BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 September, 2007, 23:38 GMT 04:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بارہ مئی، حلف نامے داخل کرائیں‘

عدالت بارہ مئی کے واقعات کی سماعت روزانہ کررہی ہے
کراچی میں بارہ مئی کے پرتشدد واقعات کے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے سندھ ہائی کورٹ کے سات رکنی بینچ نے شہر کے تمام متعلقہ تھانیداروں اور تعلقہ پولیس افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ بارہ مئی کے دن اپنی حدود میں رونما ہونے والے تشدد کے واقعات کے متعلق حلف نامے داخل کریں۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی کے سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ نے جمعرات کو درخواستوں کی سماعت شروع کی تو اس معاملے میں عدالت کی معاونت کے لئے مقرر قانون دان قاضی فیض عیسی اور خالد انور نے دلائل دیے۔

قاضی فیض عیسی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے بارہ مئی کے واقعات کے متعلق ان کے تیار کردہ سوالنامے کا جواب داخل نہیں کیا ہے بلکہ صرف اتنا لکھا ہے کہ صوبائی سیکریٹری داخلہ کا جواب ہی ان کا جواب ہے جبکہ رینجرز ایک وفاقی ادارہ ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل رضوان صدیقی نے عدالت سے کہا کہ رینجرز مکمل طور پر صوبائی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ان سے کہا کہ کیا اس پورے معاملے سے وفاقی حکومت کا کوئی تعلق نہیں تھا؟ کیا ایوان صدر میں اس پر کوئی اجلاس نہیں ہوا اور کیا وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس پر کوئی بحث نہیں ہوئی؟ اور اگر ہوئی ہے تو اسکی تفصیل عدالت میں کیوں پیش نہیں کی جاتی؟

عدالت میں موجود وفاقی وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکریٹری راشد مزاری کو طلب کر کے جسٹس سرمد جلال عثمانی نے پوچھا کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ وفاقی حکومت نے ان واقعات پر کیا کارروائی کی۔ راشد مزاری نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ اس پر جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ ’پھر کسے پتہ ہے اور اگر آپ کو کچھ نہیں پتہ تو آپ اسلام آباد سے سرکاری پیسے اور وقت کا ہرج کر کے یہاں کیوں آئے ہیں؟‘

عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر وفاقی حکومت کا جواب داخل کریں اور اس واقعے کے بعد جو بھی اجلاس ہوئے ان کی تفصیل پیش کریں۔

صوبائی سیکریٹری داخلہ غلام محمد محترم اور ان کے وکیل راجہ قریشی نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ داخلہ نے بارہ مئی کو ایم کیو ایم کو ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی تھی بلکہ یہ اجازت سٹی گورنمنٹ نے دی تھی۔

سیکریٹری داخلہ نے گزشتہ سماعت پر ایم کیو ایم کی ایک درخواست کی نقل پیش کی تھی جس میں وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے امور داخلہ وسیم اختر کو ریلی نکالنے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی تھی اور وسیم اختر کی جانب سے سیکریٹری داخلہ کو ضروری کارروائی کرنے کی تحریری ہدایت موجود تھی۔ عدالت نے انہیں اس خط کی اصل پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

تاہم جمعرات کو سیکریٹری داخلہ نے اس درخواست کی اصل کے بجائے ایم کیو ایم کی ایک دوسری درخواست کی نقل پیش کردی جس میں ریلی نکالنے کے لئے سٹی گورنمنٹ سے درخواست کی گئی تھی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس اجازت نامے کی اصل گم ہوگئی ہے۔ عدالت نے ان سے اس بارے میں حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت کی۔

راجہ قریشی نے کہا کہ صوبائی سیکریٹری داخلہ نے 12 مئی سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو خط لکھ کر آگاہ کیا تھا کہ 12 مئی کو سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان مسلح تصادم کا خطرہ ہے اور دہشتگردی بھی ہوسکتی ہے اس لئے وسیع تر عوامی مفاد میں چیف جسٹس کے دورے کو ملتوی کردیا جائے۔
عدالت نے ان سے کہا کہ جب یہ خطرہ تھا تو ایک سیاسی جماعت کو ریلی نکالنے کی ہدایت کیوں کی گئی۔

ملیر بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر اشرف سموں نے عدالت کو بتایا کہ بارہ مئی کے دن چیف جسٹس آف پاکستان کے استقبال کے لئے جانے والے وکلاء اور شہریوں کے جلوس پر ملیر ہالٹ کے مقام پر ایم کیو ایم کے جھنڈے بردار مسلح افراد نے سیدھی فائرنگ کی جس سے کچھ وکلاء زخمی بھی ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے 15 وکلاء کو اغواء کرلیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے اس واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا تھا۔ عدالت نے پولیس کو واقعے کی ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے حکومت سندھ کے وکیل راجہ قریشی کو بھی ہدایت کی کہ وہ بارہ مئی کو ہونے والے تشدد کے واقعات کی تمام ایف آئی آرز کا انگریزی ترجمہ 11 ستمبر تک عدالت میں جمع کرائیں اور سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ سات رکنی بینچ جمعرات سے ان درخواستوں کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کر رہا ہے۔

کراچیکراچی میں قتل
شہر میں تشدد: خصوصی ضمیمہ
سازش میں اہم کردار
ایم کیو ایم کا فوج کے ہاتھوں استعمال
رسول بخش پلیجو’ کراچی کا مسئلہ‘
ہتھیار نہیں ہتھیار بند ہیں: رسول بخش پلیجو
کراچیکراچی میں تشدد
سرمایہ کاری متاثر نہیں ہوگی
کراچی میں تشدد
امن خراب نہیں ہونے دیں گے : اسفندیار ولی
لیاری کے گینگ
لیاری جو مسلح گروہوں کے نرغےمیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد