BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 September, 2007, 06:50 GMT 11:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس(ر) وجیہہ صدارت کےامیدوار

جسٹس(ر) وجیہہ الدین
جسٹس (ر) وجیہہ اگر ایل ایف او کے تحت حلف اٹھا لیتے تو آج چیف جسٹس ہوتے:منیر ملک
جسٹس (ر) طارق محمود نے کہا ہے کہ وکلاء برادری نے سپریم کورٹ کے سابق جج اور سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس جسٹس (ر) وجیہہ الدین کو جنرل پرویز مشرف کے مقابلے میں صدر کے عہدے کے لیے امیدوار نامزد کیا ہے۔

پاکستان بار کونسل کے صدر منیر اے ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وکلا نے وجیہہ الدین احمد کو بہت سوچ سمجھ کر امیدوار نامزد کیا ہے ۔


انہوں نے کہا کہ جسٹس وجیہہ الدین احمد کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ پی سی او کے تحت حلف لے لیتے تو آج چیف جسٹس ہوتے۔انہوں نے کہا کہ وہ جسٹس وجیہ الدین کے بہت شکرگزار ہیں کہ انہوں نے اس نامزدگی کے لیے رضامندی ظاہر کی۔

ایک سوال کے جواب میں منیر اے ملک نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ننانوے فیصد وکلاء جسٹس وجیہہ الدین احمد کی حمایت کریں گے۔ ’کسی کے پاس کوئی اور چوائس نہیں ہے۔‘

سیاسی جماعتوں کی طرف سے حمایت کے بارے کے بارے میں منیر اے ملک نے کہا کہ وہ صرف ایک اخلاقی اصول کے لیے لڑ رہے ہیں ہوسکتا ہے کہ اس کے لیے انہیں دوبارہ سپریم کورٹ جانا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ مطلوبہ ووٹوں اور دیگر جماعتوں کی حمایت کے حوالے سے وہ کسی خوش فہمی میں نہیں یہ صرف ایک عملی قدم ہے جو اخلاقی بنیادوں پر اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ اپنے امیدوار کے کاغذات نامزدگی داخل کروائیں گے تو اُس وقت وہ یہ نکتہ اُٹھائیں گے کہ صدر جنرل پرویز مشرف دوری میں الیکشن نہیں لڑسکتے اور آئین کی دفعہ ترسٹھ کے تحت وہ نااہل ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ جسٹس وجیہہ الدین ان چھے ججوں میں شامل تھے جنہوں نے سنہ دو ہزار ایک میں ایل ایف او کے تحت حلف لینے سے انکار کردیا تھا۔ دیگر ججوں میں سابق چیف جسٹس سید الزمان صدیقی، ناصر اسلم زاہد ، مامون قاضی اور خلیل الرحمن شامل ہیں۔

پاکستان میں صدر کے انتخاب کے لیے چھ اکتوبر کی تاریخ کا اعلان جا چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ بحث بھی جاری ہے کہ آیا ایک اسمبلی جس کی اپنی مدت ختم ہونے والی ہے، تحلیل ہونے سے پہلے آئندہ پانچ سال کے لیے صدر منتخب کر سکتی۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ اختیار نئی آنے والی اسمبلی ہونا چاہیے۔

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے نئے اتحاد ’اے پی ڈی ایم‘ کے رہنما اعلان کر چکے ہیں کہ انتیس ستمبر کو سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں ان کے تمام ارکان مستعفی ہوجائیں گے۔

وکلا کے منتخب نمائندے بھی تمام ارکان اسمبلی سے فوری طور پر استعفیْ دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کا موجودہ اسمبلیوں سے انتخاب غیر آئینی ہوگا۔ یہ مطالبہ دو روز قبل لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام آل پاکستان وکلا نمائندہ کانفرنس کے اختتام پر منظور کردہ اعلامیہ میں کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
صدارتی انتخاب چھ اکتوبر کو
20 September, 2007 | پاکستان
پرانی اسمبلی سے نیا صدر
22 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد