BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 19 October, 2003, 17:53 GMT 22:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قانون کی بالادستی یا بالادستوں کا قانون؟

 کانسٹیبل نذیر ڈوگر
بالادستوں کے قانون سے مایوس کانسٹیبل نذیر ڈوگر

پنجاب پولیس کے کانسٹیبل نذیر ڈوگر فوج کے محکمۂ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ( آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل شوکت سلطان کے بیان کے بعد محکمۂ پولیس میں اپنے مستقبل سے خاصے مایوس ہوگئے ہیں۔

انہوں نے اپیل کی ہے کہ اگر ان کی نوکری ختم ہوجائے تو ان کے لیے کسی دوسری ملازمت کا بندوبست کر دیا جاۓ۔

نذیر ڈوگر پنجاب کے چھوٹے سے شہر منڈی ڈھاباں سنگھ کے رہائشی ہیں اور پندرہ مارچ انیس سو پچانوے کو وہ اور ان کے ایک چچا زاد بھائی اکٹھے پولیس میں بھرتی ہوئے۔

پانچ فٹ گیارہ انچ قد اور مضبوط جسامت کے حامل جواں سال نذیر ڈوگر کہتے ہیں کہ ساڑھے آٹھ نو سالہ ملازمت کے دوران انہوں نے بڑے نشیب و فراز دیکھے اور ہمیشہ دلیری اور ایمانداری سے فرائض انجام دیئے۔ ان کا کہنا ہے کہ کبھی صلہ نہ ملنے کی پرواہ نہیں کی۔

ہلکی داڑھی والے نذیر ڈوگر نے چند سال قبل لاہور کے تھانہ ہنجروال میں تعیناتی کے دوران ایک ایسے خطرناک مفرور اشتہاری ارشاد عرف چھبی کو اپنی جان پر کھیل کر گرفتار کیا جو پولیس ریکارڈ کے مطابق ایک ہی وارادت میں نو افراد کو قتل کر چکا تھا۔

اس کیس میں تھانیدار نے ان کی ترقی کے لیے تحریری سفارش بنا کر منظوری کے لیے بھجوائی لیکن وہ کہیں فائلوں میں ہی گم ہوگئی۔ نذیر ڈوگر کا خیال ہے کہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی کوئی سفارش نہیں۔

لاہور کے علاقے ٹھوکر نیاز بیگ میں ایک تنظیم کے خلاف ایک بڑی پولیس کارروائی کے دوران نذیر ڈوگر ایک ڈی ایس پی کو بچاتے ہوئے گولی لگنے سے زخمی بھی ہوچکے ہیں۔

ان کے افسران اس کے اس واقعہ کے بارے میں بتاتے ہیں لیکن وہ خود اس پر تبصرہ کرنے سے نہ صرف انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’میں تو ہر وقت ہی اپنے افسروں پر جان قربان کرنے پر تیار ہوتا ہوں آپ اس واقعہ کا ذکر نہ ہی کریں‘

کانسٹیبل نذیر ڈوگر نے بی بی سی کے بار بار اصرار کے باوجود یہی کہا ’یہ بات نہ ہی کریں یہ نہ پوچھیں کہ میں کس کو بچاتے ہوئے زخمی ہوا تھا۔‘

کانسٹیبل کے جسم پر اپنے افسرکی جان بچاتے ہوئے لگنے والے زخم تو بھر گئے ہیں لیکن موجودہ واقعہ میں اپنے افسروں کے رویہ سے اس کے دل پر جو زخم لگے ہیں وہ شائد کبھی بھر نہ پائیں گے۔

