آصف بالادی کے اہلخانہ کا احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سے چودہ ماہ قبل لاپتہ ہونے والے سندھ نیشنلسٹ فورم کے سربراہ آصف بالادی کے اہل خانہ نے یوم آزادی کے موقع پر پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتال کی ہے۔ آصف کے بیٹے جبران، بیٹی روپا اور بیوی سمیت سات افراد نے صبح سے شام تک علامتی بھوک ہڑتال کی۔ سندھ کی قوم پرست سیاست کے آصف بالادی گزشتہ سال چھبیس جون کو کراچی سے لاپتہ ہوگئے تھے۔ آصف بالادی کے بیٹے جبران بالادی کا کہنا تھا:’ آج پاکستان کی آزادی انہوں نے بتایا کہ گمشدگی کے پہلے ہفتے کے بعد سے آج تک ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے جس کی وجہ سے خاندان سخت ذہنی اذیت سے دوچار ہے اور ان کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے۔ روپا بالادی کا کہنا تھاکہ انہیں معلوم نہیں کہ ان کے والد کا کیا قصور ہے اگر ان کا کوئی قصور بھی ہے تو انہیں ظاہر کیا جائے اور عدالت میں پیش کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد نے ایسا کون سا جرم کرلیا ہے۔ وہ چودہ ماہ سے والد کی صورت کے لیے ترس رہے ہیں۔ 40 سالہ آصف بالادی 80 کی دہائی میں قوم پرست تنظیم ’جئے سندھ‘ کے پلیٹ فارم سے طالبعلم سیاست میں سرگرم رہے تاہم پارٹی میں اندرونی اختلافات کی بعد انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ سندھ کے ایک اور قوم پرست رہنماء اور جئے سندھ قومی محاذ کے مرکزی سیکریٹری جنرل امریکی شہریت کے حامل ڈاکٹر صفدر سرکی بھی گزشتہ برس سے لاپتہ ہیں۔ |
اسی بارے میں سندھ ہائی کورٹ میں دو لاپتہ پیش05 June, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے بھوک ہڑتال31 July, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد: سماعت جاری رہے گی06 June, 2007 | پاکستان بارہ مئی واقعے کے پٹیشنر لاپتہ06 June, 2007 | پاکستان لاپتہ بلوچ:چیف جسٹس نوٹس لیں14 June, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کیس: سماعت مؤخر06 August, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد پر اب جھوٹے مقدمے:الزام05 August, 2007 | پاکستان بلوچستان: 250 لاپتہ، 54 ہلاکتیں30 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||