے تھے۔
ملزمان نے اس سزا کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی تھی جس پر کارروائی کرتے ہوئے 6 فروری 1998ء کو جسٹس ناظم حسین صدیقی اور جسٹس عبدالحمید ڈوگر پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سزا کو کالعدم قرار دیکر تمام ملزمان کر بری کردیا تھا۔ اس وقت بھی ملک میں نواز شریف برسراقتدار تھے۔ حکومت سندھ اور خود مقدمے کے مدعی لیفٹیننٹ کرنل کلیم اللہ نے عدالت کے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اپیلیں داخل کی تھیں۔ پیر کو سپریم کورٹ کے جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس حامد علی مرزا اور جسٹس غلام ربانی پر مشتمل سہ رکنی بینچ نے اپیلوں کی سماعت کی تو لیفٹیننٹ کرنل کلیم اللہ پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے پیروی نہ کرنے پر ان کی اپیل مسترد کردی۔ اسی نوعیت کی حکومت سندھ کی اپیل پر انچارج ایڈووکیٹ جنرل مسعود اے نورانی اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل قاضی خالد پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ حکومت الطاف حسین اور دیگر کی مقدمے سے بریت کے خلاف اپنی اپیل واپس لینا چاہتی ہے جس پر عدالت نے سرکار کی اپیل خارج کردی۔ واضح رہے کہ میجر کلیم کیس کو ایم کیو ایم کے خلاف جون انیس سو بانوے میں نواز شریف کے دور حکومت میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن کا اہم محرک سمجھا جاتا تھا جسے خود ایم کیو ایم اپنے خلاف ہونے والا بدترین آپریشن کہتی رہی ہے۔ | اسی بارے میں الطاف حسین متحدہ کی قیادت سے الگ؟05 January, 2007 | پاکستان الطاف حسین کا ’امن مشن‘15 November, 2004 | قلم اور کالم الطاف حسین بھارت جائیں گے23 October, 2004 | پاکستان الطاف حسین بھارت پہنچ گئے 04 November, 2004 | آس پاس سندھ کےحالات کہاں جارہے ہیں؟09.11.2002 | صفحۂ اول ڈاکٹرعمران فاروق معطل07.11.2002 | صفحۂ اول ایم کیو ایم کی مخالفت30.04.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||