نذیر ڈوگر کہتے ہیں کہ ’وہ میری کوئی ذاتی لڑائی تو نہیں تھی میں تو اپنے افسروں کے حکم کی تعمیل کر رہا تھا افسوس تو اس بات کا ہے کہ جن افسروں کے حکم کی تعمیل کر رہا تھا انہوں نے مقدمہ درج کرنے، میری وردی اتروانے، مجھے ہتھکڑیاں لگوا کر میرے ساتھیوں کی موجودگی میں تھانے سے لے جاکر ایک فوجی افسروں کے دفتر کے سامنے کھڑا کرنے سے لیکر آج تک ایک بار بھی یہ نہیں پوچھا کہ ہوا کیا ہے؟ دلاسہ دینا تو بڑی دور کی بات ہے۔‘

نذیر ڈوگر کا سنیچر کی شب تک یہی خیال تھا کہ اس کے افسر اسے ضرور بچائیں گے لیکن اسی رات میجر جنرل شوکت سلطان کے بیان نے اس کے حوصلہ پست کر دیئے ہیں۔

نذیر ڈوگر نے کہا کہ رات میں نے بی بی سی ریڈیو پر خبریں سنیں فوج کی باتیں سنیں تو بڑی مایوسی ہوئی لیکن پھر فورا ہی میری آواز ریڈیو سے آئی تو کچھ حوصلہ ہوا شکر ہے میری بات سب تک پہنچ تو گئی۔

وہ اس بات پر مطمئن تھے کہ ان کے افسروں تک ان کی آواز ضرور پہنچی ہوگی لیکن ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افسران تو خود ہی زیر عتاب ہیں۔

انہوں نے اپیل کی ہے کہ اگر انہیں پولیس کی نوکری سے برطرف کردیا جائے تو انکے لیے اتنی رقم کی ملازمت ضرور ڈھونڈ دی جاۓ کہ وہ اور ان کے اہلخانہ فاقوں سے بچ جائیں۔

کانسٹیبل نذیر ڈوگر ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی تنخواہ چھپن سو پچیس روپے ہے۔

ان کا کہنا ہےکہ وہ دو خاندانوں کو پال رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے ’دو ہزار میں گاؤں اپنے بیوی بچوں کو ان کے اخراجات کے لیے بھیجتا ہوں جبکہ دوہزار والدین کو بھجوا دیتا ہوں۔ اور باقی سولہ سو پچیس روپے ایک مہینہ کے دوران اپنی ذات پر خرچ کرتا ہوں۔‘

اس کی تفصیل وہ یوں بتاتےہیں کہ وہ روز تیس روپے خرچ کرتےہیں انہیں محکمہ کی جانب سے رعایتی نرخوں پر کھانا ملتاہے سات روپے میں ایک وقت کا کھانا اور ناشتہ سمیت تین وقت کا کھانا اکیس روپے کا۔ جبکہ باقی سات روپوں میں دن بھر کے باقی سارے اخراجات کرتے ہیں اور اگر کبھی پانچ روپے میں ایک کپ چاۓ پی لیں تو پھر باقی دن بھر کے لیے دو روپے ہی رہ جاتے ہیں۔

انہوں نے حلف اٹھا کر کہا کہ انہوں نے کبھی رشوت نہیں لی ہمیشہ رزق حلال پر قناعت کی۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک معمولی کانسٹیبل کو رشوت مل بھی نہیں سکتی اسکے پاس کوئی اختیار تو ہوتا نہیں اسے تو عام ریڑھی والا اپنی ریڑھی کے نزدیک کھڑا بھی نہیں ہونے دیتا۔ تھانیداروں کی بات اور ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے اخبارات میں لاہور کی ضلعی اسمبلی کی طرف سے تنخواہ کی ادائیگی کی پیشکش کی خبر بھی پڑھی ہے اور مختلف تنظیموں کی طرف سے شیلڈز اور دیگر اعزازات دیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں لیکن ایک تو ابتک ان سے کسی نے رابطہ نہیں کیا اور دوسرے یہ شیلڈ اور اعزازات اسی وقت اچھے لگتے ہیں جب بچوں کے منہ سے روٹی چھن جانے کا خطرہ نہ ہو۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد