سندھ: حکومتی مشیروں پر اعتراض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے پیر کے روز بارہ مئی کے واقعات کے متعلق عدالتی رجسٹرار کے ریفرنس اور آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران وزیر اعلٰی سندھ کے مشیران کی قانونی حیثیت معلوم کرنے کے لئے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ طلب کر لیا ہے۔ ہائی کورٹ کی سات رکنی بینچ نے کہا ہے کہ آئندہ سماعت سے وہ ان درخواستوں کی روزانہ کی بنیاد پر شنوائی کرے گی تاکہ انہیں ایک ہفتے میں نمٹایا جاسکے۔ سماعت کے دوران عدالت کے معاون قانون دان قاضی فیض عیسٰی نے وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے امور داخلہ کے اختیارات پر اعتراضات اٹھا ئے اور کہا کہ مشیر داخلہ کا عہدہ قانونی حیثیت کا حامل نہیں ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ گورنر اور وزیر اعلیٰ کو مشیر مقرر کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔ سات رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے انہیں ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت کے موقع پر لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی نقل عدالت کو فراہم کریں۔ واضح رہے کہ سندھ میں وزیر اعلٰی کے کئی مشیر ہیں جن میں مشیر داخلہ وسیم اختر بھی شامل ہیں۔ یہ مشیر منتخب ارکانِ اسمبلی نہیں ہیں تاہم وہ مختلف وزارتیں سنبھالے ہوئے ہیں۔ خالد انور نے حکام کے ان جواب پر تفصیلی بحث کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو بارہ مئی سے دو دن قبل معلوم تھا کہ امن و امان کی صورت حال خراب ہوسکتی ہے اور اس کے باوجود حکومت نے ایک سیاسی جماعت کو ریلی نکالنے کی اجازت دی اور یہ عذر بھی پیش کیا کہ یہ اجازت شہری حکومت نے دی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس اور صوبائی حکومت کے اعلیٰ حکام بارہ مئی سے قبل مسلسل میٹنگ کرتے رہے لیکن میٹنگ کے منٹ تیار نہیں کیے گئے جس سے ان کی نیک نیتی پر شبہ ہوتا ہے۔ جوابات میں بتایا گیا ہے کہ بارہ مئی والے دن 234 افراد کو گولی لگی جن میں سے چھیالیس افراد کی موت واقع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی قابل افسوس ہے کہ لوگوں کا قتلِ عام ہوتا رہا اور حکومت ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھی رہی۔ ان واقعات میں تینتالیس ایف آئی آر کاٹی گئی ہیں جبکہ ستاون افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ خالد انور نے عدالت کو بتایا کہ گرومندر کو حساس علاقہ ظاہر کیا گیا جہاں ’آج‘ ٹی وی کا دفتر واقع ہے وہاں پولیس اور رینجرز کو تعینات نہیں کیا گیا تھا اور آج ٹی وی کے دفتر پر مسلسل فائرنگ ہوتی رہی لیکن اس واقعے میں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس عوام کا اعتماد کھو چکی ہے، اس لئے انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سندھ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشنز کے نمائندوں کو بارہ مئی کے حوالے سے پولیس تفتیش میں شامل کرنے کا حکم جاری کرے تاکہ تفتیش کو شفاف بنایا جاسکے۔ عدالت کے دوسرے معاون وکیل قاضی فیض عیسٰی کی بحث ابھی جاری تھی کہ عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین احمد حیات کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو اگلی سماعت کے دوران 13 مئی کے روز کے پی ٹی کو واپس ہونے والے کنٹینرز کی تفصیلات مہیّا کریں۔ عدالت نے معاون وکلاء کو ہدایت کی کہ اگلی سماعت پر وہ بارہ مئی سے دو ہفتے تک ہونے والی پریس کانفرنسوں کے اخباری تراشے عدالت میں پیش کریں جبکہ جیو، اے آر وائی اور آج ٹی وی کو ہدایت کی کہ وہ بارہ مئی کے بعد دو ہفتے تک ان واقعات سے متعلق نشر ہونے والی پریس کانفرنس اور ٹاک شوز کی ریکارڈنگ عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے جمعرات سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے بتایا کہ عدالت ان آئینی درخواستوں کو ایک ہفتہ میں نمٹانا چاہتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||