BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 September, 2007, 06:36 GMT 11:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدارتی انتخاب چھ اکتوبر کو

پہلا موقع ہوگا کہ ایک ہی پارلیمان دوسری مرتبہ صدارتی انتخاب میں حصہ لے گی
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صدارتی انتخاب کے لیے شیڈول جاری کرتے ہوئے ووٹنگ کے لیے چھ اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ ایک ہی پارلیمان دوسری مرتبہ صدارتی انتخاب میں حصہ لے گی۔ حزب مخالف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جس اسمبلی کی اپنی مدت پانچ برس ہو وہ صدر کو دس برس کے لیے کیسے منتخب کرسکتی ہے۔

الیکشن کمیشن کے سیکرٹری کنور دلشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ کاغذات نامزدگی ستائیس ستمبر کو وصول کیے جائیں گے اور یکم اکتوبر کو امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن کے ایک نوٹیفیکشن کے مطابق چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق سینیٹ اور قومی اسمبلی میں صدارتی انتخاب کے لیے ریٹرنگ آفیسر جبکہ صوبائی اسمبلیوں میں متعلقہ صوبے کی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس پریزائیڈنگ افسر کا فریضہ سرانجام دینگے۔

آئین کے مطابق صدر کے انتخاب میں پارلیمان کے دونوں ایوان یعنی سینیٹ و قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل گیارہ سو ستر ارکان ووٹ ڈالنے کے مجاز ہیں۔

حزب اختلاف کے استعفے؟
 پیپلز پارٹی کے علاوہ باقی حزب مخالف کی تمام جماعتوں نے جنرل پرویز مشرف کو موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ صدر منتخب کرانے کی صورت میں مستعفی ہونے کا پہلے ہی اعلان کر رکھا ہے

سینیٹ کے ارکان کی تعداد ایک سو جبکہ قومی اسمبلی کی تین سو بیالیس ہے۔ پنجاب اسمبلی میں ارکان کی تعداد تین سو اکہتر، سندھ اسمبلی میں ایک سو اڑسٹھ، سرحد اسمبلی میں ایک سو چوبیس اور بلوچستان اسمبلی میں پینسٹھ ہے۔

موجودہ صورتحال میں صرف سرحد کی صوبائی اسمبلی ایسی ہے جہاں حکمران مسلم لیگ کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔ سرحد اسمبلی میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل یعنی ایم ایم اے کو اکثریت حاصل ہے۔

ایم ایم اے اور حکمران مسلم لیگ کا صوبہ سرحد اور بلوچستان میں اتحاد ہے اور ان کی مخلوط حکومت ہے۔

انتظار کرنا چاہیے تھا
 الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے فیصلے تک انتظار کرنا چاہیے تھا
راجہ ظفرالحق

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء رضا ربانی کا کہنا ہے کہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینا اسے قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہوگا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی بائیکاٹ، غیر حاضر رہنے اور مستعفی ہونے جیسے آپشنز کو مناسب سمجھتی ہے۔

مسلم لیگ (نواز) کے مرکزی رہنماء راجہ ظفر الحق کا کہنا ہے کہ وہ حزب مخالف کی دیگر جماعتوں سے رابطوں میں ہیں اور مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے گی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے فیصلے تک انتظار کرنا چاہیے تھا۔

چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سرکردہ رہنماء لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ جس روز جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی قبول ہوگئے اس روز آل پارٹیز ڈیمو کریٹک موومنٹ یعنی اے پی ڈی ایم کے ارکان اسمبلی مستعفی ہوجائیں گے۔

اخبارات کا عکسصدر کا تحریری بیان
وردی پر صدر کے بیان پر اخبارات کی سرخیاں
مشرفماہرین کی مختلف آرا
ماہرین قوانین پر مختلف آرا کا اظہار کرتے ہیں۔
فائل فوٹو صدر کا انتخاب
اخبارات کی سرخیاں
بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)تاریخ سازگھڑی مگر
پاکستان کے تاریخ ساز لمحوں میں کیا کیا ہوا؟
بےنظیر اور مشرف’آمروں کے ساتھ رقص‘
مشرف سے ڈیل یا شیر پر سواری، نتیجہ کیا ہوگا؟
مشرف پر سیاسی دباؤ
جنرل مشرف پر (ق) لیگ کے خدشات اور تحفظات
پرویز مشرف’آئے گا پھر دوبارہ‘
جنرل مشرف کی صدارتی مہم کا آغاز
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد