BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 August, 2007, 09:03 GMT 14:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
12 مئی:حکومت نے جواب دے دیے

پرتشدد واقعات سے متعلق درخواستوں کی سماعت 3 ستمبر تک ملتوی کردی
سندھ ہائی کورٹ کراچی میں پیر کو بارہ مئی کے پرتشدد واقعات کے متعلق عدالت کے رجسٹرار کے ریفرنس اور آئینی درخواستوں کی سماعت کے موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومت کے عہدیداروں نے جواب داخل کرایا ہے۔

حکومتی عہدیداروں نے بارہ مئی کو کنٹینرز اور دوسری رکاوٹوں سے سڑکوں کی ناکہ بندی اور پولیس کے غیرمسلح ہونے سے یا تو لاعلمی ظاہر کی ہے یا لاتعلقی۔

عدالت نے درخواستوں کی سماعت کے سلسلے میں قاضی فیض عیسیٰ اور خالد انور کو معاون مقرر کر رکھا ہے، جنہوں نے حکام سے جواب طلبی کے لئے تفصیلی پینتیس نکاتی سوالنامہ تیار کیا تھا اور عدالت نےگزشتہ سماعت پر حکام کو اس سوالنامے کا تفصیلی جواب داخل کرنے کا حکم دیا تھا۔

پیر کو جسٹس سرمد جلال عثمانی کی سربراہی میں قائم سندھ ہائی کورٹ کے سات رکنی بینچ نے عدالت کے رجسٹرار اور آئینی درخواستوں کی سماعت شروع کی تو حکمران جماعت متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے شپنگ اور پورٹس کے وفاقی وزیر بابر غوری، وزیر اعلی سندھ کے مشیر برائے داخلہ امور وسیم اختر کے علاوہ چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ وائس ایڈمرل احمد حیات اور دیگر افسران پیش ہوئے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے ان کے وکیل سینیٹر وسیم سجاد پیش ہوئے اور بارہ مئی کو ہونے والے واقعات کے متعلق تیار کردہ سوالنامہ کا جواب داخل کیا۔

وزیر اعلیٰ کا مؤقف ہے کہ بارہ مئی کو پولیس کو ہتھیار نہ دینے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا تھا۔ صوبے میں سکیورٹی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر کے بارے میں وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کا نظام ان کے ماتحت ہے اور وہ چیف سیکرٹری اور محکمہ داخلہ کے ذریعے اس نظام کی سربراہی کرتے ہیں۔

ہتھیار نہ دینے کاحکم نہیں دیا
 بارہ مئی کو پولیس کو ہتھیار نہ دینے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا تھا۔ صوبے میں سکیورٹی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر کے بارے میں وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کا نظام ان کے ماتحت ہے اور وہ چیف سیکرٹری اور محکمہ داخلہ کے ذریعے اس نظام کی سربراہی کرتے ہیں
وزیر اعلیٰ سندھ

صوبے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سندھ میں 3 قانون نافذ کرنے والے ادارے کام کر رہے ہیں، جن میں پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری شامل ہے جبکہ امن عامہ، داخلہ سکیورٹی اور جرائم کی روک تھام کے امور محکمہ داخلہ کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

مشیر برائے امور داخلہ وسیم اختر نے بتایا کہ بارہ مئی کے دن 142 افراد کو گولیاں لگیں جن میں 36 افراد ہلاک ہوئے جبکہ تشدد کے ان واقعات کی 43 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 57 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران وسیم سجاد نے کہا کہ انہیں اپنے مؤکل کے اس انٹرویو کی نقل فراہم نہیں کی گئی ہے جس میں ان پر ججوں کے بارے میں توہین آمیز باتیں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ انہوں نے اس درخواست پر جواب داخل کرنے کے لئے آئندہ سماعت تک وقت دینے کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

سات رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کی نمائندگی کرنے والے ڈپٹی اٹارنی جنرل رضوان احمد کو وفاقی حکومت اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز کی جانب سے آئندہ سماعت پر سوالنامے کا جواب داخل کرنے کا حکم دیا اور درخواستوں کی سماعت 3 ستمبر تک ملتوی کردی۔

کراچی ٹریفک جام، سپریم کورٹ ازخود نوٹس:

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس بھگوان داس اور جسٹس نواز عباسی پر مشتمل بینچ نے پیر کو شہر میں ٹریفک جام کے مسائل پر از خود نوٹس کی سماعت کی جس کے دوران ڈی آئی جی ٹریفک پولیس کراچی اور سیکرٹری ٹرانسپورٹ سندھ پیش ہوئے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل قاضی خالد نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ٹریفک جام کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس پر دو رکنی بینچ نے انہیں ہدایت کی کہ زبانی جمع خرچ کی بجائے عوام کو ٹریفک جام کے مسائل سے چھٹکارا دلانے کے عملی اقدامات کئے جائیں۔ عدالت نے سماعت تین ستمبر تک ملتوی کردی ہے۔

کراچی میں تشدد
امن خراب نہیں ہونے دیں گے : اسفندیار ولی
دو ہاتھیوں کی لڑائی
چیف جسٹس کی آمد پر عسکری طاقت کا مظاہرہ
کراچیکراچی میں قتل
شہر میں تشدد: خصوصی ضمیمہ
کراچیکراچی تشدد
کون معصوم ہے اور کون قصور وار
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
اسی بارے میں
12 مئی: حکومت کی جواب طلبی
20 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد