نشتر پارک دھماکہ، ملزمان کی پیشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی پولیس نے گزشتہ سال نشتر پارک میں ہونے والے بم دھماکے کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے دو ملزمان کو عدالت میں پیش کر دیا ہے۔ ان ملزمان کی گرفتاری کا انکشاف صوبائی محکمہ داخلہ نے جمعہ کی شب ذرائع ابلاغ کو جاری کردہ ایک اعلانیے میں کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سانحہ نشتر پارک میں ملوث خودکش بمبار اور اسکے گروہ کا پتہ چلا لیا گیا ہے اور حملہ آور کے دو ساتھیوں مفتی ذاکر اور رحمت اللہ کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے تاہم ان دونوں ملزمان کو کسی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا تھا۔ پیر کو کراچی پولیس نے مبینہ خودکش بمبار کے ان مشتبہ ساتھیوں کو انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کی انتظامی جج مسز قیصر اقبال کے روبرو پیش کیا اور تفتیش کے لیے ریمانڈ کی درخواست جمع کرائی جس میں ملزمان کی گرفتاری جمشید کوارٹرز کے علاقے سے ظاہر کی گئی۔ عدالت نے ملزمان کو 23 جون تک ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس کے مطابق اسی واقعے کا ایک اور ملزم سلطان محمود جیل میں قید ہے اور اسے بھی مقدمے میں شامل تفتیش کیا جائے گا۔ سرکاری دعوے کے مطابق خودکش حملہ آور محمد صدیق تھا جو صوبہ سرحد میں مانسہرہ کا رہنے والا تھا اور اس کا تعلق لشکر جھنگوی سے تھا۔ حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے حملہ آور کا جو سر ملا تھا اسکے اور اسکے گھروالوں کے ڈی این اے ٹیسٹ سے اسکی شناخت کی تصدیق ہوئی تھی۔ محکمہ داخلہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بم دھماکے میں ملوث حملہ آور اور اس کے گروہ کا ٹھکانہ صوبہ سرحد کے علاقے درہ آدم خیل میں ہے جس کا سربراہ امان اللہ عرف مفتی الیاس ہے جبکہ گروہ کے دیگر ارکان میں قاری عابد اقبال محسود، محمد خالد خان عرف ابرار، سلطان عرف محمود، مفتی ذاکر اور رحمت اللہ شامل ہیں۔ سرکاری دعوے کے مطابق یہ گروہ پاکستان اور افغانستان میں خودکش حملوں کے لیے لوگوں کو منتخب اور تیار کرنے میں ملوث رہا ہے جبکہ اس کا سربراہ امان اللہ عرف مفتی الیاس خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی بارودی جیکٹس تیار کرنے کا ماہر ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے نشترپارک بم حملے کی تیاری کراچی کے علاقے قصبہ کالونی اورنگی میں واقع ایک مکان میں کی تھی۔ یاد رہے کہ نشترپارک کراچی میں گزشتہ سال 11 اپریل کو عید میلادالنبی کے جلسے کے دوران ہونے والے خوفناک بم دھماکے میں 60 سے زائد لوگ ہلاک اور متعدد زخمی اور معذور ہوگئے تھے۔ مرنے والوں میں سنی تحریک کی پوری قیادت اور جماعت اہلسنت کے رہنما بھی شامل تھے۔ دریں اثناء سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ نشتر پارک بم دھماکے کے ملزمان کی گرفتاری کے بعد کراچی میں آج تک ہونے والے تمام خودکشن بم دہماکوں کا سراغ مل چکا ہے۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے پولیس افسران کے ساتھ پریس کانفرنس میں بتایا کہ نشتر پارک واقعہ انتہائی سنجیدہ تھا جس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے تھے مگر حکومت نے علماء کی مدد سے دانش مندانہ طریقے سے اسے حل کیا۔ کراچی پولیس چیف اظہر فاروقی نے بتایا کہ سن ہزار دو سے دو ہزار چھ تک دیگر تخریب کاری کی وارداتوں کے علاوہ آٹھ خودکش بم حملے ہوئے، جن میں دو مرتبہ امریکی سفارتخانے اور شیرٹن ہوٹل کے باہر فرانسیسی انجنیئرز کو نشانہ بنایا گیا ۔ تین امام بارگاہوں اور علامہ حسن ترابی پر حملہ ہوا۔ کراچی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے نشتر پارک کے خود کش بمبار کی شناخت کی گئی۔ ان کے مطابق خودکش بمبار اور اس کے بھائی کے ڈی این اے میں ممثالت پائی گئی اس کے بعد والدین کا بھی ڈی این ہوئی تو اس سے مزید تصدیق ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید تین ملزمان کی پولیس کی تلاش ہے وہ ان کے بارے میں تفصیلات نہیں بتا سکتے کیونکہ اس سے تفتیش متاثر ہوسکتی ہے مگر وہ حتمی طور پر کہہ سکتے ہیں ملزمان کے تانے بانے قبائلی علاقے سے ملتا ہے اور یہ لشکر جہنگوی سے منسلک گروپ ہے۔ | اسی بارے میں سڑکیں ویران، ہر کوئی محتاط13 April, 2006 | پاکستان کراچی میں احتجاج، لاہور بھی ہڑتال میں شامل12 April, 2006 | پاکستان کراچی:سبھی عدم تحفظ کا شکار 12 April, 2006 | پاکستان ’کیمرے کے ساتھ تمہیں بھی توڑ دونگا‘11 April, 2006 | پاکستان عید میلاد: دھماکے میں کم از کم ستاون ہلاک11 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||