ایک بار پھر سے ڈیفائننگ مومنٹ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کل پاکستان میں انگریزی کی ایک اصطلاح ڈیفائننگ مومنٹ کا بڑا چرچہ ہے۔ اردو میں اس کا مطلب تاریخ ساز یا فیصلہ کن لمحہ بنتا ہے یعنی وہ گھڑی جس میں آنے والے وقتوں کے لیے قوم کی تقدیر طے ہوتی ہے۔ سنتے ہیں کہ آجکل پاکستان اپنی تاریخ کی ایسی ہی ایک ڈیفائننگ مومنٹ میں سے گزر رہا ہے۔ ایک عرصے سے فوجی حکمرانوں کو قانونی تحفظ دینے والی سپریم کورٹ اب فوجی حکمرانی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ ماضی کے برعکس اب فوج کی حکمرانی کو ہر محاذ پر پسپائی کا سامنا ہو گا اور وہ دن دور نہیں جب ملک میں جمہوریت کا بول بالا ہو گا۔ یہ کتنا خوش قسمت ملک ہے جس کی زندگی میں ہر چند سال بعد ایک ڈیفائننگ مومنٹ آ جاتی ہے۔ یعنی ہر سال اپنی تقدیر بدلنے کا ایک سنہری موقع۔ آئیے ایسے ہی کچھ لمحوں پر نظر ڈالیں۔ 10 اپریل 1986: بینظیر بھٹو جلاوطنی سے واپس آتی ہیں۔ نو سال سے ایک بے رحم فوجی حکومت کے عتاب کا نشانہ ان کی پارٹی بری طرح سے بکھر چکی ہے۔ اگر وہ اپنی پارٹی کو منظم کرنے پر توجہ دیتی ہیں تو پاکستان کو ایک مضبوط نظریاتی سیاسی جماعت میسر آسکتی ہے۔ لیکن بینظیر بھٹو کی نظر صرف اور صرف ایوان اقتدار پر ہے۔ سیاسی طاقت کے تعاقب میں وہ یوں کھو جاتی ہیں کہ ان کی پارٹی آج ان کی اس واپسی کے اکیس سال بعد بھی انتشار کا شکار نظر آتی ہے۔
29 مئی 1988: جنرل ضیاالحق محمد خان جونیجو کی حکومت برخواست کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کی عوامی سیاست پر بدنام زمانہ آٹھویں آئینی ترمیم کا پہلا وار ہے۔ بینظیر بھٹو کو بہت سے بزرگ مبصرین اور تجزیہ کار مشورہ دیتے ہیں کہ وہ جونیجو حکومت کی برخواستگی کی مخالفت کریں کیونکہ ان کے ایسا کرنے سے ملک میں جمہوریت دشمن آٹھویں ترمیم کے خلاف سیاسی اتفاق رائے پیدا ہو گا اور مستقبل میں کوئی صدر اسے منتخب اسمبلیوں کے خلاف استعمال کرنے کی جرات نہیں کر سکے گا۔ اس طرح آٹھویں ترمیم آئین کا حصہ ہوتے ہوئے بھی غیر مؤثر ہو کر رہ جائے گی۔ لیکن بےنظیر بھٹو جونیجو حکومت کی برخواستگی کا خیر مقدم کرتی ہیں اور اپنی پارٹی کو نئے انتخابات کی تیاری کا حکم دیتی ہیں۔ اس کے بعد 1988 سے 1997 تک آٹھویں ترمیم چار بار استعمال ہوتی ہے اور منتخب اسمبلیاں ایک مذاق بن کر رہ جاتی ہیں۔ 17 فروری 1997: میاں نواز شریف آئین ساز مینڈیٹ کے ساتھ دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوتے ہیں۔ ان کو وہ تمام اختیارات ملتے ہیں جو ذوالفقار علی بھٹو کے بعد کسی سیاسی رہنما کو نصیب نہیں ہوئے۔ ان سے امید ہے کہ وہ اپنی نئی طاقت کا استعمال کر کے عوام کی حکمرانی میں حائل تمام رکاوٹیں دور کریں گے اور جنرل ضیاالحق کے دور میں آٹھویں ترمیم کے ذریعے قائم کی جانے والی اقتدار کی مثلث کو ہمیشہ کے لیے توڑ ڈالیں گے۔
