’کراچی کو خطرہ ہتھیاربندوں سے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کی قوم پرست جماعت عوامی تحریک کے سربراہ رسول بخش پلیجو نے کہا کہ کراچی کو ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ہتھیار بندوں سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ لاہور پریس کلب میں پیر کو صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے رسول بخش پلیجو نے الزام لگایا کہ کراچی کے واقعات میں براہ راست صدر جنرل پرویز مشرف اور فوج ملوث ہیں۔ ’ان کی مدد کے بغیر ایم کیو ایم کچھ بھی نہیں ہے، یہ جتنے پہلوان ہیں ہمیں پتہ ہے‘۔ انہوں نے ایم کیو ایم کو سندھ اور سندھیوں کی دشمن تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے صوبائی اسمبلی سے ایک ایسا قانون منظور کروایا ہے جس کے تحت اب سندھیوں کو کراچی میں روزگار نہیں مل سکتا۔ انہوں نے طنزاً کہا کہ سندھ اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی دیگر جماعتیں بھی اتنی ہی عوام دوست ہیں جتنی کہ ایم کیو ایم، وگرنہ یہ قانوں کیسے منظور ہوسکتا تھا۔ عوامی تحریک کے رہنماء نے اپنے خطاب میں زیادہ تر ایم کیو ایم کے حوالے سے بات کی اور ان سے پوچھے گئے زیادہ تر سوالات بھی اسی موضوع سے متعلق تھے۔
رسول بخش پلیجو نے کہا کہ الطاف حسین ایک طرف سندھیوں کے لیے کراچی کے دروازے بند کر رہے ہیں جبکہ حیدر آباد میں پولیس کا ایک تھانیدار بھی سندھی نہیں ہو سکتا اور دوسری طرف شاہ عبداللطیف بھٹائی کا نام لے کر خود کو سندھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ’یہ ایسے ہی کہ وہ پشتونوں کا خون بہانے کے بعد کہیں رحمان بابا زندہ باد‘۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کو ڈاکوؤں کے حوالے کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے آئے دن کاروباری سندھی ہندوؤں کو اغوا کر کے ان سے کروڑوں روپے تاوان وصول کیا جا رہا ہے۔ ’یہ سندھیوں کو کنگال کرنے کی سازش ہے‘۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی میں ’دہشتگردی‘ کے خاتمے کے لیے وہ ایسے آپریشن کے حق میں نہیں ہیں جیسا نصیراللہ بابر نے کیا تھا۔ ’دہشتگردوں کے ماں باپ اور بہن بھائی ہمارے لیے قابل احترام ہیں، ان کی چار دیواری کا تقدس ہمیں بھی عزیز ہے‘۔ رسول بخش پلیجو کا کہنا تھا ’لیکن دہشتگردوں کو پکڑ کر عدالتوں میں لایا جائے اور دو چار کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے تو دہشتگردی ختم ہوجائے گی‘۔
پلیجو کے مطابق پاکستان ابھی تک غلام ہے۔ ’ہم انگریزوں کی غلامی سے نکل کر امریکہ کی غلامی میں چلے گئے ہیں، اس سے اچھی تو انگریزوں کی غلامی تھی جس میں ہمیں کم سے کم غلام کی حثیت تو دی گئی تھی۔ لیکن اب تو ظلم یہ ہے کہ ہمیں غلام بھی بنا رکھا ہے اور تسلیم بھی نہیں کرتے۔ ہم تو کہتے ہیں کہ ہم بھی امریکہ کے غلام ہیں، ہمیں بھی غلاموں کا درجہ دیا جائے۔ غلاموں کے بھی حقوق ہوتے ہیں، موجودہ حیثیت میں تو ہمیں وہ حقوق بھی نہیں مل رہے‘۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج پاکستان کو آزاد کروانا ہے اور اس سلسلے میں وکلاء کی تحریک بہت خوش آئند ہے۔ ’چھوٹے صوبے ہمیشہ پنجاب کو اسٹیبلشمنٹ کا ساتھی قرار دیتے رہے ہیں، لیکن پنجاب کے عوام نے عدلیہ کی آزادی کی اس تحریک میں جو کردار ادا کیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک کے نتیجے میں تبدیلی آئے گی، فتح عوام کی ہوگی اور فتح سامنے کھڑی نظر آ رہی ہے۔ ’عوام نے ساٹھ سالوں سے جو دکھ اٹھائے ہیں اب ایک لمحے میں ان کا مداوا ہو جائے گا‘۔ |
اسی بارے میں لاہور سے جانا منع، کراچی آنا منع27 May, 2007 | پاکستان بارہ مئی کی تحقیقات نہیں ہوں گی25 May, 2007 | پاکستان قوم پرستوں کی ہڑتال کی حمایت23 May, 2007 | پاکستان ایم کیو ایم فوج کے ہاتھوں میں؟17 May, 2007 | پاکستان کراچی ہلاکتیں، ایوانوں کا بائیکاٹ14 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||