ہائیکورٹ بنچ پر حکومتی اعتراض | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ حکومت کے وکیل راجہ قریشی نے بارہ مئی کے واقعات کے متعلق عدالتی رجسٹرار کے ریفرنس اور مختلف آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے سندھ ہائی کورٹ کے سات رکنی بینچ پر اعتراض کیا ہے اور عدالت سے کہا ہے کہ اگر ان کے اس اعتراض کو نہ سنا گیا تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں قائم سات رکنی بینچ بارہ مئی کو شہر میں ہونے والے تشدد کے واقعات کے متعلق آئینی درخواستوں اور ہائی کورٹ کے رجسٹرار کے ریفرنس کی روزانہ سماعت کر رہا ہے۔ جمعہ کو سماعت کے دوران ان درخواستوں میں جوابدہ بنائے گئے مختلف صوبائی حکام کے وکیل راجہ قریشی نے کہا کہ بینچ میں شامل چار ججوں کی شکایت پر رجسٹرار نے ریفرنس تیار کیا تھا لہذا یہ بینچ اس معاملے کی سماعت نہیں کر سکتی۔ عدالت کے استفسار پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت سپریم کورٹ یا کسی دوسرے صوبے کی عدالت کو منتقل کی جائے تاہم عدالت نے ان کے اس اعتراض کو مسترد کردیا اور کہا کہ ججز شکایت کنندہ نہیں بلکہ اس دن ہونے والے واقعات کے عینی شاہدین ہیں اور اس دن عدالت کے تمام ججز، عملے، وکلاء اور شہریوں نے کرب جھیلا تھا۔ راجہ قریشی نے کہا کہ اگر ان کے اعتراض کو نہ سنا گیا تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ عدالت نے کہا کہ اگر وہ سپریم کورٹ جانا چاہیں تو جاسکتے ہیں۔ راجہ قریشی نے کہا کہ بارہ مئی کو کراچی میں خون خرابے اور دہشتگردی کے خطرے کی بناء پر صوبائی سیکریٹری داخلہ نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو خط لکھ کر چیف جسٹس کا دورہ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا تھا اور ایم کیو ایم یعنی متحدہ قومی موومنٹ کو بھی اس دن ریلی نہ نکالنے کا مشورہ دیا تھا۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے ان سے کہا کہ کیا ایم کیو ایم کو بھی اس سلسلے میں کوئی خط لکھا گیا تھا۔ اس پر راجہ قریشی نے کہا کہ سیکریٹری داخلہ نے ایم کیو ایم سمیت دوسری مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کو تحریری نہیں زبانی طور پر ریلی نہ نکالنے کا مشورہ دیا تھا۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ صرف چیف جسٹس کو ہی تحریری طور پر یہ مشورہ کیوں دیا گیا، انہیں بھی زبانی طور پر کہا جاسکتا تھا۔ راجہ قریشی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احترام کی بناء پر رجسٹرار کو خط لکھا گیا تھا۔ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سٹی ناظم نے ایم کیو ایم کو بارہ مئی کو ریلی نکالنے کا اجازت نامہ دیا تھا اور ضروری حفاظتی انتظامات کے لیے 14 متعلقہ افسران کو بھیجا تھا۔ اس پر جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا جب اس دن خون خرابے اور تصادم کا خطرہ تھا تو ضلع ناظم کو اس کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔ اس پر سٹی گورنمنٹ کے وکیل نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ ’جب چیف جسٹس کے دورہ کراچی کے پروگرام کا اعلان کیا گیا تو اس کے جواب میں ایم کیو ایم نے ریلی نکالنے کا اعلان کردیا اور ضلع ناظم نے اس کی اجازت بھی دے دی جبکہ آپ کہہ رہے ہیں کہ اس دن خون خرابے کا خطرہ تھا اور ایم کیو ایم کو اس سے آگاہ بھی کردیا گیا تھا‘۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ ایم کیو ایم کو جو اجازت نامہ دیا گیا ہے اس میں لکھا ہے کہ وہ پورے شہر کراچی میں ریلی نکالے گی۔ ریلی تو کسی ایک علاقے میں ہوتی ہے۔ انہوں نے راجہ قریشی سے کہا کہ اس سے پہلے ایسی کوئی مثال ملتی ہے کہ حکومت نے کسی جماعت کو پورے شہر میں ریلی نکالنے کی اجازت دی ہو؟ راجہ قریشی نے کہا کہ انہیں اس بارے میں معلوم نہیں۔
عدالت کے استفسار پر راجہ قریشی نے بتایا کہ رواں مالی سال کے لیے رینجرز کا بجٹ اکتالیس کروڑ دس لاکھ روپے مختص کیا گیا ہے جب کہ گزشتہ مالی سال کے دوران رینجرز کا بجٹ 35 کروڑ تیس لاکھ روپے تھا۔ انہوں نے بارہ مئی کے واقعات پر انسانی حقوق کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ اخباری رپورٹس پر مبنی ہے۔ عدالت میں یہ معاملہ بھی زیر بحث آیا کہ بارہ مئی کو پولیس اہلکار نہتے کیوں تھے۔ راجہ قریشی نے اس سلسلے میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ اقوام متحدہ کی ایک دستاویز کے تحت جس پر پاکستان نے دستخط کیے ہیں کسی بھی ریلی کے موقع پر پولیس والوں کو ہتھیار دیتے ہوئے احتیاط سے کام لیا جاتا ہے تاکہ ہتھیار کا غلط استعمال نہ ہوں۔ عدالت نے ان سے کہا کہ کیا یہ احتیاط ہر ریلی میں اختیار کی جاتی ہے؟ اس پر راجہ قریشی نے کہا کہ حکومت کی کوشش یہی ہوتی ہے کسی بھی ریلی میں پولیس اہلکاروں کو کم سے کم ہتھیار دیے جائیں۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ چیف جسٹس کے دورے کے سلسلے میں اور بارہ مئی کے واقعات پر وفاقی سطح پر ہونے والے اجلاسوں کی تفصیلات متعلقہ افسران کے حلف ناموں کے ساتھ عدالت میں داخل کریں۔ سات رکنی بینچ نے بارہ مئی کو ہائی کورٹ کے اطراف نصب کیے گئے سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی پیش کرنے کا حکم دیا اور سماعت پیر 10 ستمبر تک ملتوی کردی۔ |
اسی بارے میں 12 مئی فسادات، حکومتوں کو نوٹس08 August, 2007 | پاکستان ’جو ہوا اسکی تہہ تک جاناچاہتے ہیں‘28 May, 2007 | پاکستان ’بارہ مئی، حلف نامے داخل کرائیں‘06 September, 2007 | پاکستان سندھ: حکومتی مشیروں پر اعتراض03 September, 2007 | پاکستان 12 مئی:حکومت نے جواب دے دیے27 August, 2007 | پاکستان بارہ مئی واقعے کے پٹیشنر لاپتہ06 June, 2007 | پاکستان بارہ مئی کی تحقیقات نہیں ہوں گی25 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||