لاپتہ افراد کیس: سماعت مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں مبیینہ طور پر لاپتہ افراد کے کیس کی سپریم کورٹ میں دوبارہ سماعت بیس اگست تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ پیر کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس جاوید بٹر پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی ڈویژن بینچ نے جب لاپتہ افراد کے کیس میں کارروائی کا آغاز کیا تو حال ہی میں تعینات کیے گۓ اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک عبدالقیوم نے عدالت کو استدعا کی کہ انہیں دو ہفتوں کی مہلت دی جائے تاکہ وہ لاپتہ افراد سے متعلق ایک تفصیلی بیان عدالت میں پیش کریں۔ اٹارنی جنرل کی جانب سے اختیار کیے گۓ مؤقف کے بعد اس حوالے سے عدالت نے لا پتہ افراد کے نمائندوں سے ان کی رائے پوچھی، جس پر مدعیان نے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل تفصیلی بیان دینا چاہتے ہیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ اس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت بیس اگست تک ملتوی کردی۔ سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کی کیس کی سماعت کے دوران سال دو ہزار پانچ سے لے کر آج تک سو سے زائد لاپتہ افراد بازیاب ہوچکے ہیں جبکہ کمیشن برائے انسانی حقوق کے مطابق ایک سو پچاس سے زائد افراد تاحال لا پتہ ہیں۔ | اسی بارے میں منیر مینگل اچانک منظرِ عام پر 06 August, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد پر اب جھوٹے مقدمے:الزام05 August, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد کے لیے بھوک ہڑتال31 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||