BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 14 September, 2007, 15:51 GMT 20:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر کی واپسی: مفاہمت کی بنیاد

News image
اگر ڈیل کے بغیر آنا ہوتا
کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ’بینظیر بھٹو نے درپردہ کچھ نہ کچھ انتظام کیا ہوگا کیونکہ اگر ڈیل کے بغیر انہیں آنا ہوتا تو وہ کافی پہلے آجاتیں‘۔
تجزیہ کار

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے خود ساختہ جلاوطنی کے تقریباً پونے آٹھ برس بعد اٹھارہ اکتوبر کو کراچی پہنچنے کا اعلان کیا ہے۔

ان کے اس اعلان سے پہلے یہ خبریں بھی آتی رہیں کہ ان کی جنرل مشرف سے ڈیل ہونے والی ہے، ہو رہی ہے، کھٹائی میں پڑ چکی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن تا حال تو پیپلز پارٹی ڈیل سے انکار کر رہی ہے اگرچہ کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ’بینظیر بھٹو نے درپردہ کچھ نہ کچھ انتظام کیا ہوگا کیونکہ اگر ڈیل کے بغیر انہیں آنا ہوتا تو وہ کافی پہلے آجاتیں‘۔

اس بارے میں انگریزی روزنامہ دی نیشن کے ایڈیٹر اور تجزیہ کار عارف نظامی سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ ’فی الحال لگتا ہے کہ ڈیل آدھی ہے اور بینظیر بھٹو نے اپنے آپشنز کھلے رکھے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اِس وقت یہ مفاہمت ہوسکتی ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف خود کو موجودہ اسمبلیوں سے منتخب کروائیں اور پیپلز پارٹی خاموش رہے اور بینظیر بھٹو واپس آجائیں۔

ان کے مطابق ’اس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ کا ہے، اصل لڑائی بھی وہاں ہونی ہے، نومبر میں صورتحال واضح ہوگی اور وہ اس میں حالات کے مطابق فیصلہ کریں گی‘۔

عارف نظامی کا موقف اپنی جگہ لیکن اگر دیکھا جائے تو بینظیر بھٹو کی جانب سے پاکستان آنے کا فیصلہ اور کابینہ کی جانب سے موجودہ اسمبلیوں سے جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب کرانے کے اعلان کی کڑیاں بھی مل رہی ہیں اور فریقین میں ہم خیالی کے شبہے کو، محدود پیمانے پر ہی سہی، تقویت دیتی ہیں۔

اس بارے میں بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں عدلیہ اور میڈیا کی آزادی، صدر جنرل پرویز مشرف کی مقبولیت میں کمی، حکمران جماعت میں اختلافات اور امریکی خواہشات کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال بھی بینظیر بھٹو کی واپسی کا سبب ہوسکتی ہے۔

News image
دونوں کا ساتھ چلنا مشکل ہوگا
 ڈیل وغیرہ ہوئی بھی تو امریکہ کی خواہش پر ہوگی اور اس صورت میں بھی دونوں کا ساتھ چلنا مشکل ہوگا کیونکہ صدر جنرل پرویز مشرف کُلی اختیارات کے استعمال کے عادی ہوچکے ہیں جب کہ بینظیر شوکت عزیز بننا پسند نہیں کریں گی

کالم نگار حسن نثار کہتے ہیں کہ ’بینظیر بھٹو اور صدر مشرف میں مفاہمت ’سلیپنگ وِد دی اینمی‘ کے مترادف ہوگی‘۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کوئی ڈیل وغیرہ ہوئی بھی تو امریکہ کی خواہش پر ہوگی اور اس صورت میں بھی دونوں کا ساتھ چلنا مشکل ہوگا۔ ’صدر جنرل پرویز مشرف کُلی اختیارات کے استعمال کے عادی ہوچکے ہیں جب کہ بینظیر شوکت عزیز بننا پسند نہیں کریں گی کیونکہ وہ پاکستان کی بڑی لیڈر ہیں اور خاندانی سیاستدان ہیں‘۔