نواز شریف آٹھویں ترمیم کا خاتمہ تو کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ایک اور ترمیم کے ذریعے ایک خود ساختہ نظام شریعت کے نفاذ اور اپنے امیرالمومنین بننے کا شوشہ بھی چھوڑ تے ہیں۔ ان کی حرکات جمہوریت کو مضبوط کرنے کی بجائے عوام میں یہ تاثر پیدا کرتی ہیں کہ سیاسی رہنما بھی فوجی حکمرانوں کی طرح صرف اور صرف اقتدار کی ہوس رکھتے ہیں اور انہیں ملک میں اداروں کی حکمرانی یا جمہوریت سے کوئی خاص غرض نہیں ہوتی۔ 28 مئی 1998: بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد پوری دنیا کی نظر پاکستان پر ہے جہاں جوابی دھماکوں کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف کو کئی خیر خواہوں کا مشورہ ہے کہ وہ جوابی دھماکے کرنے کی بجائے پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کریں جو ایٹمی ہتھیار رکھنے کے باوجود بھی اس انسانیت دشمن ٹیکنالوجی کے خلاف ہے۔ جوابی دھماکے نہ کرنے سے پاکستان دنیا میں وہ واحد ایٹمی طاقت بن کر ابھر سکتا ہے جو اپنی تمام تر قوت کے باوجود بھی دنیا بھر کے لیے امن کا سفیر ہے۔ لیکن نہ صرف کئی ایٹمی دھماکے کیے جاتے ہیں بلکہ غیر ملکی کرنسی کے بینک اکاؤنٹس پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ دنیا بھر سے پاکستان پر پابندیاں لگتی ہیں اور پاکستان کو ایک خطرناک حد تک غیر مستحکم ریاست قرار دے دیا جاتا ہے۔ 1 اپریل 2000: میاں نواز شریف کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں عمر قید کی سزا ہوتی ہے۔ حکومت اپیل کرتی ہے کہ عمر قید کو پھانسی میں بدلہ جائے۔ نواز شریف کے سیاسی مشیر انہیں ہمت اور عزم کے ساتھ اس مشکل وقت سے نبٹنے کی تلقین کرتے ہیں۔ انہیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ اگر وہ اس مصیبت کا بہادری سے مقابلہ کر لیں تو ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ان کا نام بھی پاکستان کے عوام کے دلوں پر نقش ہو جائے گا۔ لیکن نواز شریف راتوں رات سعودی عرب کے شاہی خاندان کا اثر رسوخ استعمال کر کے اپنے پورے خاندان کو پاکستان سے نکال لے جاتے ہیں اور اس کے عوض صدر مشرف کی حکومت سے کئی سال ملکی سیاست میں حصہ نہ لینے کا عہد کر جاتے ہیں۔
20 جولائی 2007: پاکستان کی سپریم کورٹ صدر مشرف کی جانب سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف دائر کردہ ریفرنس کو کالعدم قرار دے کر صدر مشرف کو ان کے دور کی سب سے بڑی سیاسی شکست سے دوچار کرتے ہیں۔ پاکستان میں مسلم لیگ نون اور پی پی پی کے رہنما اپنے اپنے لیڈروں سے التجا کرتے ہیں کہ وہ فوراً ملک واپس آ کر صدر مشرف کے لڑکھڑاتے اقتدار کو آخری دھکا دیں۔ اس طرح نہ صرف ملک کا منہ جمہوریت کی طرف واپس لوٹائیں بلکہ فوج کو ہمیشہ کے لیے سیاست سے نکال باہر کریں۔ لیکن نواز شریف واپسی کا فیصلہ کرنے میں کئی مہینے لگا دیتے ہیں جبکہ بینظیر بھٹو اپنی واپسی کی جو تاریخ طے کرتی ہیں وہ صدر مشرف کے دوبارہ انتخاب کی ممکنہ تاریخوں سے بھی بعد کی ہے۔ یہ وہ چند ڈیفائننگ مومنٹس یا فیصلہ ساز گھڑیاں تھیں جو ماضی قریب میں موقع پرست سیاست کے سامنے ڈھیر ہوئیں۔ کچھ سیاسی رہنماؤں کی کمزوریوں کی نظر ہوئیں، کچھ عدالتوں کے ہاتھوں غرق ہوئیں اور کچھ عوام کی ذہنی کنفیوژن کا شکار۔ اب اگر پھر سے ویسی ہی ایک گھڑی پاکستانیوں کے سامنے ہے تو اس سے کوئی کیا امید رکھے؟ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||