لاپتہ بلوچ:چیف جسٹس نوٹس لیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی ائرپورٹ سے لاپتہ ہونے والے بلوچ نوجوان لقمان عرف عثمان کے رشے داروں نے سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی گمشدگی کا نوٹس لیں۔ لقمان کی ہمشیرہ آمنہ کھوسو نے کراچی پریس کلب میں جمعرات کی شام ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ لقمان لاپتہ ہونے سے قبل دبئی میں برسر روزگار تھے اور چودہ جون دو ہزار چھ کو بارہ بجے کراچی ائرپورٹ پہنچنے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔ اس پریس کانفرنس میں لقمان کی والدہ اور اہلیہ بھی موجود تھیں جو شدید علیل تھیں۔ لقمان سات بچوں کا باپ اور گھر کا واحد کفیل ہے۔ آمنہ کھوسو کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی کا کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل کچھ لوگ ان کے گھر آئے تھے جنہوں نے بتایا کہ لقمان ملیر چھاؤنی میں خیریت سے ہے۔ آمنہ کے مطابق ان لوگوں نے اپنی شناخت کرائی تھی اس اطلاع کے بعد سےاہل خانہ کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کس قانون کے تحت لقمان کو حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں کیوں نہیں بتایا جا رہا ہے کہ انہوں نے کون سا جرم کیا ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے لاپتہ افراد کی درخواستوں کی سماعت اور ان کی تفصیلات طلب کرنے کے بعد مزید لاپتہ افراد کے رشےداروں نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔ | اسی بارے میں ’سپریم کورٹ ہماری مدد کرے‘29 May, 2007 | پاکستان لاپتہ افراد: سماعت جاری رہے گی06 June, 2007 | پاکستان سندھ پولیس کے سابق سربراہ لاپتہ06 June, 2007 | پاکستان سندھ ہائی کورٹ میں دو لاپتہ پیش05 June, 2007 | پاکستان ’دل میں ایک امید تو رہتی ہی ہے‘04 June, 2007 | پاکستان سرحد: آٹھ لاپتہ افراد کی واپسی24 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||