حسن نثار کا کہنا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی حالت اب اس ضعیف آدمی کی سی ہو گئی ہے جسے لاٹھی کے سہارے چلنا پڑتا ہے، ایسے میں اگر بینظیر بھٹو ڈیل کر بھی لیں تو بھی صدر جنرل پرویز مشرف پہلے کی طرح طاقتور صدر نہیں ہوں گے۔

صدر جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کے شراکت اقتدار کے بارے میں عارف نظامی کا نکتہ نظر بھی حسن نثار سے ملتا جلتا ہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’دونوں چھ ماہ بھی اکٹھے نہیں چل پائیں گے اور اگر چلے بھی، تو وہ، نہ تو وزیرستان اور بلوچستان کے حالات ٹھیک کرسکتے ہیں اور نہ ہی فوج پر حملے روک سکتے ہیں کیونکہ دونوں کو لوگ امریکہ کی بی ٹیم سمجھتے ہیں۔

بینظیر بھٹو اور صدر جنرل پرویز مشرف میں مفاہمت کے بظاہر اعتزاز احسن سمیت کچھ لوگ مخالف ہیں اور ایک تاثر یہ بھی ہے کہ شاید یہ گروپ نئی پارٹی کی صورت میں سامنے آئے لیکن حسن نثار اس بارے میں کہتے ہیں کہ ڈیل سے اگر پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں کوئی کمی ہوئی تو بھی پارٹی کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا۔

’بینظیر کچھ بھی کریں پیپلز پارٹی والے مانیں گے۔ یہ ریموٹ سے چلنے والے کھلونے ہیں جب باہر ہوتے ہیں تو باتیں کرتے ہیں بینظیر کے سامنے جاتے ہیں تو بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔ باقی اعتزاز احسن جیسا ایک آدھا بندا اِدھر اُدھر ہوسکتا ہے لیکن پارٹی نہیں ٹوٹے گی‘۔

صدر جنرل پرویز مشرف کے نمائندے ویسے تو پیپلز پارٹی سے سن دو ہزار دو میں عام انتخابات کے بعد سے رابطے میں رہے ہیں اور ہمیشہ ڈیل ہوتے ہوتے رہ گئی ۔ لیکن اس دوران حالات بھی کافی بدل گئے ہیں۔

News image
مفاہمت کی بنیاد
 فریقین نے سمجھوتا ہونے کا اعلان تو نہیں کیا لیکن کچھ سیاسی مبصرین بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کو ان کی صدر جنرل پرویز مشرف سے مفاہمت کی بنیاد قرار دے رہے ہیں

امریکی خواہشات یا ملکی حالات کے پیش نظر صدر جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کا ایک دوسرے کی ضروریات بننا اپنی جگہ لیکن موجودہ صورتحال میں یہ ایک حقیقت ہے کہ پہلے صدر جنرل پرویز مشرف کی بارگیننگ پوزیشن مضبوط تھی اور اب بینظیر بھٹو کی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی پاکستان کی تمام حزب مخالف جماعتوں سے الگ تھلگ رہتے ہوئے بھی جنرل مشرف کی کمزوری ہے اور ان کی فرمائشوں کی طویل فہرست کو وہ قبول کر پاتے ہیں اور نہ یکسر مسترد۔

ابھی تک فریقین نے سمجھوتا ہونے کا اعلان تو نہیں کیا لیکن کچھ سیاسی مبصرین بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کو ان کی صدر جنرل پرویز مشرف سے مفاہمت کی بنیاد قرار دے رہے ہیں۔

بیگم صہبا مشرف اگر ایساہو تو کیا ہو
اگر مثلث صہبا، بینظیر اور کلثوم کا بنا تو۔۔۔
’تاریخی چیلنج‘
پاکستانی فوج مخالفین کی زد میں
بینظیربینظیر کی واپسی
بینظیر کی وطن واپسی کا اعلان اور عوام کا جوش
بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)بینظیر کی سیاست
اکیس سال کے سفر میں کیا کیاہوا؟
شہباز شریفقربانیوں کا سودا
کیا ڈیل 12 اکتوبر سے پہلے کا آئین بحال کریگی
عوامی ردعملبینظیر مشرف ڈیل
زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد