بینظیر کی واپسی: مفاہمت کی بنیاد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے خود ساختہ جلاوطنی کے تقریباً پونے آٹھ برس بعد اٹھارہ اکتوبر کو کراچی پہنچنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے اس اعلان سے پہلے یہ خبریں بھی آتی رہیں کہ ان کی جنرل مشرف سے ڈیل ہونے والی ہے، ہو رہی ہے، کھٹائی میں پڑ چکی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن تا حال تو پیپلز پارٹی ڈیل سے انکار کر رہی ہے اگرچہ کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ’بینظیر بھٹو نے درپردہ کچھ نہ کچھ انتظام کیا ہوگا کیونکہ اگر ڈیل کے بغیر انہیں آنا ہوتا تو وہ کافی پہلے آجاتیں‘۔ اس بارے میں انگریزی روزنامہ دی نیشن کے ایڈیٹر اور تجزیہ کار عارف نظامی سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ ’فی الحال لگتا ہے کہ ڈیل آدھی ہے اور بینظیر بھٹو نے اپنے آپشنز کھلے رکھے ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ اِس وقت یہ مفاہمت ہوسکتی ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف خود کو موجودہ اسمبلیوں سے منتخب کروائیں اور پیپلز پارٹی خاموش رہے اور بینظیر بھٹو واپس آجائیں۔ ان کے مطابق ’اس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ کا ہے، اصل لڑائی بھی وہاں ہونی ہے، نومبر میں صورتحال واضح ہوگی اور وہ اس میں حالات کے مطابق فیصلہ کریں گی‘۔ عارف نظامی کا موقف اپنی جگہ لیکن اگر دیکھا جائے تو بینظیر بھٹو کی جانب سے پاکستان آنے کا فیصلہ اور کابینہ کی جانب سے موجودہ اسمبلیوں سے جنرل پرویز مشرف کو دوبارہ صدر منتخب کرانے کے اعلان کی کڑیاں بھی مل رہی ہیں اور فریقین میں ہم خیالی کے شبہے کو، محدود پیمانے پر ہی سہی، تقویت دیتی ہیں۔ اس بارے میں بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں عدلیہ اور میڈیا کی آزادی، صدر جنرل پرویز مشرف کی مقبولیت میں کمی، حکمران جماعت میں اختلافات اور امریکی خواہشات کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال بھی بینظیر بھٹو کی واپسی کا سبب ہوسکتی ہے۔
کالم نگار حسن نثار کہتے ہیں کہ ’بینظیر بھٹو اور صدر مشرف میں مفاہمت ’سلیپنگ وِد دی اینمی‘ کے مترادف ہوگی‘۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کوئی ڈیل وغیرہ ہوئی بھی تو امریکہ کی خواہش پر ہوگی اور اس صورت میں بھی دونوں کا ساتھ چلنا مشکل ہوگا۔ ’صدر جنرل پرویز مشرف کُلی اختیارات کے استعمال کے عادی ہوچکے ہیں جب کہ بینظیر شوکت عزیز بننا پسند نہیں کریں گی کیونکہ وہ پاکستان کی بڑی لیڈر ہیں اور خاندانی سیاستدان ہیں‘۔ حسن نثار کا کہنا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی حالت اب اس ضعیف آدمی کی سی ہو گئی ہے جسے لاٹھی کے سہارے چلنا پڑتا ہے، ایسے میں اگر بینظیر بھٹو ڈیل کر بھی لیں تو بھی صدر جنرل پرویز مشرف پہلے کی طرح طاقتور صدر نہیں ہوں گے۔ صدر جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کے شراکت اقتدار کے بارے میں عارف نظامی کا نکتہ نظر بھی حسن نثار سے ملتا جلتا ہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’دونوں چھ ماہ بھی اکٹھے نہیں چل پائیں گے اور اگر چلے بھی، تو وہ، نہ تو وزیرستان اور بلوچستان کے حالات ٹھیک کرسکتے ہیں اور نہ ہی فوج پر حملے روک سکتے ہیں کیونکہ دونوں کو لوگ امریکہ کی بی ٹیم سمجھتے ہیں۔ بینظیر بھٹو اور صدر جنرل پرویز مشرف میں مفاہمت کے بظاہر اعتزاز احسن سمیت کچھ لوگ مخالف ہیں اور ایک تاثر یہ بھی ہے کہ شاید یہ گروپ نئی پارٹی کی صورت میں سامنے آئے لیکن حسن نثار اس بارے میں کہتے ہیں کہ ڈیل سے اگر پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں کوئی کمی ہوئی تو بھی پارٹی کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا۔ ’بینظیر کچھ بھی کریں پیپلز پارٹی والے مانیں گے۔ یہ ریموٹ سے چلنے والے کھلونے ہیں جب باہر ہوتے ہیں تو باتیں کرتے ہیں بینظیر کے سامنے جاتے ہیں تو بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔ باقی اعتزاز احسن جیسا ایک آدھا بندا اِدھر اُدھر ہوسکتا ہے لیکن پارٹی نہیں ٹوٹے گی‘۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے نمائندے ویسے تو پیپلز پارٹی سے سن دو ہزار دو میں عام انتخابات کے بعد سے رابطے میں رہے ہیں اور ہمیشہ ڈیل ہوتے ہوتے رہ گئی ۔ لیکن اس دوران حالات بھی کافی بدل گئے ہیں۔
امریکی خواہشات یا ملکی حالات کے پیش نظر صدر جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو کا ایک دوسرے کی ضروریات بننا اپنی جگہ لیکن موجودہ صورتحال میں یہ ایک حقیقت ہے کہ پہلے صدر جنرل پرویز مشرف کی بارگیننگ پوزیشن مضبوط تھی اور اب بینظیر بھٹو کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی پاکستان کی تمام حزب مخالف جماعتوں سے الگ تھلگ رہتے ہوئے بھی جنرل مشرف کی کمزوری ہے اور ان کی فرمائشوں کی طویل فہرست کو وہ قبول کر پاتے ہیں اور نہ یکسر مسترد۔ ابھی تک فریقین نے سمجھوتا ہونے کا اعلان تو نہیں کیا لیکن کچھ سیاسی مبصرین بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کو ان کی صدر جنرل پرویز مشرف سے مفاہمت کی بنیاد قرار دے رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||