BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 May, 2007, 14:22 GMT 19:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سپریم کورٹ ہماری مدد کرے‘

لواحقین
لواحقین نے ہائیکورٹ میں گمشدگی کے خلاف پٹیشن بھی دائر کی تھی
کراچی سے تعلق رکھنے والے تین لاپتہ افراد کے لواحقین نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ ان کے رشتہ داروں کو بازیاب کرانے کی کوشش کی جائے۔

عطاالرحمان ، فیصل بھٹی اور محمد گلزار لون کے لواحقین کا الزام ہے کہ یہ افراد گزشتہ چار سالوں سے لاپتہ ہیں اور پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کے تحویل میں ہیں۔

لاپتہ افراد کے لواحقین کا مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ لاپتہ افراد کے مقدمے کی سماعت میں انہیں بھی شامل کرے تاکہ انہیں بھی انصاف میسر ہو اور اگر ان کے رشتہ دار مقدمات میں ملوث ہیں تو ان کی گرفتاری ظاہر کی جائے۔

لواحقین کے مطابق عطا الرحمان اور فیصل کو کراچی اور محمد گلزار کو پشاور سے حراست میں لیا گیا تھا۔ محمد گلزار کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں اور سامان لینے کے لیے پشاور گئے ہوئے تھے کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان کے برادرِ نسبتی نادر حسین نے بتایا کہ گلزار کا دبئی کا ویزہ لگا ہوا تھا اور جانے سے بیس روز قبل انہیں پشاور میں سی آئی ڈی نے گرفتار کیا تھا۔

نادر حسین کے مطابق انہیں سی آئی ڈی سے فون کیا گیا کہ آ کرگلزار کا سامان لے جائیں اور اگر کچھ خرچ کر سکیں تو انہیں چھڑوا لیں مگر نہ ’ہم پیسے جمع کر سکے اور نہ ہی ایک سال سے ان کا کوئی پتہ ہے۔بس ہمیں بار بار خاموش رہنے کو کہا گیا‘۔

’ہم پولیس کے ڈر کی وجہ سے مقدمہ درج نہیں کروا سکے‘

عطاالرحمان کو سنہ دو ہزار دو میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا اور فیصل بھٹی کو بھی اسی سال حراست میں لیا گیا تھا۔ ان دونوں کے لواحقین نے ہائیکورٹ میں ان کی گمشدگی کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی مگر بقول ان کے انہیں ریلیف نہیں ملا۔

ہائی کورٹ نے عطاالرحمان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرنے کا بھی حکم جاری کیا تھا مگر ان کے رشتہ داروں نے مقدمہ دائر نہیں کیا۔ عطاالرحمان کی بہن کلثوم کا اس بارے میں کہنا تھا کہ وہ لوگ پولیس کے ڈر کی وجہ سے مقدمہ درج نہیں کروا سکے اور انہیں ان کے مرحوم والد نے بھی روکا تھا کہ ’وہ تو بیٹا ہے اگر تمہیں موبائل میں اٹھا کر لے گئے تو پھر کیا کریں گے‘۔ کلثوم کا کہنا تھا کہ اب جس طرح لاپتہ افراد کی لیے کوشش ہو رہی ہے اس سے ان کی امید بندھی ہے اور وہ اسی امید کے سہارے آئی ہیں۔

فیصل بھٹی کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ ان کے بھائی فراز بھٹی کا کہنا ہے اخباروں میں ان کا تعلق لشکر جھنگوی سے بتایا گیا ہے مگر وہ کبھی کسی جماعت میں نہیں رہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی تو اس کے جواب میں ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس سندھ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ فیصل ان کی تحویل میں نہیں ہیں جس پر پٹیشن کو نمٹا دیا گیا۔ فراز بھٹی کے مطابق بیٹے کے غم میں والد اور والدہ فالج کے مریض بن چکے ہیں پورا گھر کسمپرسی کی صورتحال میں آگیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد